@artindentix: امیدوارم کسی باشم که این شاهکارو زنده کرده باشم . . . #fyp #pppppppppppppppp #ایران #فوریو #persian . .

𝐀𝐫𝐭𝐢𝐧𝐃𝐞𝐧𝐓𝐢𝐗🇺🇸
𝐀𝐫𝐭𝐢𝐧𝐃𝐞𝐧𝐓𝐢𝐗🇺🇸
Open In TikTok:
Region: IR
Thursday 02 July 2026 17:43:15 GMT
20298
4170
92
516

Music

Download

Comments

yoko.kiyokii
٭𖤐𝒴𝓊𝓀ℴ 𝜗ৎ⭑𝓀𝒾ℴ𝓊𝓀𝒾𝒾ೀ :
از یادمون رفته بود
2026-07-03 08:00:02
12
tanw1ln
沉默 :
چه محتوای خوبی تعجب کردم
2026-07-02 21:04:58
105
isabella.12357
ı𝗌𝖺𝖻𝖾𝗅𝗅𝖺 :
مارکوس و رابررتتتتت
2026-07-03 09:20:19
0
p5293864ydb
⫷✿𝔭𝔞𝔯𝔦𝔰𝔞✿⫸ :
2026-07-02 19:46:03
21
helenaa8p
𝘏𝘦𝘭𝘦𝘯𝘢 :
واییی مارکوسس😭✨
2026-07-02 23:57:11
3
gandom_62
Gandom :
2026-07-02 21:52:02
1
silentedit23
𝐒𝐢𝐥𝐞𝐧𝐭 𝐞𝐝𝐢𝐭 :
دوست خوب من ارتین عجب ادیتی زده🥰
2026-07-03 01:20:39
2
manisaspiderman
SpiderMan🕸️ :
2026-07-03 11:14:16
0
mohsenntv
mohsennTV :
2026-07-03 11:02:25
0
To see more videos from user @artindentix, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آپ دنیا کی تمام عورتوں کو برقع پہنا دیں، ہر گلی میں پردے کی دیواریں کھڑی کر دیں، ہر راستے کو اصولوں اور پابندیوں سے بھر دیں، ہر معاشرے کو ظاہری نظم و ضبط میں ڈھال دیں، مگر ایک حقیقت کبھی نہیں بدلتی کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اپنے عمل، اپنی نیت، اپنی نظر اور اپنے دل کا حساب خود دینا ہوگا، نہ کسی اور کی طرف سے، نہ کسی اور کے بہانے سے، نہ کسی اور کی ذمہ داری کے طور پر، اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو انسان اکثر بھول جاتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اصلاح کا آغاز دوسروں سے کرتا ہے اور اپنے اندر جھانکنے کی زحمت کم کرتا ہے، وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر معاشرہ بدل جائے تو انسان بدل جائے گا، اگر لباس بدل جائے تو سوچ بدل جائے گی، اگر قانون سخت ہو جائے تو کردار درست ہو جائے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ انسان کی اصل اصلاح باہر سے نہیں بلکہ اندر سے شروع ہوتی ہے، اس کی آنکھ سے، اس کے دل سے، اس کی نیت سے اور اس کی اس سوچ سے جو وہ تنہائی میں اپناتا ہے، جب کوئی اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا، جب کوئی اس پر پابندی نہیں ہوتی، جب کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا، تب اس کا اصل کردار سامنے آتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان یا تو خود کو سنبھالتا ہے یا خود کو کھو دیتا ہے، معاشرے میں اکثر بحثیں عورت کے لباس، اس کے پردے، اس کی آزادی یا اس کی حدود پر گھومتی ہیں، مگر کم ہی لوگ اس طرف توجہ دیتے ہیں کہ ایک مرد اپنی نگاہوں، اپنے خیالات اور اپنی نیتوں کی کتنی حفاظت کرتا ہے، کم ہی لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ایک انسان اپنی سوچ کو کتنا صاف رکھتا ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف جسم کا پردہ کافی نہیں ہوتا اگر دل بے پردہ ہو، اور صرف لباس کی اصلاح کافی نہیں ہوتی اگر نظر بے قابو ہو، اصل پردہ وہ ہے جو انسان اپنے نفس پر ڈالتا ہے، اپنی خواہشات پر ڈالتا ہے، اپنی نیت پر ڈالتا ہے، اور اپنی سوچ پر ڈالتا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے مذہب اور اخلاق کو بھی ظاہری شکلوں میں محدود کر دیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی مخصوص لباس پہن لے تو وہ مکمل نیک ہو گیا، اور اگر کوئی مخصوص لباس نہ پہنے تو وہ مکمل غلط ہو گیا، حالانکہ دین کا اصل مقصد انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے، اس کے دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہے، اس کی نیت کو درست کرنا ہے، اس کے کردار کو بہتر بنانا ہے، اور اسے یہ احساس دینا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی نظر میں ہے، نہ کہ صرف معاشرے کی نظر میں، جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے تو پھر اسے کسی بیرونی جبر کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے، وہ خود اپنی اصلاح کرتا ہے، وہ خود اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے، اور وہ خود اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے، مگر جب انسان اس بنیادی حقیقت کو بھول جاتا ہے تو پھر وہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتا ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ کر دوسروں کی زندگیوں کو درست کرنے میں لگ جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسروں کو ٹھیک کر لیا تو شاید میں بھی ٹھیک ہو جاؤں گا، مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کیونکہ جو انسان اپنے اندر کی دنیا خراب رکھتا ہے وہ باہر کی دنیا کو کبھی مکمل طور پر درست نہیں کر سکتا، اصل سوال ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں کا کیا کرتے ہو، تم اپنی نیت کو کہاں لے کر جاتے ہو، تم اپنی سوچ کو کس طرف رکھتے ہو، تم تنہائی میں کیا دیکھتے ہو، کیا سوچتے ہو، کیا محسوس کرتے ہو، کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جن کا حساب انسان کو اپنے رب کے سامنے دینا ہے، نہ کہ دوسروں کے لباس کا، نہ دوسروں کی زندگیوں کا، نہ دوسروں کے فیصلوں کا، اور یہی وہ بات ہے جو ہر انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے اگر وہ واقعی سچائی کو سمجھنا چاہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر آسان راستہ اختیار کرتے ہیں، ہم دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کو ویسا ہی چھوڑ دیتے ہیں جیسا ہم ہیں، ہم دوسروں کے لیے قانون بنانا چاہتے ہیں مگر اپنے لیے رعایت چاہتے ہیں، ہم دوسروں کے لیے سختی چاہتے ہیں مگر اپنے لیے نرمی چاہتے ہیں، حالانکہ انصاف کا آغاز ہمیشہ اپنے آپ سے ہوتا ہے، اگر انسان واقعی بہتر معاشرہ چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی آنکھ کو قابو میں لانا ہوگا، اپنے دل کو صاف کرنا ہوگا، اپنی نیت کو درست کرنا ہوگا، اور اپنے عمل کو بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ جو معاشرہ اندر سے مضبوط ہوتا ہے وہ باہر سے بھی مضبوط ہوتا ہے، اور جو انسان اپنے اندر کو سنوار لیتا ہے وہ دوسروں کے لیے بھی روشنی بن جاتا ہے، آخر میں یہی حقیقت رہ جاتی ہے کہ پردہ صرف کپڑے کا نام نہیں، پردہ اصل میں کردار کا ہوتا ہے، اور اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کیا پہنا، اصل سوال یہ ہے کہ کس نے اپنی آنکھوں، اپنی سوچوں اور اپنی نیتوں کی کتنی حفاظت کی، کیونکہ جب حساب ہوگا تو ہر انسان اکیلا ہوگا، اس کے ساتھ نہ اس کا معاشرہ ہوگا# #viralvideos #foryoup
آپ دنیا کی تمام عورتوں کو برقع پہنا دیں، ہر گلی میں پردے کی دیواریں کھڑی کر دیں، ہر راستے کو اصولوں اور پابندیوں سے بھر دیں، ہر معاشرے کو ظاہری نظم و ضبط میں ڈھال دیں، مگر ایک حقیقت کبھی نہیں بدلتی کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اپنے عمل، اپنی نیت، اپنی نظر اور اپنے دل کا حساب خود دینا ہوگا، نہ کسی اور کی طرف سے، نہ کسی اور کے بہانے سے، نہ کسی اور کی ذمہ داری کے طور پر، اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو انسان اکثر بھول جاتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اصلاح کا آغاز دوسروں سے کرتا ہے اور اپنے اندر جھانکنے کی زحمت کم کرتا ہے، وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر معاشرہ بدل جائے تو انسان بدل جائے گا، اگر لباس بدل جائے تو سوچ بدل جائے گی، اگر قانون سخت ہو جائے تو کردار درست ہو جائے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ انسان کی اصل اصلاح باہر سے نہیں بلکہ اندر سے شروع ہوتی ہے، اس کی آنکھ سے، اس کے دل سے، اس کی نیت سے اور اس کی اس سوچ سے جو وہ تنہائی میں اپناتا ہے، جب کوئی اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا، جب کوئی اس پر پابندی نہیں ہوتی، جب کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا، تب اس کا اصل کردار سامنے آتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان یا تو خود کو سنبھالتا ہے یا خود کو کھو دیتا ہے، معاشرے میں اکثر بحثیں عورت کے لباس، اس کے پردے، اس کی آزادی یا اس کی حدود پر گھومتی ہیں، مگر کم ہی لوگ اس طرف توجہ دیتے ہیں کہ ایک مرد اپنی نگاہوں، اپنے خیالات اور اپنی نیتوں کی کتنی حفاظت کرتا ہے، کم ہی لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ایک انسان اپنی سوچ کو کتنا صاف رکھتا ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف جسم کا پردہ کافی نہیں ہوتا اگر دل بے پردہ ہو، اور صرف لباس کی اصلاح کافی نہیں ہوتی اگر نظر بے قابو ہو، اصل پردہ وہ ہے جو انسان اپنے نفس پر ڈالتا ہے، اپنی خواہشات پر ڈالتا ہے، اپنی نیت پر ڈالتا ہے، اور اپنی سوچ پر ڈالتا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے مذہب اور اخلاق کو بھی ظاہری شکلوں میں محدود کر دیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی مخصوص لباس پہن لے تو وہ مکمل نیک ہو گیا، اور اگر کوئی مخصوص لباس نہ پہنے تو وہ مکمل غلط ہو گیا، حالانکہ دین کا اصل مقصد انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے، اس کے دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہے، اس کی نیت کو درست کرنا ہے، اس کے کردار کو بہتر بنانا ہے، اور اسے یہ احساس دینا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی نظر میں ہے، نہ کہ صرف معاشرے کی نظر میں، جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے تو پھر اسے کسی بیرونی جبر کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے، وہ خود اپنی اصلاح کرتا ہے، وہ خود اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے، اور وہ خود اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے، مگر جب انسان اس بنیادی حقیقت کو بھول جاتا ہے تو پھر وہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتا ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ کر دوسروں کی زندگیوں کو درست کرنے میں لگ جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسروں کو ٹھیک کر لیا تو شاید میں بھی ٹھیک ہو جاؤں گا، مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کیونکہ جو انسان اپنے اندر کی دنیا خراب رکھتا ہے وہ باہر کی دنیا کو کبھی مکمل طور پر درست نہیں کر سکتا، اصل سوال ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں کا کیا کرتے ہو، تم اپنی نیت کو کہاں لے کر جاتے ہو، تم اپنی سوچ کو کس طرف رکھتے ہو، تم تنہائی میں کیا دیکھتے ہو، کیا سوچتے ہو، کیا محسوس کرتے ہو، کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جن کا حساب انسان کو اپنے رب کے سامنے دینا ہے، نہ کہ دوسروں کے لباس کا، نہ دوسروں کی زندگیوں کا، نہ دوسروں کے فیصلوں کا، اور یہی وہ بات ہے جو ہر انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے اگر وہ واقعی سچائی کو سمجھنا چاہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر آسان راستہ اختیار کرتے ہیں، ہم دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کو ویسا ہی چھوڑ دیتے ہیں جیسا ہم ہیں، ہم دوسروں کے لیے قانون بنانا چاہتے ہیں مگر اپنے لیے رعایت چاہتے ہیں، ہم دوسروں کے لیے سختی چاہتے ہیں مگر اپنے لیے نرمی چاہتے ہیں، حالانکہ انصاف کا آغاز ہمیشہ اپنے آپ سے ہوتا ہے، اگر انسان واقعی بہتر معاشرہ چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی آنکھ کو قابو میں لانا ہوگا، اپنے دل کو صاف کرنا ہوگا، اپنی نیت کو درست کرنا ہوگا، اور اپنے عمل کو بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ جو معاشرہ اندر سے مضبوط ہوتا ہے وہ باہر سے بھی مضبوط ہوتا ہے، اور جو انسان اپنے اندر کو سنوار لیتا ہے وہ دوسروں کے لیے بھی روشنی بن جاتا ہے، آخر میں یہی حقیقت رہ جاتی ہے کہ پردہ صرف کپڑے کا نام نہیں، پردہ اصل میں کردار کا ہوتا ہے، اور اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کیا پہنا، اصل سوال یہ ہے کہ کس نے اپنی آنکھوں، اپنی سوچوں اور اپنی نیتوں کی کتنی حفاظت کی، کیونکہ جب حساب ہوگا تو ہر انسان اکیلا ہوگا، اس کے ساتھ نہ اس کا معاشرہ ہوگا# #viralvideos #foryoup

About