@simple_boy_911: آج کے دور میں شادیاں اور گھر بسانے کا معاملہ بہت نازک ہو چکا ہے۔ لوگ طلاق کی شرح بڑھنے پر افسوس کرتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، مگر اصل جڑ کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ آج بہت سی طلاقوں کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ لڑکی کی اپنی ماں (اور مائیکے والوں) کا ہوتا ہے — نہ کوئی ایکسٹرا مریٹل افیئر، نہ جہیز کا لالچ، نہ مارپیٹ۔ بس ایک مسلسل، چھوٹا چھوٹا، زہریلا دخل جو گھر کو تباہ کر دیتا ہے۔ ماں بنام سسرال شادی سے پہلے لڑکی کو "پرنسس" بنا کر پالا جاتا ہے۔ شادی کے فوراً بعد وہ "پرنسس" اپنے سسرال میں داخل ہوتی ہے، مگر اس کا دل و دماغ اب بھی مائیکے میں بندھا رہتا ہے۔ ساس-سسر، دیور-جٹھانی سب اجنبی لگتے ہیں۔ شوہر بھی آہستہ آہستہ "ہوسٹ" لگنے لگتا ہے۔ گھر نہیں، ہوٹل لگتا ہے — کھانا کھاؤ، سو جاؤ، اور جب مرضی ہو مائیکے بھاگ جاؤ۔ اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ شادی "بیڈ روم" سے نہیں بلکہ "فون کالز" اور "واٹس ایپ" سے چلتی ہے۔ بیٹی سسرال میں کیا کھا رہی ہے، کیا پہن رہی ہے، ساس نے کیا کہا، شوہر نے کیا کیا — یہ سب ماں، بڑی بہن، چھوٹی بہن روزانہ طے کرتی ہیں۔ لڑکی کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ شوہر سے کیسے بات کرنی ہے اور کب "ماں کو بتا دو" کہنا ہے۔ اسلامی تعلیم: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: اور تم میں سے جو مرد مومن عورتوں سے شادی کریں..."" (سورۃ النساء)۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے سجدہ کرے۔"" (ترمذی، ابن ماجہ)۔ یعنی شوہر کی اطاعت (جائز امور میں) عورت کا اہم دینی فریضہ ہے۔ مائیکے والوں کا مسلسل دخل، شوہر کی بات کو نظر انداز کرنا، اور ہر بات ماں کو بتانا یہ اطاعت اور گھریلو ہم آہنگی کو توڑتا ہے۔ وفاداری کہاں ہے؟ شادی کے بعد لڑکی کا گھر سسرال ہوتا ہے۔ مگر اس کی وفاداری، ذہن اور ترجیحات اب بھی مائیکے میں رہ جاتی ہیں۔ بہت کم لڑکیاں ہوتی ہیں جو ساس-سسر کو اپنے والدین کی طرح مان لیتی ہیں۔ شوہر کی خدمت اور اس کی ضروریات کا خیال رکھنا بوجھ بن جاتا ہے۔ چھوٹی سی بات پر "میں ماں کے گھر جا رہی ہوں" کی دھمکی عام ہو گئی ہے۔ اسلامی تعلیم: نبی ﷺ نے فرمایا: عورت پر تین شخصوں کا حق سب سے زیادہ ہے: شوہر، ماں، باپ اور پھر دوسرے رشتہ دار۔"" مگر شادی کے بعد شوہر کا حق سب سے اوپر آ جاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب ایک عورت نے اپنے والدین کی خدمت کی اجازت مانگی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ شوہر کی خدمت اس کی جنت کا راستہ ہے۔ جس رشتے میں مائیکے والوں کا مسلسل دخل ہو، وہ رشتہ کبھی مستحکم نہیں رہ سکتا۔ مائیکے والے "حمایت" کے نام پر فتنہ ڈالتے ہیں، جبکہ اسلام فتنہ ڈالنے سے منع کرتا ہے۔ تربیت کی ناکامی یہ سب لڑکی کا قصور نہیں۔ وہ وہی کر رہی ہے جو اسے سکھایا گیا۔ اصل قصور والدین (خاص طور پر ماں) کا ہے۔ اگر ماں خود "گھر بسانے" کی تربیت دیتی تو بیٹی بھی ویسا ہی کرتی۔ مگر آج بہت سی مائیں بیٹی کو یہ سکھاتی ہیں کہ "تمہارا گھر وہی ہے جہاں تم پیدا ہوئی ہو"، "سسرال والے تمہارے نہیں"۔ اسلامی تعلیم: والدین کا بیٹی کی تربیت میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہے کہ وہ اسے دین کی روشنی میں گھر بسانا سکھائیں۔ اللہ نے شادی کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ بنایا ہے (سورۃ الروم ۳۰:۲۱)۔ اگر ماں بیٹی کو سسرال میں فتنہ ڈالنے کی تربیت دے گی تو وہ خود قیامت کے دن جواب دہ ہو گی۔ حل — اسلامی نقطہ نظر سے بیٹیوں کی شادی کرتے وقت انہیں یہ سبق ضرور دیں: شادی کے بعد تمہارا اصلی گھر سسرال ہے — اسے اپنا بناؤ۔ (اسلام میں عورت کا گھر شوہر کا گھر ہوتا ہے)۔ ہر چھوٹی بات مائیکے میں لے جانے کی بجائے شوہر سے بات کرو اور صبر کرو۔ ساس-سسر کا احترام کرو، انہیں اپنے والدین کی طرح مانو — یہ اللہ اور رسول ﷺ کا حکم ہے۔ فون کالز کنٹرول میں رکھو۔ روزانہ گھنٹوں مائیکے سے بات کرنا شوہر، سسرال اور اپنے گھر کے لیے زہر ہے۔ گھر بسانا سیکھو، گھر توڑنا نہیں۔ شوہر کی خدمت، اس کی رضا اور گھریلو ذمہ داریاں ادا کرو — یہ تمہاری دینی ذمہ داری ہے۔ مائیکے والوں کو بھی سمجھاؤ کہ بیٹی کی خوشی سسرال میں ہے۔ بیٹی کی حمایت کا نام "شوہر کے خلاف سازش" نہیں ہونا چاہیے۔ ماں باپ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹی کی زندگی برباد کرنے والا عمل قیامت میں ان کے گلے کا طوق بن سکتا ہے۔ آخری بات: یہ بات کڑوی ہے مگر حقیقت ہے۔ جب تک مائیکے والے "ریموٹ کنٹرول" چلاتے رہیں گے، گھر ٹوٹتے رہیں گے۔ شادی اللہ کا رکھا ہوا پاک بندھن ہے۔ اسے پرانے رشتوں کی زنجیروں میں جکڑ کر کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔ بیٹیوں کو گھر بسانا سکھائیں، #simple_boy_is_back🤟🏻🤟🏻🤟🏻 #foryoupage❤️❤️ #ali #munafikon_sy_door_hun😎 #alone #bewafa💔 #tanhai_ka_badshah #simple_boy911🤟🏻🤟🏻 #rishty