@hau.van625: Mừng 50 năm thành phố mang tên Bác Hồ Chí Minh🇻🇳🇻🇳🇻🇳🇻🇳❤️❤️❤️❤️quận 1 TPHCM 🇻🇳❤️

Hau Van
Hau Van
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 02 July 2026 15:33:19 GMT
662
51
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hau.van625, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کچھ دن پہلے ہمارے علاقے میں ایک انتہائی افسوس ناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص کی دکان میں پھندے سے لٹکی لاش ملی۔ ابتدائی تفتیش کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ قتل دکان میں نہیں بلکہ گھر میں ہوا، لیکن یہ نتیجہ زمینی حقائق اور سچائی سے کوسوں دور ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے گاؤں میں من گھڑت کہانیاں بنائی جا رہی ہیں اور ایک ایسے معزز خاندان کو بدنام کیا جا رہا ہے جن کی شرافت کی گواہی پورا علاقہ دیتا ہے۔ اکرام کاکا کا خاندان وہ ہے جو کبھی ایک مچھر کو بھی نقصان پہنچانے کا سوچ نہیں سکتا۔ آج جلال اقبال اور ان کا پورا خاندان اس بے بنیاد الزام کی وجہ سے شدید ذہنی کرب سے گزر رہا ہے۔ وہ دونوں سراسر بے گناہ ہیں!
کچھ دن پہلے ہمارے علاقے میں ایک انتہائی افسوس ناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص کی دکان میں پھندے سے لٹکی لاش ملی۔ ابتدائی تفتیش کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ قتل دکان میں نہیں بلکہ گھر میں ہوا، لیکن یہ نتیجہ زمینی حقائق اور سچائی سے کوسوں دور ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے گاؤں میں من گھڑت کہانیاں بنائی جا رہی ہیں اور ایک ایسے معزز خاندان کو بدنام کیا جا رہا ہے جن کی شرافت کی گواہی پورا علاقہ دیتا ہے۔ اکرام کاکا کا خاندان وہ ہے جو کبھی ایک مچھر کو بھی نقصان پہنچانے کا سوچ نہیں سکتا۔ آج جلال اقبال اور ان کا پورا خاندان اس بے بنیاد الزام کی وجہ سے شدید ذہنی کرب سے گزر رہا ہے۔ وہ دونوں سراسر بے گناہ ہیں! "کسی ثبوت کے بغیر کہانیاں بنانا آسان ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ پورے علاقے کے لوگ اکرام کاکا کی شرافت پر قرآن اٹھانے کو تیار ہیں، اور جلال اقبال کے تمام دوست ان کی بے گناہی پر حلف دینے کے لیے کھڑے ہیں کہ اس قتل سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔" "جلال اقبال کی جوانی اور ان کے بوڑھے ماں باپ کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے، جن کا وہ واحد سہارا ہے۔ اگر تفتیش درست رخ پر نہ ہوئی تو ایک ہنستا کھیلتا خاندان تباہ ہو جائے گا اور اصل قاتل آزاد گھومتا رہے گا۔ گا۔ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں، ڈی پی او (DPO) اور اعلیٰ حکام سے پرزور درخواست کرتے ہیں کہ اس کیس کی دوبارہ شفاف تفتیش (Re-investigation) کی جائے۔ اندھی مہم جوئی کے بجائے سائنسی اور غیر جانبدارانہ طریقے سے حقائق سامنے لائے جائیں، تاکہ سچے قاتل کو پکڑ کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور بے گناہوں کو انصاف مل سکے۔

About