@la.seora.de.los.h: LUXSEREN -faja COLOMBIA MOLDEADORA#faja#moldeadora#viral_video #tiktokshop #paratiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii

🥞La señora de los Hotcackes🥞
🥞La señora de los Hotcackes🥞
Open In TikTok:
Region: MX
Thursday 02 July 2026 00:22:20 GMT
156
4
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @la.seora.de.los.h, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کامرہ: ریڑھی بانوں کا مستقل جگہ فراہم کرنے یا بازار میں کاروبار کی اجازت دینے کا مطالبہ کامرہ: ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کینٹ بورڈ کامرہ کی جانب سے این ایچ اے (NHA) کے ایریا، سول روڈ کے کنارے ریڑھیاں لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ریڑھی بانوں کا کہنا ہے کہ بازار کے ایک حصے میں ریڑھیاں لگانے کی اجازت ہے جبکہ دوسرے حصے میں پابندی عائد ہے، جس سے ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریڑھی بانوں کے نمائندے رشید لالا نے کہا کہ مسلسل کاروبار بند رہنے سے متعدد افراد منڈیوں کے قرض دار ہو چکے ہیں اور کئی گھروں میں معاشی مشکلات کے باعث فاقوں کی نوبت آ گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو ریڑھی بانوں کے لیے مستقل جگہ مختص کی جائے یا دیگر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کی طرح انہیں بھی بازار میں کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz، ڈی جی کینٹ، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر اٹک سے اپیل کی کہ اس مسئلے کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جائے تاکہ غریب محنت کشوں کا روزگار بحال ہو سکے۔ رشید لالا نے مزید کہا کہ Sheikh Aftab Ahmad، Malik Amin Aslam، میجر طاہر، جہانگیر خانزادہ، قاضی احمد اکبر اور چنگیز خان سمیت دیگر سیاسی و عوامی نمائندے اس معاملے پر اپنا کردار ادا کریں اور ریڑھی بانوں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ ریڑھی بانوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے اور عوامی نمائندے ان کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں باعزت روزگار کے لیے مناسب سہولت فراہم کریں گے۔
کامرہ: ریڑھی بانوں کا مستقل جگہ فراہم کرنے یا بازار میں کاروبار کی اجازت دینے کا مطالبہ کامرہ: ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کینٹ بورڈ کامرہ کی جانب سے این ایچ اے (NHA) کے ایریا، سول روڈ کے کنارے ریڑھیاں لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ریڑھی بانوں کا کہنا ہے کہ بازار کے ایک حصے میں ریڑھیاں لگانے کی اجازت ہے جبکہ دوسرے حصے میں پابندی عائد ہے، جس سے ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریڑھی بانوں کے نمائندے رشید لالا نے کہا کہ مسلسل کاروبار بند رہنے سے متعدد افراد منڈیوں کے قرض دار ہو چکے ہیں اور کئی گھروں میں معاشی مشکلات کے باعث فاقوں کی نوبت آ گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو ریڑھی بانوں کے لیے مستقل جگہ مختص کی جائے یا دیگر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کی طرح انہیں بھی بازار میں کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz، ڈی جی کینٹ، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر اٹک سے اپیل کی کہ اس مسئلے کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جائے تاکہ غریب محنت کشوں کا روزگار بحال ہو سکے۔ رشید لالا نے مزید کہا کہ Sheikh Aftab Ahmad، Malik Amin Aslam، میجر طاہر، جہانگیر خانزادہ، قاضی احمد اکبر اور چنگیز خان سمیت دیگر سیاسی و عوامی نمائندے اس معاملے پر اپنا کردار ادا کریں اور ریڑھی بانوں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ ریڑھی بانوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے اور عوامی نمائندے ان کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں باعزت روزگار کے لیے مناسب سہولت فراہم کریں گے۔

About