@tatisize:

ТАТИ
ТАТИ
Open In TikTok:
Region: KZ
Friday 03 July 2026 14:34:49 GMT
21736
560
13
6

Music

Download

Comments

holazzzl
холази :
где актив?
2026-07-03 14:42:35
11
far_u018
editor228 :
4
2026-07-03 14:38:05
0
user8459909750137
огненное влечение ❤️‍🩹 :
2
2026-07-03 14:36:52
0
sergeyignatenko19
тгк. суета родная :
я первый лайк поставил
2026-07-03 14:40:52
0
poliiiiiii6777
^^. :
ПЕРВАЯ , 56 СЕК НАЗАД
2026-07-03 14:36:02
1
lizavetta760
Lizavetta • :
8
2026-07-03 14:37:09
0
undervoice222
UNDERVOICE :
Впервые одетой вижу
2026-07-04 19:48:23
4
mama1976lizz2012
★ Lyalka ★ :
🔥
2026-07-03 19:03:23
0
To see more videos from user @tatisize, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی کبھی اندر کا شور اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ باہر کی دنیا کو کچھ سنائی ہی نہیں دیتا۔ ہم روز تھوڑا تھوڑا ٹوٹتے ہیں، روز اندر ہی اندر کسی گہری خاموشی میں دھنستے چلے جاتے ہیں، اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ لوگ سمجھتے ہیں ہم ٹھیک ہیں، کیونکہ ہم مسکرانا نہیں چھوڑتے، لیکن کوئی اس مسکرائے ہوئے چہرے کے پیچھے چھپی ویرانی کو نہیں دیکھ پاتا۔ احساسات کا یہ گلا گھٹنا، اور تنہائی کا یہ زہر جو چپ چاپ رگوں میں اترتا رہتا ہے، روح کو اندر تک جھلسا دیتا ہے۔ اور پھر ایک دن، جب جسم اس اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا بوجھ مزید نہیں اٹھا پاتا، تو وہ جواب دے دیتا ہے۔ لوگ آتے ہیں، نبض دیکھتے ہیں، رپورٹس نکالتے ہیں اور اس پورے کرب کو ایک نام دے دیتے ہیں—کوئی بیماری، کوئی ایسی وجہ جو ان کی عقل میں آ سکے۔ کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ جسم تو بہت بعد میں ہارا، اصل میں تو روح بہت پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ یہ دکھ کہیں باہر نہیں جاتے، یہ اندر ہی رہتے ہیں، گھن کی طرح ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں، اور آخر میں دنیا ہماری اس پوری زندگی کی بربادی کو محض ایک لاعلاج مرض لکھ کر فائل بند کر دیتی ہے۔
کبھی کبھی اندر کا شور اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ باہر کی دنیا کو کچھ سنائی ہی نہیں دیتا۔ ہم روز تھوڑا تھوڑا ٹوٹتے ہیں، روز اندر ہی اندر کسی گہری خاموشی میں دھنستے چلے جاتے ہیں، اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ لوگ سمجھتے ہیں ہم ٹھیک ہیں، کیونکہ ہم مسکرانا نہیں چھوڑتے، لیکن کوئی اس مسکرائے ہوئے چہرے کے پیچھے چھپی ویرانی کو نہیں دیکھ پاتا۔ احساسات کا یہ گلا گھٹنا، اور تنہائی کا یہ زہر جو چپ چاپ رگوں میں اترتا رہتا ہے، روح کو اندر تک جھلسا دیتا ہے۔ اور پھر ایک دن، جب جسم اس اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا بوجھ مزید نہیں اٹھا پاتا، تو وہ جواب دے دیتا ہے۔ لوگ آتے ہیں، نبض دیکھتے ہیں، رپورٹس نکالتے ہیں اور اس پورے کرب کو ایک نام دے دیتے ہیں—کوئی بیماری، کوئی ایسی وجہ جو ان کی عقل میں آ سکے۔ کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ جسم تو بہت بعد میں ہارا، اصل میں تو روح بہت پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ یہ دکھ کہیں باہر نہیں جاتے، یہ اندر ہی رہتے ہیں، گھن کی طرح ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں، اور آخر میں دنیا ہماری اس پوری زندگی کی بربادی کو محض ایک لاعلاج مرض لکھ کر فائل بند کر دیتی ہے۔"

About