@samamayasir: وقت کی آخری دہلیز پر پہنچ کر انسان کو بہت سی حقیقتیں خاموشی سے سمجھ آتی ہیں۔ ان میں سب سے گہری حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دنیا کی ہر رفاقت، ہر تعلق اور ہر ساتھ اپنی جگہ اہم ضرور ہے، مگر سب سے زیادہ پائیدار رفاقت اپنی ذات کے ساتھ ہوتی ہے۔ لوگ آتے ہیں، کچھ دیر ساتھ چلتے ہیں، پھر حالات، فاصلے یا وقت انہیں اپنی اپنی راہوں پر لے جاتے ہیں۔ لیکن ایک ہستی ایسی ہے جو ہر خوشی، ہر شکست، ہر آزمائش اور ہر تنہائی میں ہمارے ساتھ رہتی ہے، اور وہ ہماری اپنی ذات ہے۔۔ وقت سکھا دیتا ہے کہ ہر تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، ہر وعدہ نبھایا نہیں جاتا، اور ہر امید پوری نہیں ہوتی۔ مگر اگر انسان اپنی ذات کا ساتھ دینا سیکھ لے تو وہ ٹوٹ کر بھی سنبھل جاتا ہے، بکھر کر بھی خود کو سمیٹ لیتا ہے، اور اندھیروں میں بھی اپنے لیے روشنی تلاش کر لیتا ہے۔ آخرکار زندگی کا سب سے مضبوط سہارا وہ انسان بنتا ہے جو آئینے میں نظر آتا ہے۔ اس لیے اپنی ذات سے دوستی کیجیے، اپنے دل کی آواز سنیے، اپنی روح کو سکون دیجیے، کیونکہ وقت کی آخری دہلیز پر پہنچ کر یہی احساس سب سے زیادہ واضح ہوتا ہے کہ سب سے پائیدار، سب سے سچا اور سب سے وفادار ساتھ اپنی ذات کا ہی ہوتا ہے