@safirnoor6: #اسلام میں ماں باپ کے حقوق کا درجہ بہت بلند ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ احادیث میں ان کی بے مثال خدمت اور اطاعت کو جنت کی کنجی قرار دیا گیا ہے#شکر گزاری کا حکم: سورہ لقمان (آیت 14) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مجھ کا شکر ادا کر اور اپنے ماں باپ کا۔"ادب و احترام: سورہ بنی اسرائیل (آیت 23) میں ارشاد ہے: "اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو 'اف' تک نہ کہہ اور نہ انہیں جھڑک بلکہ ان سے ادب کے ساتھ بات کر۔"#رحمت کی دعا: اسی سورہ کی آیت 24 میں حکم دیا گیا ہے کہ ان کے لیے یہ دعا مانگو: "اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا#احادیث مبارکہ کی روشنی میںجنت کا حصول: حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: "یارسول اللہ! اولاد پر والدین کے کیا حقوق ہیں؟" آپؐ نے فرمایا: "وہ دونوں تمہاری جنت اور دوزخ ہیں" (یعنی ان کی اطاعت جنت اور نافرمانی جہنم کا راستہ ہے)#پوچھا: "میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟" آپؐ نے فرمایا: "ماں"، صحابی نے تین بار یہی سوال پوچھا اور آپؐ نے تینوں بار "ماں" کا نام لیا اور چوتھی بار فرمایا: "پھر باپ کا رضائے الٰہی: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: "اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے، اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔"مجموعی طور پر والدین کی خدمت، ان کی فرمانبرداری (سوائے گناہ کے کاموں کے)، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان سے محبت سے پیش آنا اولاد پر لازم ہے