@ottomanempire916: سلطنتِ سلجوقیہ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ سلطنت گیارہویں صدی میں وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اوغوز ترکوں نے قائم کی۔ سلجوقیوں نے نہ صرف ایک وسیع سلطنت قائم کی بلکہ اسلامی دنیا میں سیاسی استحکام، سنی اسلام کے فروغ، علم و ثقافت کی ترقی اور فوجی طاقت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی فتوحات نے مشرقِ وسطیٰ، ایران، عراق، شام اور اناطولیہ (موجودہ ترکی) کی تاریخ کا رخ بدل دیا، اور بعد میں عثمانی سلطنت کے قیام کی بنیاد بھی فراہم کی۔ آغاز اور نسب سلجوقی خاندان کا نام سلجوق بیگ کے نام پر رکھا گیا، جو اوغوز ترکوں کی قنیق (Kınık) شاخ کے سردار تھے۔ یہ قبائل ابتدا میں دریائے سیحون (Syr Darya) کے شمالی علاقوں میں آباد تھے اور خانہ بدوش زندگی گزارتے تھے۔ دسویں صدی میں سلجوق بیگ نے اسلام قبول کیا، جس کے بعد ان کی اولاد نے اسلامی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ سلطنت کا قیام سلجوقیوں کی اصل طاقت طغرل بیگ اور چغری بیگ کے دور میں ابھری۔ 1040ء میں جنگِ دندانقان میں انہوں نے غزنوی سلطان مسعود کو شکست دی اور خراسان پر قبضہ کر لیا۔ یہی فتح عظیم سلجوقی سلطنت کے قیام کا نقطۂ آغاز بنی۔ 1055ء میں طغرل بیگ بغداد میں داخل ہوئے، جہاں عباسی خلیفہ نے انہیں سلطان کا لقب دیا۔ اس کے بعد عباسی خلافت کی مذہبی حیثیت برقرار رہی جبکہ سیاسی اور فوجی اختیار سلجوقیوں کے ہاتھ میں آگیا۔ سلطان طغرل بیگ (1037–1063ء) طغرل بیگ سلطنتِ سلجوقیہ کے حقیقی بانی تھے۔ انہوں نے: غزنویوں کو شکست دی۔ ایران اور عراق فتح کیے۔ بغداد کو آلِ بویہ کے قبضے سے آزاد کرایا۔ عباسی خلافت کو دوبارہ مضبوط کیا۔ سنی اسلام کی سرپرستی کی۔ سلطان الپ ارسلان (1063–1072ء) طغرل بیگ کے بعد ان کے بھتیجے الپ ارسلان سلطان بنے۔ وہ تاریخ کے عظیم ترین جرنیلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی 1071ء کی جنگِ ملازگرد (Manzikert) تھی، جس میں انہوں نے بازنطینی شہنشاہ رومانوس چہارم کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ اس فتح کے اہم نتائج: اناطولیہ ترکوں کے لیے کھل گیا۔ بازنطینی سلطنت شدید کمزور ہوگئی۔ بعد میں سلطنتِ رومِ سلجوقی اور پھر عثمانی سلطنت وجود میں آئی۔ ترک تہذیب اور اسلام اناطولیہ میں مضبوط ہوئے۔ سلطان ملک شاہ اول (1072–1092ء) ملک شاہ اول کے دور کو سلطنتِ سلجوقیہ کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانے میں سلطنت اپنی سب سے بڑی وسعت تک پہنچی۔ اس میں ایران، عراق، شام، آرمینیا، وسطی ایشیا اور اناطولیہ کے وسیع علاقے شامل تھے۔ ان کے دور میں: امن و امان قائم ہوا۔ تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ زراعت ترقی یافتہ ہوئی۔ بڑے شہر آباد ہوئے۔ مدارس، مساجد، پل اور سرائیں تعمیر ہوئیں۔ نظام الملک سلطان ملک شاہ کے مشہور وزیر خواجہ نظام الملک طوسی اسلامی تاریخ کے عظیم ترین منتظمین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات: بہترین انتظامی نظام قائم کیا۔ اقطاع (Iqta) نظام کو منظم کیا۔ نظامیہ مدارس قائم کیے۔ علماء اور طلبہ کی سرپرستی کی۔ مشہور کتاب سیاست نامہ تصنیف کی۔ نظامیہ مدارس نے امام غزالی جیسے عظیم علماء پیدا کیے۔ فوجی نظام سلجوقی فوج اپنی برق رفتار گھڑسوار فوج کے لیے مشہور تھی۔ فوج کی خصوصیات: ماہر تیر انداز گھڑ سوار۔ بھاری گھڑسوار دستے۔ غلام فوج (ممالیک)۔ قبائلی ترک سپاہ۔ مضبوط فوجی نظم و ضبط۔ ان کی جنگی حکمت عملی نے انہیں اپنے زمانے کی طاقتور ترین افواج میں شامل کر دیا۔ #ottmanempire🇹🇷 #osmanlıtorunu #osmanl #seljuk #creatorsearchinsights