Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@letandat1007:
Bi nè quý dị
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 01 July 2026 16:38:57 GMT
10138
1566
13
50
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.77MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.73MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
A Khờ Ôi :
cỡ vậy sao nỡ làm ẻm buồn
2026-08-06 09:49:27
0
DangVien99 :
cưng v😂😂
2026-07-02 00:33:46
2
Lucy Decor :
Hehe...chịu thay áo mớ
2026-08-03 16:38:20
0
Lương Hào :
Đã quá hà
2026-07-03 03:33:46
0
Phát Nguyễn :
To to đáng iu hihi🥰🥰
2026-07-01 22:34:33
1
Võ Kiệt :
Nhạc hay quá
2026-07-05 04:57:47
0
Zyy hay dỗi 💋 :
Dth zọ
2026-07-02 03:58:40
0
Văn Đỏ :
🥰
2026-07-03 05:06:44
0
Mr PHÁT (8) :
😁😁😁
2026-07-03 15:17:50
0
Nguyễn BN 🇻🇳 🌈 :
❤️❤️❤️
2026-07-02 00:13:11
0
1Perce 🦈 :
🥰🥰🥰
2026-07-08 21:53:11
0
To see more videos from user @letandat1007, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#Болливуд
في شغلة تعلمتها متأخر كلمات الخال رامز مسلسل ايزيل حكم عن الواقع المؤلم ستوريات حالات واتس اب حكم الواقع ايزيل و الخال رامز @꧁الخہال꧂
#одесса #одессапривоз #привоз #привозодесса
mitsuri ver || Her breathing style is so pretty || #mitsuri #mitsurikanroji #demonslayer #fyp #edit || ac : 猫奴三娘子 || 夏目学长 || @eai_make
Caption: ✍️ سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #viralvideo #goviral #foryou #100kviews #fyppppppppppppppppppppppp
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy