@knowledgetreasure009: کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری شمسی سلطنت کے آخری کنارے پر ایک ایسی "دیوار" موجود ہے جس کا درجہ حرارت 17,000 سے 50,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے؟ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن یہ خلائی سائنس کی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ جب ناسا (NASA) کا تاریخی خلائی جہاز Voyager 1 زمین سے اربوں میل دور نظامِ شمسی کی آخری سرحد پر پہنچا، تو اس کا سامنا پلازما کے ایک ایسے خطے سے ہوا جو ناقابلِ یقین حد تک گرم تھا۔ سائنسی زبان میں اس گرم سرحدی خطے کو Heliosheath (شمسی غلاف کا بیرونی حصہ) کہا جاتا ہے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے سورج کی گرم ہوائیں باہر کی گہری اور ٹھنڈی کائنات کی ہواؤں سے ٹکراتی ہیں۔ یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں اتنی شدید گرمی تھی، تو وائجر پگھلا کیوں نہیں اور بحفاظت کیسے گزر گیا؟ اس کے پیچھے سائنس کا ایک دلچسپ اصول کام کر رہا تھا۔ دراصل خلا کے اس حصے میں درجہ حرارت تو بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں موجود ذرات بہت تیز رفتاری سے حرکت کر رہے ہیں، لیکن وہاں خلا اس قدر "خالی" ہے کہ ان گرم ذرات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب گرم ذرات خلائی جہاز کی سطح سے ٹکرانے کے لیے موجود ہی نہیں تھے، تو حرارت خلائی جہاز تک منتقل ہی نہیں ہو سکی اور وائجر بغیر کسی نقصان کے اسے پار کر گیا۔ آج Voyager 1 زمین سے تقریباً 15 ارب میل کی دوری پر موجود انسان کا بنایا ہوا واحد سب سے دور دراز آبجیکٹ ہے۔ یہ اس "آگ کی دیوار" کو عبور کر کے اب ستاروں کے درمیان کی پراسرار جگہ (Interstellar Space) میں سفر کر رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سرحد کے پار کیا چھپا ہے؟ شمسی ہواؤں کی حد ختم ہونے کے باوجود، وائجر ابھی نظامِ شمسی کی ثقلی حد سے باہر نہیں نکلا کیونکہ آگے کھربوں برفیلی چٹانوں اور دُم دار ستاروں کا ایک وسیع گھیراؤ موجود ہے جسے اورٹ کلاؤڈ (Oort Cloud) کہتے ہیں، اور اسے مکمل پار کرنے میں وائجر کو مزید 30,000 سال لگیں گے۔ اس اندھیرے اور منجمد کر دینے والے خطے میں، جہاں درجہ حرارت منفی 260 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہے، سورج کی روشنی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہاں اربوں سال پہلے پھٹنے والے ستاروں کا غبار، گیسیں اور طاقتور کائناتی شعاعیں تیر رہی ہیں۔ کائنات کے اس دور دراز اندھیرے میں سفر کرتا ہوا وائجر 1 آج بھی انسانی تجسس اور علم کی پیاس کی ایک شاندار علامت بن کر آگے بڑھ رہا ہے۔🛰️✨ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری شمسی سلطنت کے آخری کنارے پر ایک ایسی "دیوار" موجود ہے جس کا درجہ حرارت 17,000 سے 50,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے؟ پہلی نظر میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن یہ خلائی سائنس کی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ جب ناسا (NASA) کا تاریخی خلائی جہاز Voyager 1 زمین سے اربوں میل دور نظامِ شمسی کی آخری سرحد پر پہنچا، تو اس کا سامنا پلازما کے ایک ایسے خطے سے ہوا جو ناقابلِ یقین حد تک گرم تھا۔ سائنسی زبان میں اس گرم سرحدی خطے کو Heliosheath (شمسی غلاف کا بیرونی حصہ) کہا جاتا ہے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے سورج کی گرم ہوائیں باہر کی گہری اور ٹھنڈی کائنات کی ہواؤں سے ٹکراتی ہیں۔
If voyager sending back pics how much time does it take to reach to our world,???
2026-07-04 21:57:24
0
Shah Nawaz :
دوستو میں واجر ون کے اندر ہی بیٹھ کر جا رہا ہوں یہاں پر کوئی گرم دیوار نہیں ہے یہ سراسر جھوٹ ہے
2026-07-04 04:43:33
12
zabiullahrahman23 :
There is no oxygen in space so fire cannot burn there
2026-07-04 19:22:17
3
Nadir Minhas :
Voyager 1 k sath 1 or b khlai jha k kya jo iski b pic bna k zmeen p bhaij rha h sb beqwas h
2026-07-04 14:41:05
0
Akhtar Khan :
ap ko kasypata k agy Kya ha awr kasa ha.
2026-07-04 14:48:48
0
Inam Khan⚜️ :
Allah es universe Sy bhi bra hai.😳
2026-07-05 07:15:16
0
Abdulwahid :
😁😃😃😄
nasa or os ka jot dawi😂😁
2026-07-03 19:18:07
2
Sₐⱼᵢ𝚍 ₓₐⱼᵢ :
kya ye bat Nasa ko pta hai 😂😂😂
2026-07-03 23:13:12
3
khan1233 :
🤲♥️
2026-07-04 19:35:42
0
blackberry :
subhan
2026-07-05 05:30:06
0
IbrahimBilour34 :
"آگ کی دیوار" کہنا سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک تشبیہ ہے۔ حقیقت میں وہاں کوئی ٹھوس یا شعلوں والی دیوار موجود نہیں۔
2026-07-04 19:16:16
0
💞Ⓙ🅾🅺🅴Ⓡ💞 :
tumy kasy pata chala 😂😂😂
2026-07-04 22:01:16
0
sani.shaikh :
SubhanAlah Mera Allah ki sham hai Jo pori qaynat ka mailk hai
2026-07-03 22:26:26
0
CaنCeR 🦀 Gen-Z :
to dewaar k agy Kya
2026-07-04 17:12:38
0
ahmadjutt3396 :
ye Dewar zror ho gi warna khla ka temperature earth ko b freez kar day
2026-07-03 19:14:29
0
بشریٰ 🎀 :
Voyger 1 ko Itni heat main b kuch nhi howa ? Ajeeeb 😏
2026-07-04 03:17:50
0
فتح جنگ کا شہزادہ :
اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ "کیا Voyager 1 کو خلا میں کوئی گرم دیوار (hot wall) ملی؟" تو جواب ہے:
نہیں، کسی حقیقی "گرم دیوار" کا مشاہدہ نہیں ہوا۔
البتہ جب
2026-07-03 17:52:20
0
Mr khan9/11 :
magar bat ye k oske messag idhar kese phunchte hn
2026-07-04 04:51:31
0
درویش»»💔🇮🇷 :
Allah
2026-07-03 20:09:07
0
Adi k Baba :
ye Azan bhi wahan ho rhi ho gi
2026-07-03 22:55:39
0
Khalil Ahmad :
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ:
"شمسی نظام کے آخر میں آگ کی دیوار ہے۔"
"جیمز ویب یا ناسا نے آگ کی دیوار دریافت کی ہے۔"
یہ دعوے درست نہیں ہیں۔
ممکن ہے لوگ ان چیزوں کو "آگ کی دیوار" کہہ دیتے ہوں:
سورج کا کورونا (Corona): سورج کے گرد انتہائی گرم پلازما، لیکن یہ شمسی نظام کے کنارے پر نہیں بلکہ سورج کے اردگرد ہے۔
ہیلیوپاز (Heliopause): جہاں سورج کی شمسی ہوا بین النجمی خلا سے ملتی ہے۔ وہاں ذرات کی تعاملات ہوتی ہیں، مگر کوئی جلتی ہوئی آگ یا دیوار موجود نہیں۔
بعض تصاویر میں رنگوں کی مدد سے سائنسی ڈیٹا دکھایا جاتا ہے، جسے لوگ حقیقی "آگ" سمجھ لیتے ہیں۔
اس لیے موجودہ سائنسی معلومات کے مطابق شمسی نظام کے کنارے پر کوئی "آگ کی دیوار" موجود نہیں ہے۔
2026-07-05 07:40:30
0
Mr Abdullah 💞 :
😢😢😢
2026-07-05 02:26:57
0
Ijaz Ahmad :
💕💕💕
2026-07-04 03:48:11
0
Manzoor ALi NOhRii :
🥰🥰🥰
2026-07-04 03:27:03
0
تیمور شاہ ♥️ :
❤️❤️❤️
2026-07-04 07:15:38
0
To see more videos from user @knowledgetreasure009, please go to the Tikwm
homepage.