@aomute888: This 3-in-1 bathtub drain stopper offers water storage, rapid drainage, and effective filtration to prevent clogs. It’s designed with a removable basket for easy cleaning, ensuring your bath drains stay free from debris and hair. #BathtubDrainStopper #ClogPrevention #EasyMaintenance #BathroomUpgrade

AquaHome FreshBath
AquaHome FreshBath
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 04 July 2026 01:35:00 GMT
4543
3
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @aomute888, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ماں کے جانے کے بعد کا غم ماں… یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ پوری کائنات کا نام ہے۔ ماں وہ سایہ ہے جو دھوپ میں ٹھنڈک دیتا ہے، وہ دعا ہے جو خاموشی سے اولاد کے راستے آسان کرتی رہتی ہے، وہ ہاتھ ہے جو انسان کے گرنے سے پہلے اسے تھام لیتا ہے، اور وہ دل ہے جو اپنی اولاد کے لیے دھڑکتا ہے، چاہے اولاد اسے یاد کرے یا نہ کرے۔ لیکن جب یہی ماں اس دنیا سے چلی جاتی ہے تو انسان کے پاس الفاظ تو بہت ہوتے ہیں، مگر انہیں بیان کرنے کے لیے زبان ساتھ نہیں دیتی۔ آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، دل میں درد ہوتا ہے، سینے میں ایک عجیب سا بوجھ ہوتا ہے، مگر انسان سمجھ نہیں پاتا کہ آخر اس غم کو کس نام سے پکارے۔ ماں کے جانے کا غم شاید دنیا کا وہ غم ہے جسے وقت کم تو کر سکتا ہے، مگر ختم نہیں کر سکتا۔ ماں کے جانے کے بعد گھر وہی رہتا ہے، دیواریں وہی ہوتی ہیں، کمرے وہی ہوتے ہیں، دروازے وہی ہوتے ہیں، برتن وہی ہوتے ہیں، صحن بھی وہی ہوتا ہے… مگر گھر کی روح کہیں چلی جاتی ہے۔ وہ آواز نہیں رہتی جو دور سے پکارتی تھی، وہ انتظار نہیں رہتا جو دروازے پر آنکھیں بچھائے بیٹھا ہوتا تھا، وہ ہاتھ نہیں رہتے جو سر پر رکھ کر کہتے تھے:
ماں کے جانے کے بعد کا غم ماں… یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ پوری کائنات کا نام ہے۔ ماں وہ سایہ ہے جو دھوپ میں ٹھنڈک دیتا ہے، وہ دعا ہے جو خاموشی سے اولاد کے راستے آسان کرتی رہتی ہے، وہ ہاتھ ہے جو انسان کے گرنے سے پہلے اسے تھام لیتا ہے، اور وہ دل ہے جو اپنی اولاد کے لیے دھڑکتا ہے، چاہے اولاد اسے یاد کرے یا نہ کرے۔ لیکن جب یہی ماں اس دنیا سے چلی جاتی ہے تو انسان کے پاس الفاظ تو بہت ہوتے ہیں، مگر انہیں بیان کرنے کے لیے زبان ساتھ نہیں دیتی۔ آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، دل میں درد ہوتا ہے، سینے میں ایک عجیب سا بوجھ ہوتا ہے، مگر انسان سمجھ نہیں پاتا کہ آخر اس غم کو کس نام سے پکارے۔ ماں کے جانے کا غم شاید دنیا کا وہ غم ہے جسے وقت کم تو کر سکتا ہے، مگر ختم نہیں کر سکتا۔ ماں کے جانے کے بعد گھر وہی رہتا ہے، دیواریں وہی ہوتی ہیں، کمرے وہی ہوتے ہیں، دروازے وہی ہوتے ہیں، برتن وہی ہوتے ہیں، صحن بھی وہی ہوتا ہے… مگر گھر کی روح کہیں چلی جاتی ہے۔ وہ آواز نہیں رہتی جو دور سے پکارتی تھی، وہ انتظار نہیں رہتا جو دروازے پر آنکھیں بچھائے بیٹھا ہوتا تھا، وہ ہاتھ نہیں رہتے جو سر پر رکھ کر کہتے تھے: "اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔" پھر انسان گھر میں داخل تو ہوتا ہے، مگر دل چاہتا ہے کہ کوئی ایک بار پھر آواز دے۔ کبھی بے اختیار دل چاہتا ہے کہ ماں کے کمرے کا دروازہ کھولیں، شاید وہ اندر بیٹھی ہوں۔ شاید وہ مسکرا کر کہیں، "آ گئے بیٹا؟ کھانا کھاؤ گے؟" مگر دروازہ کھلتا ہے تو سامنے خاموشی ہوتی ہے۔ وہ خاموشی انسان کو اندر تک توڑ دیتی ہے۔ ماں کے جانے کے بعد سب سے زیادہ تکلیف شاید اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان کے پاس اپنی بات کہنے کے لیے وہ شخص نہیں رہتا جس کے سامنے وہ بغیر سوچے، بغیر جھجکے، اپنے دل کا ہر راز رکھ دیا کرتا تھا۔ دنیا میں بہت سے لوگ ملتے ہیں۔ دوست بھی ہوتے ہیں، رشتے دار بھی ہوتے ہیں، محبت کرنے والے بھی ہوتے ہیں، لیکن ماں جیسا کوئی نہیں ہوتا۔ ماں کے سامنے انسان اپنی کامیابیوں کا غرور بھی اتار دیتا ہے اور اپنی ناکامیوں کا دکھ بھی رکھ دیتا ہے۔ جب انسان تھک کر دنیا سے واپس آتا تھا تو ماں کا ایک جملہ ہی کافی ہوتا تھا: "فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔" اور عجیب بات یہ ہے کہ ماں کے یہ چند الفاظ واقعی انسان کو یقین دلا دیتے تھے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ماں کے جانے کے بعد جب زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے تو انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر وہ ایک جملہ نہیں ہوتا۔ تب سمجھ آتا ہے کہ ماں صرف گھر میں موجود ایک فرد نہیں تھی، بلکہ وہ ہمارے حوصلے کا دوسرا نام تھی۔ ماں کے جانے کے بعد خوشیاں بھی ادھوری لگتی ہیں۔ انسان ہنستا ہے، لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، باتیں کرتا ہے، کبھی کبھی مسکرا بھی دیتا ہے، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک خالی جگہ ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ کسی خوشی کے موقع پر اچانک خیال آتا ہے: "کاش آج ماں زندہ ہوتیں…" عید آتی ہے تو ماں یاد آتی ہے۔ گھر میں کوئی خوشی ہوتی ہے تو ماں یاد آتی ہے۔ بیماری میں ماں یاد آتی ہے۔ رات کو تنہائی میں ماں یاد آتی ہے۔ کبھی کسی کے ہاتھ میں ماں کا ہاتھ دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کبھی کسی کو اپنی ماں کے ساتھ ہنستے ہوئے دیکھ کر دل کے اندر ایک درد سا اٹھتا ہے۔ اور کبھی بازار میں کسی بوڑھی عورت کو دیکھ کر دل اچانک رک سا جاتا ہے کہ شاید یہ ماں جیسی لگتی ہیں۔ ماں کے جانے کے بعد انسان کو اپنی بہت سی غلطیاں یاد آتی ہیں۔ وہ دن یاد آتے ہیں جب ماں آواز دیتی رہی اور ہم مصروف رہے۔ وہ لمحے یاد آتے ہیں جب ماں بات کرنا چاہتی تھی اور ہم نے کہا: "ابھی نہیں، بعد میں بات کرتا ہوں۔" وہ وقت یاد آتا ہے جب ماں ہمارے انتظار میں جاگتی رہی اور ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ اس کی آنکھیں دروازے پر لگی ہوئی ہیں۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ انسان کے پاس "بعد میں" نہیں رہتا۔ ماں چلی جاتی ہے۔ اور انسان ساری عمر اس ایک لفظ کے ساتھ زندہ رہتا ہے: کاش… کاش میں اس دن ماں کے پاس بیٹھ جاتا۔ کاش میں اس کی بات تھوڑی دیر اور سن لیتا۔ کاش میں اس کے ہاتھ چوم لیتا۔ کاش میں اسے گلے لگا کر کہہ دیتا: "ماں! میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔" لیکن زندگی میں کچھ "کاش" ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ ماں کے جانے کے بعد قبرستان کا راستہ بھی عجیب لگتا ہے۔ انسان اپنی ماں کی قبر کے پاس بیٹھتا ہے، مٹی کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ جس ہستی نے ہمیں اپنی گود میں جگہ دی، آج ہم اسے مٹھی بھر مٹی کے نیچے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انسان قبر کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا ہے۔ شاید جواب نہ آئے، مگر دل پھر بھی بولتا رہتا ہے۔ "ماں، آپ کہاں چلی گئیں؟ دیکھیں، میں آ گیا ہوں۔ آپ ہمیشہ کہتی تھیں نا کہ اپنا خیال رکھا کرو… اب آپ ہی نہیں ہیں تو اپنا خیال کون رکھے گا؟" کبھی کبھی انسان قبر سے اٹھتے ہوئے دل میں یہ خواہش لے کر واپس آتا ہے کہ کاش ایک لمحے کے لیے ماں واپس آ جائے۔ #rabiulawalmubarak #ammi

About