@ra_min96: One dress, three moods 💕🖤🌙 This flutter-sleeve midi is soft, flattering, and so easy to wear. The scoop neckline, comfy fit, flowy skirt, and pockets make it perfect for brunch, work, church, or weekend plans. Floral or solid… honestly, I want every color. #TikTokShop #MidiDress #FloralDress #BlackDress #SummerDress

GlowFit Closet
GlowFit Closet
Open In TikTok:
Region: US
Friday 03 July 2026 08:32:09 GMT
6
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ra_min96, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وہ صرف نوکری نہیں کرتی تھی... ہر روز اپنی عزت بھی بچاتی تھی! تحریر ۔۔ایم ایم آصف  صبح کی اذان کی آواز ابھی فضا میں گونج ہی رہی تھی کہ عائشہ اٹھ بیٹھی۔ اس نے وضو کیا، نماز پڑھی، پھر خاموشی سے کچن میں جا کر چولہا جلایا۔ بچوں کا ناشتہ، شوہر کا کھانا، بوڑھی ساس کی دوا... سب کچھ سمیٹتے سمیٹتے سورج کافی اوپر آ چکا تھا۔ وہ جلدی سے دوپٹہ سنبھالتی، بیگ اٹھاتی اور روزی کمانے کی نیت سے گھر سے نکل جاتی۔ اسد ایک نجی کمپنی میں معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بچوں کی اسکول فیس، گھر کا کرایہ اور بیمار ماں کی دواؤں نے گھر کا بجٹ بکھیر رکھا تھا۔ عائشہ نے نوکری شوق سے نہیں، بلکہ اپنے شوہر کا بوجھ بانٹنے اور گھر کی گرتی ہوئی دیواروں کو سنبھالنے کے لیے کی تھی۔ مگر اب ہر بار دفتر کے دروازے پر قدم رکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی، جیسے آج پھر کوئی نیا امتحان اس کا منتظر ہو۔ وہ جانتی تھی کہ خوش قسمتی سے ہر کام کی جگہ ایسی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر مرد ایک جیسا ہوتا ہے، مگر جہاں وہ کام کرتی تھی، وہاں کا ماحول اس کے لیے ایک ذہنی اذیت بن چکا تھا۔ دفتر کا وہ افسر بڑی نفسیاتی چالاکی سے وار کرتا تھا۔ ایک میٹنگ میں جب عائشہ کی تیار کی ہوئی رپورٹ کی تعریف ہوئی تو افسر نے سب کے سامنے طنزیہ مسکرا کر کہا:
وہ صرف نوکری نہیں کرتی تھی... ہر روز اپنی عزت بھی بچاتی تھی! تحریر ۔۔ایم ایم آصف صبح کی اذان کی آواز ابھی فضا میں گونج ہی رہی تھی کہ عائشہ اٹھ بیٹھی۔ اس نے وضو کیا، نماز پڑھی، پھر خاموشی سے کچن میں جا کر چولہا جلایا۔ بچوں کا ناشتہ، شوہر کا کھانا، بوڑھی ساس کی دوا... سب کچھ سمیٹتے سمیٹتے سورج کافی اوپر آ چکا تھا۔ وہ جلدی سے دوپٹہ سنبھالتی، بیگ اٹھاتی اور روزی کمانے کی نیت سے گھر سے نکل جاتی۔ اسد ایک نجی کمپنی میں معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بچوں کی اسکول فیس، گھر کا کرایہ اور بیمار ماں کی دواؤں نے گھر کا بجٹ بکھیر رکھا تھا۔ عائشہ نے نوکری شوق سے نہیں، بلکہ اپنے شوہر کا بوجھ بانٹنے اور گھر کی گرتی ہوئی دیواروں کو سنبھالنے کے لیے کی تھی۔ مگر اب ہر بار دفتر کے دروازے پر قدم رکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی، جیسے آج پھر کوئی نیا امتحان اس کا منتظر ہو۔ وہ جانتی تھی کہ خوش قسمتی سے ہر کام کی جگہ ایسی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر مرد ایک جیسا ہوتا ہے، مگر جہاں وہ کام کرتی تھی، وہاں کا ماحول اس کے لیے ایک ذہنی اذیت بن چکا تھا۔ دفتر کا وہ افسر بڑی نفسیاتی چالاکی سے وار کرتا تھا۔ ایک میٹنگ میں جب عائشہ کی تیار کی ہوئی رپورٹ کی تعریف ہوئی تو افسر نے سب کے سامنے طنزیہ مسکرا کر کہا: "آپ کو ترقی چاہیے تو صرف محنت کافی نہیں ہوتی عائشہ صاحبہ، کچھ تعلقات بھی بنانے پڑتے ہیں۔" پورا کمرہ خاموش تھا، مگر عائشہ کو یوں لگا جیسے کسی نے سب کے سامنے اس کی قابلیت کی توہین کر کے اسے برہنہ کر دیا ہو۔ ستم یہ تھا کہ یہ صرف اس ایک افسر کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ دفتر کا ماحول بھی زہریلا ہو چکا تھا۔ چند کلرک اس کے گزرتے ہی سرگوشیاں شروع کر دیتے۔ کوئی کہتا، 'آج تو بڑی تیاری سے آئی ہیں'، تو کوئی طنزاً ہنس دیتا۔ کچھ جونیئر ملازمین اس کی ہر کامیابی کو اس کی محنت کا نہیں، بلکہ اس کے عورت ہونے کا نتیجہ قرار دیتے۔ جب بھی اس کی کارکردگی کی تعریف ہوتی، دفتر میں ایک ہی جملہ گردش کرنے لگتا: "اتنی جلدی ترقی صرف محنت سے نہیں ملتی۔" یہ الزام عائشہ کے لیے کسی گالی سے کم نہ تھا۔ ہر شام وہ اپنی خودداری کا ایک ٹکڑا اسی دفتر کی راہداریوں میں چھوڑ آتی اور مجبوریوں کا بوجھ اٹھائے گھر لوٹتی۔ جب وہ گھر پہنچتی، تو چہرے پر چھپا خوف اور روح کی شکست دیکھ کر بیمار ساس اکثر تڑپ اٹھتیں اور کہتیں: "بیٹی! تم اتنی نڈھال کیوں ہو جاتی ہو؟ اگر ہمت نہیں پڑتی تو چھوڑ دو ایسی نوکری..." عائشہ ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی: "نہیں امی جی، بس تھوڑا کام کا بوجھ زیادہ تھا، میں بالکل ٹھیک ہوں۔" وہ بوڑھی ساس کو کیا بتاتی کہ لوگ سمجھتے ہیں وہ تنخواہ کمانے جاتی ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ ہر روز اپنی عزت بچا کر واپس آنے کی جنگ لڑتی تھی۔ گھر آ کر جب بچے خوشی سے اس کے گلے لگتے تو وہ زبردستی مسکرا دیتی، مگر پھر غسل خانے میں جا کر دروازہ بند کرتی اور پھوٹ پھوٹ کر روتی۔ ایک رات عائشہ کی سسکیاں اس کے شوہر، اسد سے چھپ نہ سکیں۔ اس نے اندھیرے میں آہستہ سے عائشہ کا کندھا ہلایا اور پوچھا: "عائشہ، آخر بات کیا ہے؟ کئی دنوں سے تم پہلے جیسی نہیں رہیں۔ مجھ سے اپنے دل کا بوجھ مت چھپاؤ۔" عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ برسوں کا ضبط جیسے لفظ بن گیا۔ وہ روتی گئی، اور اسد خاموشی سے اس کی ایک ایک بات سنتا رہا۔ اسد کی مٹھیاں بھینچ گئیں، مگر اس نے اپنے غصے پر قابو پایا۔ اس نے آگے بڑھ کر عائشہ کے آنسو پونچھے، اس کا ہاتھ تھاما اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: "تم نے نوکری مانگی ہے عائشہ، عزت کے ساتھ جینے کا حق مانگا ہے، اپنی خودداری کا سودا نہیں کیا۔ اب یہ جنگ تم اکیلی نہیں لڑو گی۔ اگر وہ شخص یا دفتر کا کوئی بھی ملازم پھر تمہاری عزت پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرے تو خاموش مت رہنا۔ ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرنا، آواز اٹھانا اور ضرورت پڑے تو اس کے خلاف مینیجمنٹ اور قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا۔ اس بار تم اکیلی نہیں ہو، تمہارے پیچھے تمہارا شوہر کھڑا ہے۔" شوہر کے ان الفاظ نے جیسے عائشہ کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ اس کے وجود کا سہمے جانا اب ایک عزم میں بدل چکا تھا۔ اگلی صبح جب اس نے آئینے میں خود کو دیکھا، تو آنکھوں میں سوجن تو تھی، مگر چہرے پر ایک عجیب سا حوصلہ اور چمک تھی۔ اس دن عائشہ صرف دفتر نہیں گئی تھی، وہ اپنی خاموشی کی زنجیریں توڑنے نکلی تھی... کیونکہ اس نے صرف نوکری مانگی تھی، خودداری نہیں بیچی تھی! خاموش رہنے والے ہمیشہ کمزور نہیں ہوتے، بعض اوقات ان کے کندھوں پر پورے گھر کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ — ا #trending #viral #foryou #fyp #unfrezzmyaccount

About