@letandat1007:

Bi nè quý dị
Bi nè quý dị
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 01 July 2026 16:38:57 GMT
10138
1566
13
50

Music

Download

Comments

khoi002_
A Khờ Ôi :
cỡ vậy sao nỡ làm ẻm buồn
2026-08-06 09:49:27
0
dangvien991
DangVien99 :
cưng v😂😂
2026-07-02 00:33:46
2
daohuutai1983
Lucy Decor :
Hehe...chịu thay áo mớ
2026-08-03 16:38:20
0
luong_hao123
Lương Hào :
Đã quá hà
2026-07-03 03:33:46
0
phman446
Phát Nguyễn :
To to đáng iu hihi🥰🥰
2026-07-01 22:34:33
1
o0_shin_0o
Võ Kiệt :
Nhạc hay quá
2026-07-05 04:57:47
0
zyzotri2k1
Zyy hay dỗi 💋 :
Dth zọ
2026-07-02 03:58:40
0
vankudo1
Văn Đỏ :
🥰
2026-07-03 05:06:44
0
mr_cafe09
Mr PHÁT (8) :
😁😁😁
2026-07-03 15:17:50
0
nguyennhi3539
Nguyễn BN 🇻🇳 🌈 :
❤️❤️❤️
2026-07-02 00:13:11
0
only1perce
1Perce 🦈 :
🥰🥰🥰
2026-07-08 21:53:11
0
To see more videos from user @letandat1007, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Caption: ✍️ سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں  سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے  سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی  سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف  سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں  یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے  ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں  سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں  سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی  سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے  سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں  سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی  جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں  سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں  مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں  پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے  کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں  وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں  کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں  بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا  سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں  سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت  مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں  رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں  چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں  کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے  کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں  کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی  اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں  اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں  فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #viralvideo #goviral #foryou #100kviews #fyppppppppppppppppppppppp
Caption: ✍️ سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #viralvideo #goviral #foryou #100kviews #fyppppppppppppppppppppppp

About