Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@planet.marrs: Twin.. I miss you sm #comedy #BestFriends #alternative #emo #fangs
🌲🌟•Tommie Boy •🌟🌲
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 02 July 2026 21:35:09 GMT
9337
742
1
28
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.32MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.16MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
hoshimochisatoru :
2026-07-02 21:43:33
1
To see more videos from user @planet.marrs, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Follow @Old Life Cooking #villagebeautiful #villagelife #village #villagers #villagecooking
‼️¡El secreto para una cocina impecable sin batallar con la grasa!‼️ 😱 Dile adiós a los trapos viejos que huelen mal y acumulan bacterias. Estos paños de terciopelo de bambú limpian el aceite en una pasada y la grasa se cae sola bajo el agua ✨#CleanTok #KitchenHacks #tiktok #tiktokshop
مکہ معاہدہ، چین، روس اور ابھرتا ہوا نیا علاقائی نظام چین اور روس کی جانب سے مکہ معاہدے کی حمایت نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے مسلم ممالک کے ساتھ ایک وسیع تر سیکیورٹی چارٹر کی تجویز اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں مسلم دنیا اور مشرقی طاقتوں کے درمیان تعاون محض سفارتی یا معاشی سطح تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اس سے ایک روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے یہ بیان کہ غیر مسلم ممالک بھی مکہ معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں، اس تصور کو مزید وسعت دیتا ہے۔ اگر یہ پیش رفت اسی سمت آگے بڑھتی ہے تو مستقبل میں چین اور روس جیسے اہم غیر مسلم ممالک بھی کسی وسیع علاقائی سیکیورٹی اور تعاون کے فریم ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے: یہ معاملہ محض کسی “سنی بلاک” کے قیام کا نہیں، بلکہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے ایک وسیع تر مسلم تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جس میں مختلف مسالک، خطوں اور سیاسی نظام رکھنے والے مسلم ممالک شامل ہوں۔ اس تناظر میں ایران، ترکی، پاکستان، عرب ممالک، وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ سمیت مسلم دنیا کے مختلف اہم مراکز کی ممکنہ شمولیت ایک بڑی جغرافیائی و تہذیبی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ تہذیبوں کے درمیان نیا تعاون چین کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ برسوں کے دوران ایک اہم تصور “تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور بقائے باہمی” رہا ہے۔ چینی قیادت بارہا ایک ایسے عالمی نظام کی بات کرتی رہی ہے جس میں مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کو زیر کرنے کے بجائے باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اگر اسی تصور کو مسلم دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے چینی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک ممکنہ منظرنامہ یہ بنتا ہے کہ چین مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی، دفاعی، سفارتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید منظم شکل دے۔ یہ عمل کسی ایک دن میں نہیں ہوگا؛ بلکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔ پاکستان کا ممکنہ کردار اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک طرف چین کے ساتھ CPEC کے ذریعے منسلک ہے، دوسری طرف ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے، جبکہ بحیرۂ عرب کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سمندری راستوں تک رسائی رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر پورٹ کی اہمیت صرف پاکستان اور چین کے دوطرفہ منصوبے تک محدود نہیں رہتی۔ مستقبل میں گوادر کو خطے کے وسیع تر تجارتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ چین کی جبوتی میں فوجی موجودگی بھی اس کی بیرونِ ملک سمندری رسائی کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک مثال ہے۔ تاہم گوادر یا کسی دوسری بندرگاہ کے مستقبل کے فوجی کردار سے متعلق دعووں کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے انہیں موجودہ جغرافیائی و اسٹریٹجک امکانات کے تناظر میں دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔ گوادر اور چاہ بہار گوادر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے کے انتہائی قریب واقع ہیں۔ دونوں بندرگاہیں اگرچہ مختلف ممالک اور مختلف بین الاقوامی شراکت داریوں سے وابستہ رہی ہیں، لیکن مستقبل میں ان کا باہمی تعاون خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھ سکتا ہے۔ اگر چین، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط ہوتے ہیں تو گوادر اور چاہ بہار ایک دوسرے کے حریف ہونے کے بجائے ایک وسیع مشرقی تجارتی و لاجسٹک نظام کے معاون مراکز بن سکتے ہیں۔ اس صورت میں چین سے آنے والا سامان پاکستان کے ذریعے ایران اور پھر مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے کے لیے مختلف زمینی و سمندری راستوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ، تجارت اور عالمی سیاست ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ امریکہ، پاکستان اور بدلتا ہوا توازن پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی اس بدلتے ہوئے علاقائی ماحول سے الگ نہیں کیے جاسکتے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے امریکہ، چین، ایران، سعودی عرب، ترکی اور دیگر طاقتوں کے ساتھ مختلف ادوار میں اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان چین، ایران، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ معاشی اور سیکیورٹی تعاون مزید بڑھاتا ہے تو واشنگٹن کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم اسے فوری طور پر کسی امریکہ مخالف اتحاد کا نام دینا قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ دنیا بتدریج ایک ایسے دور میں داخل ہورہی ہے جہاں ممالک ایک ہی عالمی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے کثیرالجہتی شراکت داریوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ #geopolitics #newworldorder #Muslimworld #Globalpowershift #meccapact
Enam bandara di Jakarta, Banten, Jawa Barat, dan Lampung ditutup sementara selama 4 jam ke depan pada Minggu (6/9) atau hingga pukul 17.30 WIB. Penutupan dilakukan imbas dampak sebaran abu vulkanik Gunung Anak Krakatau. Enam bandara tersebut yakni Bandara Raden Inten II, Soekarno-Hatta, Halim Perdanakusuma, Budiarto, Pondok Cabe, dan Husein Sastranegara. Penutupan bandara dilakukan dengan mempertimbangkan kondisi sebaran abu vulkanik yang dapat mengganggu keselamatan penerbangan. Menteri Perhubungan Dudy Purwagandhi mengatakan, Kementerian Perhubungan bersama instansi terkait terus memantau perkembangan aktivitas Gunung Anak Krakatau dan sebaran abu vulkanik untuk menentukan langkah penanganan selanjutnya. Masyarakat, khususnya calon penumpang, diimbau memantau informasi terbaru dari maskapai dan otoritas bandara terkait kondisi penerbangan. 📸: Dok. Antara. Baca selengkapnya dengan klik link di bio. Cari tahu berita update lainnya dengan download aplikasi kumparan di App Store atau Google Play. 📝: news | 5w1h | R379 | R050 | E099 #bicarafaktalewatberita #kumparan
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy