@937jrcountry: WHAT A VIEW @Josh Ross 🇨🇦 #joshross #countrymusic #surrey #canadaday

93.7 JR Country
93.7 JR Country
Open In TikTok:
Region: CA
Thursday 02 July 2026 07:25:01 GMT
4600
334
20
29

Music

Download

Comments

joanne.haskell
Joanne Haskell :
wow serious whr was this
2026-07-02 20:31:04
12
tracy13932
Tracy :
amazing show
2026-07-02 23:28:14
8
candicesmomlife
candicesmomlife :
Wait I missed Josh Ross in Surrey 😭😭😭
2026-07-03 03:56:05
11
chauntelle.lange
Chauntelle Lange :
I see myself!!!
2026-07-03 00:32:08
9
bccoffeegal
bccoffeegal :
Such a great night!!!
2026-07-02 13:33:05
10
beckiyarrington48
abeckiyarrington3 :
when you're single again and you're thinking of me Josh Ross 🫶🫶🫶🫶🫶
2026-07-02 07:39:58
4
beckiyarrington48
abeckiyarrington3 :
biggest crush Josh Ross 🫶🫶🫶🫶🫶🫶
2026-07-02 07:40:11
7
beckiyarrington48
abeckiyarrington3 :
missing a queen
2026-07-02 07:40:03
5
beckiyarrington48
abeckiyarrington3 :
beautiful eyes Josh Ross 🫶🫶🫶🫶🫶🫶
2026-07-02 07:39:46
3
bigcitycountryboy
Jay Francois :
the show was good.. but a little ironic playing Canada day remembering how last year he was on stage and said USA was the greatest country on earth before chanting USA... USA!
2026-07-04 15:53:14
0
patty.zuiga23
Patty Zuñiga :
🥰🌹🥰❤️🥰🌹🥰❤️🥰🌹
2026-07-02 20:44:08
7
jojofo1966
Jojo :
😂😂
2026-07-03 00:17:23
4
.saw347
สาว ( saw ) :
🩵💙❤️🩵❤️💙❤️🫶🫶😁😁💝💝💝💝💝
2026-07-03 19:14:28
1
To see more videos from user @937jrcountry, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں  پہ  نورِ مسرت  نہ ہوتا نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ملتا عطاء زاہدوں کو  عبادت نہ ہوتی مسافر  سدا   منزلوں  پر   بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیمِ بہاراں  میں  نکہت  نہ ہوتی خدائی کا  انصاف  خاموش  رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ساغر صدیقی ---- یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ عپا سی f#ay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #BWP #fyp 
اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں  پہ  نورِ مسرت  نہ ہوتا نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ملتا عطاء زاہدوں کو  عبادت نہ ہوتی مسافر  سدا   منزلوں  پر   بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیمِ بہاراں  میں  نکہت  نہ ہوتی خدائی کا  انصاف  خاموش  رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ساغر صدیقی ---- یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ عپا سی f#ay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #BWP #fyp 

About