@feedii381: اور ہم ٹھہرے بعد والے لوگ۔ وہ لوگ جن کے نصیب میں ،ہر خوشی سے پہلے صبر ،ہر دعا سے پہلے انتظار اور ہر منزل سے پہلے آزمائش لکھی جاتی ہے۔ مگر ہمیں اس "بعد" سے ...شکایت نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ،اللّٰہ کی عطا کبھی جلدی نہیں ہوتی بلکہ بہترین وقت پر ہوتی ہے۔ آخرکار حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھی حضرت یوسُف علیہ السلام برسوں بعد ملے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی طور کے پہاڑ پر اللّٰہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی عظیم سعادت طویل سفر اور بے شمار آزمائشوں کے بعد نصیب ہوئی۔ پھر اگر ہماری دعائیں ،آج تکمیل سے دور ہیں تو شاید اس لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں ایک ایسے وقت کے لیے سنبھالے ہوئے ہے ،جہاں ان کی خوشی بھی مکمل ہوگی ،اور ہماری روح بھی مطمئن ہو جائے گی۔ ...اس لیے اے دل وقت کی تاخیر سے نہ گھبرا۔ کبھی کبھی اللّٰہ تعالیٰ انسان کو ،دیر سے نہیں نوازتا ،بلکہ پہلے اسے صبر سکھاتا ہے ،اس کے یقین کو مضبوط کرتا ہے پھر ایسی عطا دیتا ہے جو برسوں کی ہر محرومی کا مداوا بن جاتی ہے۔ ...یاد رکھیں جس رب نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسُف علیہ السلام ،سے ملا دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ،طور پر اپنی قربت عطا فرمائی وہی رب تمہاری دعاؤں کے لیے بھی بہترین وقت کا انتخاب کر چکا ہے۔ ،بس یقین صبر ...اور دعا کا دامن تھامے رکھو کیونکہ بعض عطائیں صرف "بعد" والوں کے نصیب میں لکھی جاتی ہیں۔ 🤍