جب تک ہماری سانسیں چلتی رہیں گی اور ہم ہوش و حواس میں زندہ رہیں گے، ہم Sidhu Moose Wala سے محبت کرتے رہیں گے۔ وہ صرف ایک گلوکار نہیں تھے، بلکہ ایک ایسی آواز تھے جس نے لاکھوں دلوں میں ہمت، خودداری، غیرت اور سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کیا۔
ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے الفاظ، ان کی سوچ اور ان کے پیغام سے سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ الفاظ وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں، مگر سچا قلم اور سچی سوچ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
ہماری نظر میں برصغیر کی تاریخ میں علامہ محمد اقبال کے بعد اگر کسی نے اپنے الفاظ کے ذریعے نوجوان نسل پر گہرا اثر چھوڑا، تو وہ سدھو موسے والا ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، مگر ان کی تحریروں، شاعری اور فکر نے ایک پورے دور پر اپنی چھاپ ثبت کی، اور یہی کسی بڑے لکھاری کی پہچان ہوتی ہے۔
نام مٹ سکتے ہیں، مگر نظریات اور الفاظ زندہ رہتے ہیں۔
سدھو موسے والا ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔