@heerkipoetry4: مقتلِ جاں کی اس آخری حد پر، جہاں اداسی اب محض ایک لفظ نہیں، بلکہ روح کو چاٹ جانے والا عذاب بن چکی ہے، انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہستی کا جنازہ اٹھا کر، الٰہی کے حضور پٹخ دیتا ہے۔ وہ جو سب کچھ خدا کے سپرد کرنے کے بعد، گم صم بیٹھ کر اپنی خالی ہتھیلیوں کو، گھنٹوں تکتے رہنے کا المیہ ہے، وہ تسلیم و رضا کا کوئی صوفیانہ مقام نہیں، بلکہ جیتے جی عدم کے اندھے کنویں میں اتر جانے کا، عبرت ناک تماشا ہے۔ وہ تہی دست ہتھیلیاں دراصل ایک بکھرے ہوئے وجود کا، وہ کتبہ ہیں جہاں اب التجا کی سکت، خوابوں کی راکھ، یا درد محسوس کرنے کی رمق تک باقی نہیں بچی۔ وہ لکیریں مٹ چکی ہیں، وہ گوشت کا لوتھڑا اب پکار پکار کر کہہ رہا ہے۔ کہ اے کائنات کے بے نیاز مالک! مجھے زمانے کے ستم نے اس حد تک نچوڑا اور مسلا ہے، کہ اب میرے اندر تڑپنے کے لیے، میرا اپنا لہو بھی باقی نہیں رہا، میں اپنی ہی سانسوں کے بوجھ تلے گھٹ کر مر رہی ہوں۔ یاس و حرمان کی اس ہولناک، مہیب اور لرزہ خیز تاریکی میں، روح اس خوفناک سچائی سے کانپ اٹھتی ہے، کہ ہم اس کائنات کے سب سے بڑے لاوارث ہیں؛ لیکن عین اسی فنا کے مقتل پر، ایک لایعنی، سفاک اور دلخراش امید جنم لیتی ہے۔ جو اس نیم مردہ نفس کو ابدی نیند سونے بھی نہیں دیتی؛ کہ اب ان نوحہ کناں ہاتھوں میں، یا تو موت کی ابدی خاموشی اترے گی، یا پھر تیرے 'کُن' کا وہ خونی معجزہ، جو اس راکھ ہو چکے وجود کو دوبارہ زندہ کر کے تماشائے جہاں بنائے گا۔ #viralvideo #DeepWords #poetry #painfullove #UrduShayari