@thel.i.f.esecrets: 😉 #fyp

.
.
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 02 July 2026 04:01:49 GMT
293
24
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @thel.i.f.esecrets, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عبدالاحد مومند افغانستان کے پہلے پختون خلاباز تھے، جن کی پیدائش 1 جنوری 1959 کو افغانستان کے شہر غزنی میں ہوئی۔  انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں سوویت یونین کے خلائی پروگرام کے تحت خلاباز کی تربیت حاصل کی۔ پھر 29 اگست 1988 کو وہ خلائی جہاز سوئیوز TM-6 کے ذریعے خلاء میں گئے اور تقریباً نو دن تک خلائی اسٹیشن میر پر قیام کیا، جہاں انہوں نے مختلف سائنسی تجربات انجام دیے۔ اس تاریخی مشن کے دوران وہ خلا میں جانے والے پہلے افغان اور دنیا کے چند مسلم خلابازوں میں شامل ہوئے۔  خلاء سے انہوں نے افغانستان کی تصاویر بھی کھینچیں اور اپنے وطن کے لیے امن و خوشحالی کی دعا کی۔ واپسی کے بعد انہیں افغانستان اور سوویت یونین میں مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ آج بھی عبدالاحد مومند کو افغانستان کی تاریخ کی ایک نمایاں سائنسی اور قومی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔ عبدالاحد مومند کا انتقال 21 جون 2026 کو جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں واقع ایک ہسپتال میں کینسر کے باعث ہوا۔ وہ 67 برس کے تھے اور کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان کے اہلِ خانہ نے ان کی وفات کی تصدیق کی۔  تحریر ۔ خان نوید خان  پوسٹ آگے شیئر کریں شکریہ  ۔ ۔ ۔ #abdulahadmomand #first #pakhtoon #astronaut
عبدالاحد مومند افغانستان کے پہلے پختون خلاباز تھے، جن کی پیدائش 1 جنوری 1959 کو افغانستان کے شہر غزنی میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں سوویت یونین کے خلائی پروگرام کے تحت خلاباز کی تربیت حاصل کی۔ پھر 29 اگست 1988 کو وہ خلائی جہاز سوئیوز TM-6 کے ذریعے خلاء میں گئے اور تقریباً نو دن تک خلائی اسٹیشن میر پر قیام کیا، جہاں انہوں نے مختلف سائنسی تجربات انجام دیے۔ اس تاریخی مشن کے دوران وہ خلا میں جانے والے پہلے افغان اور دنیا کے چند مسلم خلابازوں میں شامل ہوئے۔ خلاء سے انہوں نے افغانستان کی تصاویر بھی کھینچیں اور اپنے وطن کے لیے امن و خوشحالی کی دعا کی۔ واپسی کے بعد انہیں افغانستان اور سوویت یونین میں مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ آج بھی عبدالاحد مومند کو افغانستان کی تاریخ کی ایک نمایاں سائنسی اور قومی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔ عبدالاحد مومند کا انتقال 21 جون 2026 کو جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں واقع ایک ہسپتال میں کینسر کے باعث ہوا۔ وہ 67 برس کے تھے اور کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان کے اہلِ خانہ نے ان کی وفات کی تصدیق کی۔ تحریر ۔ خان نوید خان پوسٹ آگے شیئر کریں شکریہ ۔ ۔ ۔ #abdulahadmomand #first #pakhtoon #astronaut

About