@iqra.magazine: منزل مجھے ملی کسی مٹتے سراغ سے سورج تلاش کرلیا بجھتے چراغ سے دھبوں کے باوجود بڑھے پگڑیوں کے دام آنچل کا بھاؤ گر گیا بس ایک داغ سے چھاؤں تو دے سَکوں گا مگر پھول پھل نہیں صحرا کا پیڑ ہوں مجھے جانے دے باغ سے یہ میں ہی جانتا ہوں کہ دل کی منڈیر پر کس طرح پیش آئی ہوائیں چراغ سے اک گرم جوش دل اسے لے کر چلا گیا ہم کام لیتے رہ گئے ٹھنڈے دماغ سے احمد عبداللّٰہ