@user2942627791603: Leopard Letter A-Z Duvet Cover Set, Wild Animal Print Bedding with Pillowcases, Soft Microfiber, Safari Theme, Perfect Gift for Adults #7piececomforterset #7piecebeddingset #oversizedcomforter #pillowcovers #targetchristmasbedding #bedsurecomforterset #leopardblanket #queenbedding #animalprintdecor #loveshackfancybedding

user2942627791603
user2942627791603
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 04 July 2026 01:05:07 GMT
292
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user2942627791603, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) — شیرِ کارگل آج 5 جولائی ایک بہادر، غیرت مند جوان کا یومِ شہادت ہے — جس نے اپنی جان وطن کے لیے قربان کر دی۔ پاکستان کے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی، تحصیل رزڑ، نواں کلے (جو آج کرنل شیر کلے کے نام سے مشہور ہے) سے تعلق رکھنے والے یوسفزئی قبیلے کے بہادر بیٹے — کیپٹن کرنل شیر خان شہید۔ وہ پہلے پشتون فوجی ہیں جنہیں بہادری کے اعتراف میں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر ملا۔ کارگل جنگ کے دوران، 17 ہزار فٹ کی بلند چوٹیوں پر، اپنے صرف پانچ ساتھیوں کے ساتھ نامساعد حالات میں بھی انہوں نے دشمن کی بھاری فوج کا سامنا کیا۔ محدود وسائل اور شدید حملوں کے باوجود انہوں نے دشمن کے چھکے چھڑا دیے۔ حضرت حسینؓ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے، انہوں نے سر جھکانے سے زیادہ میدانِ جنگ میں سر کٹانے کو ترجیح دی۔ جب دشمن نے انہیں گھیر لیا تو بھی وہ لڑتے رہے — یہاں تک کہ شہادت کا جام نوش کر لیا۔ بھارتی بریگیڈیئر ایم پی ایس باجوہ سمیت انڈین فوجی افسران نے خود ان کی بہادری کا اعتراف کیا۔ انہوں نے ان کی لاش کے ساتھ نوٹ لکھ کر بھیجا کہ
کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) — شیرِ کارگل آج 5 جولائی ایک بہادر، غیرت مند جوان کا یومِ شہادت ہے — جس نے اپنی جان وطن کے لیے قربان کر دی۔ پاکستان کے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی، تحصیل رزڑ، نواں کلے (جو آج کرنل شیر کلے کے نام سے مشہور ہے) سے تعلق رکھنے والے یوسفزئی قبیلے کے بہادر بیٹے — کیپٹن کرنل شیر خان شہید۔ وہ پہلے پشتون فوجی ہیں جنہیں بہادری کے اعتراف میں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر ملا۔ کارگل جنگ کے دوران، 17 ہزار فٹ کی بلند چوٹیوں پر، اپنے صرف پانچ ساتھیوں کے ساتھ نامساعد حالات میں بھی انہوں نے دشمن کی بھاری فوج کا سامنا کیا۔ محدود وسائل اور شدید حملوں کے باوجود انہوں نے دشمن کے چھکے چھڑا دیے۔ حضرت حسینؓ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے، انہوں نے سر جھکانے سے زیادہ میدانِ جنگ میں سر کٹانے کو ترجیح دی۔ جب دشمن نے انہیں گھیر لیا تو بھی وہ لڑتے رہے — یہاں تک کہ شہادت کا جام نوش کر لیا۔ بھارتی بریگیڈیئر ایم پی ایس باجوہ سمیت انڈین فوجی افسران نے خود ان کی بہادری کا اعتراف کیا۔ انہوں نے ان کی لاش کے ساتھ نوٹ لکھ کر بھیجا کہ "یہ افسر بہت بہادری سے لڑا، اسے اعلیٰ اعزاز دیا جائے۔" بعد از شہادت پاکستان نے بھی ان کے جری اقدام کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں نشانِ حیدر سے نوازا۔ بطور پختون، بطور صوابی والا — ہم کرنل شیر خان شہید کی اس لازوال بہادری پر سر اٹھا کر فخر کرتے ہیں۔ آپ نے نہ صرف وطن کی حفاظت کی، بلکہ پختون غیرت اور پاکستانی جوش کی ایک نئی مثال قائم کی۔ کرنل شیر خان شہید کا مزار صوابی کے کرنل شیر کلے میں صوابی-مردان روڈ پر واقع ہے۔ وہاں آپ ان کی یادگار تصاویر، وردی، موٹر سائیکل، بندوق اور دیگر ذاتی اشیاء دیکھ سکتے ہیں۔ اگر دل چاہے تو ضرور جائیں، ان کے مزار پر فاتحہ پڑھیں اور ان کی قربانی کو یاد کریں۔ کرنل شیر خان شہید! آپ جسدِ خاک سے رخصت ہو گئے، مگر آپ کی روح، آپ کی بہادری اور آپ کا نام آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ آپ زندہ ہیں، اور ہم آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ شیرِ کارگل — نشانِ حیدر ـ آپ صوابی کے اور تحصیل رزڑ کے فحر ہے۔ ✍️: مستقیم شاہ باچہ ایڈیٹر کڑہ مار ٹی وی

About