@planet.marrs: Twin.. I miss you sm #comedy #BestFriends #alternative #emo #fangs

🌲🌟•Tommie Boy •🌟🌲
🌲🌟•Tommie Boy •🌟🌲
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 02 July 2026 21:35:09 GMT
9337
742
1
28

Music

Download

Comments

morisuke_yakuuu
hoshimochisatoru :
2026-07-02 21:43:33
1
To see more videos from user @planet.marrs, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مکہ معاہدہ، چین، روس اور ابھرتا ہوا نیا علاقائی نظام چین اور روس کی جانب سے مکہ معاہدے کی حمایت نے عالمی سیاست میں  ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی  جانب سے مسلم ممالک کے ساتھ ایک وسیع تر سیکیورٹی چارٹر کی تجویز اس  امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں مسلم دنیا اور مشرقی  طاقتوں کے درمیان تعاون محض سفارتی یا معاشی سطح تک محدود نہیں رہ  سکتا۔ اس سے ایک روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے یہ  بیان کہ غیر مسلم ممالک بھی مکہ معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں، اس تصور  کو مزید وسعت دیتا ہے۔ اگر یہ پیش رفت اسی سمت آگے بڑھتی ہے تو  مستقبل میں چین اور روس جیسے اہم غیر مسلم ممالک بھی کسی وسیع  علاقائی سیکیورٹی اور تعاون کے فریم ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے: یہ معاملہ محض کسی “سنی بلاک”  کے قیام کا نہیں، بلکہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے ایک  وسیع تر مسلم تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جس میں  مختلف مسالک، خطوں اور سیاسی نظام رکھنے والے مسلم ممالک شامل ہوں۔ اس تناظر میں ایران، ترکی، پاکستان، عرب ممالک، وسطی ایشیا اور شمالی  افریقہ سمیت مسلم دنیا کے مختلف اہم مراکز کی ممکنہ شمولیت ایک بڑی  جغرافیائی و تہذیبی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ تہذیبوں کے درمیان نیا تعاون چین کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ برسوں کے دوران ایک اہم تصور  “تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور بقائے باہمی” رہا ہے۔ چینی قیادت  بارہا ایک ایسے عالمی نظام کی بات کرتی رہی ہے جس میں مختلف تہذیبیں  ایک دوسرے کو زیر کرنے کے بجائے باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اگر اسی تصور کو مسلم دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے چینی تعلقات کے تناظر  میں دیکھا جائے تو ایک ممکنہ منظرنامہ یہ بنتا ہے کہ چین مسلم ممالک کے  ساتھ اقتصادی، دفاعی، سفارتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید منظم شکل دے۔ یہ عمل کسی ایک دن میں نہیں ہوگا؛ بلکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔ پاکستان کا ممکنہ کردار اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک طرف چین کے ساتھ CPEC کے ذریعے منسلک ہے، دوسری  طرف ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے، جبکہ بحیرۂ  عرب کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سمندری راستوں تک رسائی رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر پورٹ کی اہمیت صرف پاکستان اور چین کے دوطرفہ  منصوبے تک محدود نہیں رہتی۔ مستقبل میں گوادر کو خطے کے وسیع تر  تجارتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاسکتا  ہے۔ چین کی جبوتی میں فوجی موجودگی بھی اس کی بیرونِ ملک سمندری رسائی کے  بڑھتے ہوئے کردار کی ایک مثال ہے۔ تاہم گوادر یا کسی دوسری بندرگاہ کے  مستقبل کے فوجی کردار سے متعلق دعووں کو حتمی حقیقت قرار دینے کے  بجائے انہیں موجودہ جغرافیائی و اسٹریٹجک امکانات کے تناظر میں دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔ گوادر اور چاہ بہار گوادر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے کے  انتہائی قریب واقع ہیں۔ دونوں بندرگاہیں اگرچہ مختلف ممالک اور مختلف  بین الاقوامی شراکت داریوں سے وابستہ رہی ہیں، لیکن مستقبل میں ان کا  باہمی تعاون خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھ سکتا ہے۔ اگر چین، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط ہوتے  ہیں تو گوادر اور چاہ بہار ایک دوسرے کے حریف ہونے کے بجائے ایک  وسیع مشرقی تجارتی و لاجسٹک نظام کے معاون مراکز بن سکتے ہیں۔ اس صورت میں چین سے آنے والا سامان پاکستان کے ذریعے ایران اور  پھر مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے کے لیے مختلف زمینی و سمندری راستوں سے  استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ، تجارت اور عالمی سیاست ایک دوسرے  سے جڑ جاتے ہیں۔ امریکہ، پاکستان اور بدلتا ہوا توازن پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی اس بدلتے ہوئے علاقائی ماحول سے  الگ نہیں کیے جاسکتے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے امریکہ، چین، ایران، سعودی عرب، ترکی  اور دیگر طاقتوں کے ساتھ مختلف ادوار میں اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے  کی کوشش کی ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان چین، ایران، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے  ساتھ معاشی اور سیکیورٹی تعاون مزید بڑھاتا ہے تو واشنگٹن کے ساتھ اس  کے تعلقات کی نوعیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم اسے فوری طور پر کسی امریکہ مخالف اتحاد کا نام دینا قبل از وقت  ہوگا۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ دنیا بتدریج ایک ایسے دور میں داخل ہورہی  ہے جہاں ممالک ایک ہی عالمی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے  کثیرالجہتی شراکت داریوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ #geopolitics #newworldorder #Muslimworld #Globalpowershift #meccapact
مکہ معاہدہ، چین، روس اور ابھرتا ہوا نیا علاقائی نظام چین اور روس کی جانب سے مکہ معاہدے کی حمایت نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے مسلم ممالک کے ساتھ ایک وسیع تر سیکیورٹی چارٹر کی تجویز اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں مسلم دنیا اور مشرقی طاقتوں کے درمیان تعاون محض سفارتی یا معاشی سطح تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اس سے ایک روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے یہ بیان کہ غیر مسلم ممالک بھی مکہ معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں، اس تصور کو مزید وسعت دیتا ہے۔ اگر یہ پیش رفت اسی سمت آگے بڑھتی ہے تو مستقبل میں چین اور روس جیسے اہم غیر مسلم ممالک بھی کسی وسیع علاقائی سیکیورٹی اور تعاون کے فریم ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے: یہ معاملہ محض کسی “سنی بلاک” کے قیام کا نہیں، بلکہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے ایک وسیع تر مسلم تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جس میں مختلف مسالک، خطوں اور سیاسی نظام رکھنے والے مسلم ممالک شامل ہوں۔ اس تناظر میں ایران، ترکی، پاکستان، عرب ممالک، وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ سمیت مسلم دنیا کے مختلف اہم مراکز کی ممکنہ شمولیت ایک بڑی جغرافیائی و تہذیبی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ تہذیبوں کے درمیان نیا تعاون چین کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ برسوں کے دوران ایک اہم تصور “تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور بقائے باہمی” رہا ہے۔ چینی قیادت بارہا ایک ایسے عالمی نظام کی بات کرتی رہی ہے جس میں مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کو زیر کرنے کے بجائے باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اگر اسی تصور کو مسلم دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے چینی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک ممکنہ منظرنامہ یہ بنتا ہے کہ چین مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی، دفاعی، سفارتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید منظم شکل دے۔ یہ عمل کسی ایک دن میں نہیں ہوگا؛ بلکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔ پاکستان کا ممکنہ کردار اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک طرف چین کے ساتھ CPEC کے ذریعے منسلک ہے، دوسری طرف ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے، جبکہ بحیرۂ عرب کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سمندری راستوں تک رسائی رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر پورٹ کی اہمیت صرف پاکستان اور چین کے دوطرفہ منصوبے تک محدود نہیں رہتی۔ مستقبل میں گوادر کو خطے کے وسیع تر تجارتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ چین کی جبوتی میں فوجی موجودگی بھی اس کی بیرونِ ملک سمندری رسائی کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک مثال ہے۔ تاہم گوادر یا کسی دوسری بندرگاہ کے مستقبل کے فوجی کردار سے متعلق دعووں کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے انہیں موجودہ جغرافیائی و اسٹریٹجک امکانات کے تناظر میں دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔ گوادر اور چاہ بہار گوادر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے کے انتہائی قریب واقع ہیں۔ دونوں بندرگاہیں اگرچہ مختلف ممالک اور مختلف بین الاقوامی شراکت داریوں سے وابستہ رہی ہیں، لیکن مستقبل میں ان کا باہمی تعاون خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھ سکتا ہے۔ اگر چین، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط ہوتے ہیں تو گوادر اور چاہ بہار ایک دوسرے کے حریف ہونے کے بجائے ایک وسیع مشرقی تجارتی و لاجسٹک نظام کے معاون مراکز بن سکتے ہیں۔ اس صورت میں چین سے آنے والا سامان پاکستان کے ذریعے ایران اور پھر مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے کے لیے مختلف زمینی و سمندری راستوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ، تجارت اور عالمی سیاست ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ امریکہ، پاکستان اور بدلتا ہوا توازن پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی اس بدلتے ہوئے علاقائی ماحول سے الگ نہیں کیے جاسکتے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے امریکہ، چین، ایران، سعودی عرب، ترکی اور دیگر طاقتوں کے ساتھ مختلف ادوار میں اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان چین، ایران، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ معاشی اور سیکیورٹی تعاون مزید بڑھاتا ہے تو واشنگٹن کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم اسے فوری طور پر کسی امریکہ مخالف اتحاد کا نام دینا قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ دنیا بتدریج ایک ایسے دور میں داخل ہورہی ہے جہاں ممالک ایک ہی عالمی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے کثیرالجہتی شراکت داریوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ #geopolitics #newworldorder #Muslimworld #Globalpowershift #meccapact

About