@allamaiqqbal: معانی اور مطلب👇 غزل پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن بالِ جبریل اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن مطلب: اس شعر میں اقبال انسان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تو میری بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں تو اپنے باطن میں جھانک کر ہی زندگی کی حقیقتوں کا ادراک کر لے کہ زندگی اپنی تمام تر حقیقتوں کے ساتھ انسان کے باطن میں پوشیدہ رہتی ہے اور انسان کو اس حقیقت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے ۔ پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن مطلب: اپنی بات کو تمام کرتے ہوئے نظم کے اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ اس ضمن میں مجھے تو ایک مرد قلندر کا قول شرمسار کر گیا کہ اپنی خودی کو چھوڑ کر اگر تو کسی کے روبرو جھک گیا تو جان لے کہ تیرے پاس نہ تو روحانی سکون کی دولت باقی رہے گی نا ہی دوسرے مادی فوائد برقرار رہیں گے ۔ . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqbal #urdupoetry #poetry #shayari #rekhta