@mrkn020: ⚔️ باب چہارم: دربار پر ایک بار پھر مکمل خاموشی چھا گئی... تمام نگاہیں علامہ حسن بن یوسف الحلیؒ پر مرکوز تھیں... سلطان اولجائیتو بھی پوری توجہ سے ان کی گفتگو سننے کے لیے بے تاب تھا... اسے محسوس ہو رہا تھا... کہ اب مناظرہ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے... علامہ حلیؒ نے نہایت سکون سے فرمایا: **"آپ نے پوچھا تھا... کیا رسول اللہ ﷺ نے امت کو اہلِ بیتؑ کی پیروی کا حکم بھی دیا ہے؟ تو آئیے... میں اس کا جواب رسول اللہ ﷺ کے اپنے الفاظ سے دیتا ہوں..."** پھر علامہ نے بلند آواز میں حدیث پڑھی: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، كِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَبَدًا، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» پھر فرمایا: **"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں... پہلی... اللہ کی کتاب... وہ کتاب جس میں قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت ہے... جس میں حق و باطل کے درمیان واضح فرق موجود ہے... اور دوسری... میری عترت... یعنی میرے اہلِ بیتؑ... اگر تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے... ان کی تعلیمات سے وابستہ رہو گے... اور انہیں اپنی زندگی کا معیار بناؤ گے... تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے... اور یاد رکھو... یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے... یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آئیں گے..."** حدیث ختم ہوئی... تو دربار پر ایسی خاموشی طاری ہو گئی... جیسے ہر شخص اپنے دل میں اس کے مفہوم کو تول رہا ہو... سلطان اولجائیتو کی نظریں مسلسل علامہ حلیؒ پر جمی ہوئی تھیں... جبکہ کئی علماء کے چہروں پر حیرت صاف دکھائی دے رہی تھی... علامہ نے نہایت پُرسکون لہجے میں فرمایا: **"یہ حدیث صرف ایک روایت نہیں... بلکہ رسول اللہ ﷺ کی امت کے لیے آخری اور عظیم وصیتوں میں سے ایک ہے... اسی لیے اسے متعدد محدثین نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے... صحیح مسلم... جامع ترمذی... مسند احمد... اور دیگر حدیثی مصادر میں بھی اس کے مختلف الفاظ موجود ہیں..."** پھر علامہ نے دربار کی طرف دیکھا... اور آہستہ سے فرمایا: **"اب میں آپ حضرات سے چند سوال کرتا ہوں... اگر رسول اللہ ﷺ کے نزدیک صرف قرآن ہی کافی ہوتا... تو پھر اہلِ بیتؑ کو قرآن کے ساتھ کیوں ذکر فرمایا؟ اگر اہلِ بیتؑ سے صرف محبت مطلوب ہوتی... تو ان سے تمسک کو گمراہی سے نجات کی شرط کیوں قرار دیا جاتا؟ اور اگر قرآن اور اہلِ بیتؑ قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے... تو کیا امت کو بھی ان دونوں سے وابستہ نہیں رہنا چاہیے؟"** یہ سوالات سن کر... مجلس میں گہری خاموشی چھا گئی... چند علماء ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے... کئی سر جھک گئے... لیکن کسی کے پاس فوری جواب نہ تھا... اسی لمحے... دربار کے ایک معمر عالم اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے... انہوں نے کہا: **"اے علامہ! اگر اہلِ بیتؑ سے مراد یہی بارہ ائمہ ہیں... تو کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی ان کے علم، ہدایت اور اتباع کو بھی امت کے لیے معیار قرار دیا ہے؟ یا یہ صرف آپ کا استدلال ہے؟"** علامہ حلیؒ کے چہرے پر اعتماد بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی... انہوں نے فرمایا: **"رسول اللہ ﷺ نے صرف اہلِ بیتؑ کی محبت کا حکم نہیں دیا... بلکہ ان سے تمسک کا حکم دیا... اور تمسک کا مطلب ہے... مضبوطی سے وابستہ رہنا... ان کی رہنمائی کو اختیار کرنا... اور ان کے راستے پر چلنا... اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا... قرآن اور اہلِ بیتؑ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے... پس جو قرآن کے ساتھ ہوگا... وہ اہلِ بیتؑ کے ساتھ بھی ہوگا... اور جو اہلِ بیتؑ سے جدا ہو جائے... وہ قرآن کی حقیقی روح سے بھی دور ہو جائے گا..."** یہ جواب ختم ہوا... تو سلطان اولجائیتو نے بے اختیار گہری سانس لی... اس کے چہرے پر حیرت، غور و فکر اور تجسس پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں تھا... لیکن دربار کا ایک عالم ابھی بھی مطمئن نہ تھا... وہ آہستہ سے کھڑا ہوا... اور بلند آواز میں بولا: **"اگر اہلِ بیتؑ کی پیروی ہی حق کا معیار ہے... تو صحابۂ کرام کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوئے... ان میں حق کو کیسے پہچانا جائے؟ کس کی پیروی کی جائے؟ اور رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں امت کی کیا رہنمائی فرمائی؟"** یہ سوال سنتے ہی... پورے دربار پر پھر ایسا سناٹا چھا گیا... کہ گویا وقت بھی ٹھہر گیا ہو... تمام نگاہیں علامہ حلیؒ پر جم گئیں... علامہ نے آسمان کی طرف ایک نظر اٹھائی... پھر نہایت اطمینان سے فرمایا: **"اسی سوال کا جواب... اس مناظرے کا اگلا اور نہایت اہم باب ہوگا... جہاں قرآن، سنت اور تاریخ کی روشنی میں حق کا معیار واضح کیا جائے گا..."** ⚔️ جاری ہے... (باب پنجم: حق کا معیار... قرآن، اہلِ بیتؑ اور صحابہ کے اختلافات پر علمی گفتگو)........................... Comment for Next part.............. #shia #yali #foryoupage❤️❤️ #yamehdi #yahussainعُ🙏🏻🚩🚩 .......... ... .......... .. ...