@dark_queen440: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سیدہ حضرت بی بی سودہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں مقیم تھے اور یہ انہی کی باری کا دن تھا۔ اس موقع پر سیدہ حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور سرورِ کائنات ﷺ کے لیے حریرہ (حلوہ) تیار کیا اور بڑے ذوق و شوق سے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے گھر لے آئیں۔ آپ ﷺ کے سامنے وہ حلوہ پیش کیا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا: “آپ بھی تناول فرمائیں۔” مگر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات کچھ گراں گزری کہ جب حضور اقدس ﷺ ان کے گھر پر اور ان کی باری کے دن تھے تو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حلوہ کیوں لایا؟ اس خیال کے باعث انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: “میں یہ حلوہ نہیں کھاؤں گی۔” اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسکراتے ہوئے کہا: “اگر آپ نے نہیں کھایا تو میں یہ حلوہ آپ کے منہ پر مل دوں گی۔” حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ انکار کیا: “میں نہیں کھاؤں گی۔” چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تھوڑا سا حلوہ اٹھایا اور مزاحیہ انداز میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے منہ پر لگا دیا۔ اب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے شکایتاً نبی کریم ﷺ کی طرف رخ کیا اور عرض کی: “یا رسول اللہ! انہوں نے میرے منہ پر حلوہ مل دیا ہے۔” نبی کریم ﷺ نے تبسم فرما کر جواب دیا: “اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرے تو تم بھی بدلے میں ویسا کر سکتے ہو۔” پس آپ ﷺ نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو ارشاد فرمایا: “اگر انہوں نے تمہارے منہ پر حلوہ لگایا ہے تو تم بھی ان کے چہرے پر حلوہ لگا دو۔” چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بھی پیالے سے تھوڑا سا حلوہ اٹھا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر لگا دیا۔ اس طرح دونوں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہما کے چہرے حلوے سے تر ہو گئے اور یہ منظر دیکھ کر نبی کریم ﷺ ہنسنے لگے۔ اتنے میں گلی سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز سنائی دی جو کسی کو پکار رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم دونوں اب جلدی سے اپنے چہرے دھو لو کہیں وہ اندر نہ آ جائیں۔” 😊😌😌 یوں یہ پیارا اور محبت بھرا منظر اختتام پذیر ہوا۔ 📖 (ابن عساکر 4/393، کنز العمال 7/302، مجمع الزوائد للہیثمی 4/316) #firqa_free_islam #rajaکیbaten