@sadiathoughts: حرف معتبر ): "خریدنے کا فن" اور "بیچنے کا چلن" اکثر لوگ کہتے ہیں کہ "لوگ دھوکہ دیتے ہیں"۔ میں کہتی ہوں، نہیں! دھوکہ تو وہ ہے جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ایک حقیقت ہو اور پیچھے سے کوئی اور۔ دھوکہ ایک مختصر مدت کی چیز ہے۔ لیکن جو یہاں بات ہے، وہ دھوکے سے زیادہ گہری ہے—وہ ہے 'خریداری' کا فلسفہ۔ اس اداس، دُھندلے سمندر کے کنارے تنہا چلتے ہوئے، جہاں لہریں مسلسل کنارے سے ٹکرا کر ٹوٹ رہی ہیں، مجھے یہی لگتا ہے کہ جیسے ہم سب کی زندگیاں اس کنارے کی طرح ہیں۔ ہم تعلقات بناتے ہیں، کسی کو اپنی دنیا مان لیتے ہیں، اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں، اور پھر؟ پھر وہ ایک دن خرید لیا جاتا ہے۔ ہم دھوکہ نہیں کھاتے، ہم تو "خرید" لیے جاتے ہیں۔ جب کوئی آپ کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے، اپنی وفاداری کی قیمت لگاتا ہے، یا کسی بھی شکل میں—پیسے کے لیے، شہرت کے لیے، کسی اور کے لیے—اپنے اصولوں کو بیچتا ہے، تو وہ آپ کو نہیں بیچ رہا ہوتا، وہ اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے۔ اور آپ؟ آپ صرف ایک خاموش تماشائی رہ جاتے ہیں، جس نے سوچا تھا کہ آپ ایک تعلق کا حصہ ہیں، جب کہ آپ صرف ایک ڈیل کا حصہ تھے۔ یہ جو لوگ بکتے ہیں، وہ کسی مارکیٹ میں نہیں کھڑے ہوتے۔ وہ آپ کی محبت کی خرید و فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی وفاداری کی قیمت کا اندازہ لگا رہے ہوتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، بغیر آپ کو بتائے، اپنے لیے ایک بہتر خریدار تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی زیادہ قیمت (چاہے وہ جذباتی، مادی، یا کوئی اور ہو) پیش کرتا ہے، تو وہ بِک جاتے ہیں۔ آپ سے "خرید" کر کسی اور کو "بیچ" دیے جاتے ہیں۔ یہ اداس سمندر، یہ دھند، یہ تنہائی... یہ سب کچھ گواہ ہے کہ کس طرح ہم سب ایک بے رحم مارکیٹ کا حصہ بن گئے ہیں، جہاں انسان کی قیمت اس کے احساسات سے نہیں، بلکہ اس کی افادیت سے لگائی جاتی ہے۔ اور ہم سب، جو اس مارکیٹ کے قوانین سے ناواقف ہیں، بس ایک ایسی چیز کی طرح ہیں جسے خریدا اور بیچا جاتا ہے، جب تک کہ ہم خود اس مارکیٹ کا حصہ نہیں بن جاتے۔ لوگ دھوکہ نہیں دیتے، لوگ بکتے ہیں۔ اور ہم سب، جو اس فروخت کا حصہ ہیں، بس اس کا افسوس ہی منا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تکلیف دہ سچائی ہے جس سے کوئی فرار نہیں، اور یہ وہیں، اس سمندر کے کنارے، لہروں کے ساتھ گونج رہی ہے: "سب کچھ فروخت کے لیے ہے۔" انت الحیات . . . . . . . . . . #UrduPoetry#Poetrytok#Shayari #SadPoetry#HeartToching