@emihernandezpereyra: ¿TAN SOBRADO ESTÁ ARGENTINA? 🤨🇦🇷 #futbol #uruguay #argentina #mundial #messi

EMI
EMI
Open In TikTok:
Region: UY
Saturday 04 July 2026 01:32:55 GMT
39689
3178
586
18

Music

Download

Comments

elpomberodejujuy
elpomberodejujuy :
necesitabamos un partido asi para apoyar los pies sobre la tierra y mejorar
2026-07-04 02:11:18
396
pame.arratia
pame :
Uruguay le ganó a Cabo Verde?
2026-07-04 01:56:41
62
solaticmlbb
Solatic :
la última vez que me sentí así fue en la final de 2022
2026-07-04 01:40:47
355
karina.aleja7
Karito 🍒 :
Uruguay no pudo, España no pudo pero Argentina si Sigan poniendo en duda a la campeona🤷🏻‍♀️
2026-07-04 02:03:38
31
mariemusa1
Mariela Musa :
Le ganamos al que no le pudo ganar España y a Uruguay.
2026-07-04 02:03:14
85
mauroroche
Mauro :
hay q modificar el medio
2026-07-04 01:39:39
158
pachpach7
Paaaach :
Le quitas mucho mérito a Cabo Verde, puede que Argentina tenga cosas por mejorar pero Cabo Verde no fue inferior e hizo un MUY buen partido
2026-07-04 01:52:20
32
matiasvp94
Mario Matias651 :
le pegamos un baile 110 minutos solo llegaron 3 veces e hicieron 2 goles basta de exagerar si casi todo el partido los 11 de ellos estuvieron metidos en el arco
2026-07-04 01:43:27
26
scalonetacatari
campeon mundialistico :
que cabo verde es mas grande que uruguay
2026-07-04 01:42:32
53
hugo73914
hugo :
felicitaciones a cabo verde..no creo q tengamos otro rival tan duro..es inferior .pero madie le gano antes
2026-07-04 01:39:09
26
renzovannucci
Renzo Vannucci :
no es que argentina no esté sobrado, fue un partido MUY difícil le hubiese costado a cualquiera.. argentina con su experiencia lo saco adelante con actitud, hay que mejorar obvio pero rescato la entrega de sacar adelante un partido así, muuuucho mérito del rival
2026-07-04 01:47:56
44
estebanortiiz22
EstebanOrtiiz22 :
Si, pero ganó.
2026-07-04 01:41:01
40
sagitario734
sagitario734 :
Los partidos se ganan y se ganó
2026-07-04 01:55:25
28
cristianbox9
Cristian :
este partido mostró algo que ya se asomó en la fase de grupos y es un equipo lento con falta de cambio de ritmo de mitad de cancha hacia arriba, que en su mayoría depende de que messi se ilumine y los salve
2026-07-04 02:27:45
5
andresherrera3070
ᴀɴᴅʀᴇsʜᴇʀʀᴇʀᴀ3070🇦🇷 :
todos imaginamos que sería un trámite, mis respetos a Cabo Verde 👏🏻
2026-07-04 01:39:46
15
_florees10_
𝓯𝓵𝓸𝓻𝓮𝓮𝓼😎✈☘ :
lo mejor del equipo fue 1-Lisandro 2-Messi 3-Cuti 4-Medina
2026-07-04 01:58:58
13
lolito365
ROLO :
Pero ganó!
2026-07-04 01:44:28
7
matas5369
Matías :
El día que le falte Messi nose que van a hacer
2026-07-04 01:55:44
6
truemark1
TrueMark :
La conclusión es que se ganó. Y se sigue a la siguiente fase. chau.
2026-07-04 02:04:40
6
crear.aph
C-R-E-A-R :
De eso también se trata el fútbol, creo, hay partidos malos, buenos y regulares, también se gana con corazón cuando la técnica o táctica falla…todos los partidos hay que jugarlos, nunca se debe despreciar a un rival
2026-07-04 01:40:38
5
leotap_vel
leotap_vel :
No jugamos a nada, pero bueno. Esto es el mundial sino no dejas todo en cada pelota para definir o para defender, fuiste. Pápelon depende como lo veas, Argentina está empachada ya, esto es Argentina 🤷🏽‍♂️papel sería no clasificar en la zona grupos, y no estoy chicaneando
2026-07-04 01:39:53
6
fernandogaston40
Fer :
Papelon? En el mundial hay que ganar y se ganó. Jugando mal, metimos 3, y en definitiva le ganamos a un equipo que empató con España, y con Uruguay y que estaba invicto. Después podes contarla como quieras
2026-07-04 17:50:55
3
redwines1880
redwines1880 :
boludo ya sabemos que es un partido, estamos acostumbrados a esto y sabemos manejar situaciones
2026-07-04 02:21:32
0
adriel.ludu
Adriel 😄 :
Argentina gane o pierda no es papelón, ya ganamos todo lo que se pudo ganar.
2026-07-04 02:38:19
1
To see more videos from user @emihernandezpereyra, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی نے  مغوی غیر ملکی ر۔ی۔پ کیس میں ساری گیم پلٹ کر رکھ دی ۔   لاہور   پولیس  جو کہ رہی تھی کہ ہم نے  سی ایم پنجاب کے حکم پر فوری لڑکیاں  بازیاب کروای ہیں ۔ سب جھوٹ نکلا ۔  یاسر شامی نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر  موقع پر موجود گواہوں کو سامنے لا کر سارے جھوٹ کو بینقاب کر کے رکھ دیا   اور بھیانک انکشاف کر ڈالے ۔  کیسے  اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔   سنیے ساری کہانی یاسر شامی کی زبانی ۔۔  لاہور پولیس نے مغوی غیر ملکی لڑکیوں کو کسی کارروائی کے ذریعے بازیاب نہیں کروایا بلکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلی پاکستان ایڈٹوریل نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔  فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غازی روڈ پر ٹویوٹا شوروم اور فلٹر ہاؤس کے سامنے دو گاڑیاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔  اس حادثے کے فوراً بعد پیچھے موجود اغوا کاروں کی گاڑی سے دو غیر ملکی لڑکیاں اچانک باہر چھلانگ لگا دیتی ہیں۔  سڑک پر رش بڑھنے اور شور شرابا ہونے کی وجہ سے فیملی کا ڈرائیور جب گاڑی سے اتر کر پوچھنے لگتا ہے تو اغوا کار لڑکیوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری اور زگ زیگ انداز میں بھگا کر فرار ہو جاتے ہیں۔  اس دوران وہاں سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی بال بال بچتا ہے۔  اس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی یکم جولائی کی شام پونے آٹھ بجے وہاں موجود تھی۔  گاڑی ٹکرانے سے بچی کا ناک ڈیش بورڈ سے لگا اور اسے چوٹ آئی گاڑی کا مالک جو اچھا خاصا ٹیکس پیئر ہے جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کی وائٹ کلر کی ہنڈائی سانٹا فے گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے اور لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔  وہ سڑک پر لیٹ گئیں اور انگریزی میں بولنے لگیں کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا ہے۔  متاثرہ شہری نے فوری طور پر اپنے فون سے ون فائیو پر کال کی جس کا پورا چار منٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔  کال کے بعد دفاعی تھانے کا ایس ایچ او اور ایس پی کینٹ کے آپریٹر سفید ڈالے اور آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے ۔پولیس نے فلٹر ہاؤس میں بیٹھی ان لڑکیوں سے تفتیش کی ان کی تصاویر واٹس ایپ پر کسی کو دکھائیں اور پھر انہیں اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے۔  لڑکیوں کے ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر لاہور پولیس نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا۔  یہی نہیں بلکہ بی بی سی میڈیا کو بھی یہ کہانی سنائی گئی کہ ہالینڈ میں بیٹھے لڑکیوں کے باپ نے ون فائیو پر کال کی تھی جس کے بعد سی سی ٹی وی کی مدد سے ان کی گاڑی کو شاہدرہ سرگودھا اور اسلام آباد تک ٹریس کر کے بازیاب کیا گیا۔  حقیقت یہ ہے کہ پولیس گزشتہ دو دن سے انہیں ڈھونڈنے میں ناکام تھی اور لڑکیاں ایک مقامی فیملی کی گاڑی کے ایکسیڈنٹ اور ان کی ون فائیو کال کی وجہ سے ملیں لیکن پولیس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔  واقعے کے بعد پولیس نے فلٹر ہاؤس اور اس کے ارد گرد کی دکانوں سے ڈی وی آر اور سی سی ٹی وی کیمرے اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔ متاثرہ فیملی کا بمپر  اور ڈگی  ٹوٹ چکی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے نقصان اور ایف آئی آر کا پوچھا تو پولیس والوں نے درخواست وصول کرنے کے باوجود پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ بہت گرم ہے اسے ٹھنڈا ہونے دیں پھر ایف آئی آر کاٹیں گے ہماری ترجیح آپ کا نقصان نہیں بلکہ لڑکیاں ڈھونڈنا تھی۔  اس سارے معاملے میں پولیس کی غنڈہ گردی اس وقت مزید سامنے آئی جب ڈیفنس تھانے کا ایس ایچ او آدھی رات کو ایک مجسٹریٹ کے گھر جا کر بدماشی اور دھمکیاں دیتا رہا۔ اگلے دن جج صاحب نے اپنے کلیمز کو اکٹھا کر کے ہڑتال کی جس پر ڈی آئی جی کو خود جا کر معافی مانگنی پڑی اور پھر پولیس افسران کے خلاف دفعہ 452 اور 506 کے تحت پرچہ درج ہوا۔  آخر میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی ایک جھوٹی کال پر تو پوری ریاست حرکت میں آ گئی لیکن پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے ٹیکس پیئر شہری کی سچی کال پر نہ تو اس کی دادرسی ہوئی اور نہ ہی اس کا نقصان پورا کیا گیا وہ آج بھی اپنی گاڑی اپنے پیسوں سے ٹھیک کروانے پر مجبور ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ اتنی اہم واقعہ  کی  سی سی ٹی وی فوٹیج  کسی بڑے میڈیا ہاوس کی بجاے کسی بڑے صحافی کی بجاے یاسر شامی کے ہھتے کیسے چڑھی ؟#ptiofficial #waqas_jutt_pti #imrankhanpti #internationalforyou2026 #waqasjuttpti
ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی نے مغوی غیر ملکی ر۔ی۔پ کیس میں ساری گیم پلٹ کر رکھ دی ۔ لاہور پولیس جو کہ رہی تھی کہ ہم نے سی ایم پنجاب کے حکم پر فوری لڑکیاں بازیاب کروای ہیں ۔ سب جھوٹ نکلا ۔ یاسر شامی نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر موقع پر موجود گواہوں کو سامنے لا کر سارے جھوٹ کو بینقاب کر کے رکھ دیا اور بھیانک انکشاف کر ڈالے ۔ کیسے اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سنیے ساری کہانی یاسر شامی کی زبانی ۔۔ لاہور پولیس نے مغوی غیر ملکی لڑکیوں کو کسی کارروائی کے ذریعے بازیاب نہیں کروایا بلکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلی پاکستان ایڈٹوریل نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غازی روڈ پر ٹویوٹا شوروم اور فلٹر ہاؤس کے سامنے دو گاڑیاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ اس حادثے کے فوراً بعد پیچھے موجود اغوا کاروں کی گاڑی سے دو غیر ملکی لڑکیاں اچانک باہر چھلانگ لگا دیتی ہیں۔ سڑک پر رش بڑھنے اور شور شرابا ہونے کی وجہ سے فیملی کا ڈرائیور جب گاڑی سے اتر کر پوچھنے لگتا ہے تو اغوا کار لڑکیوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری اور زگ زیگ انداز میں بھگا کر فرار ہو جاتے ہیں۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی بال بال بچتا ہے۔ اس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی یکم جولائی کی شام پونے آٹھ بجے وہاں موجود تھی۔ گاڑی ٹکرانے سے بچی کا ناک ڈیش بورڈ سے لگا اور اسے چوٹ آئی گاڑی کا مالک جو اچھا خاصا ٹیکس پیئر ہے جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کی وائٹ کلر کی ہنڈائی سانٹا فے گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے اور لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔ وہ سڑک پر لیٹ گئیں اور انگریزی میں بولنے لگیں کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا ہے۔ متاثرہ شہری نے فوری طور پر اپنے فون سے ون فائیو پر کال کی جس کا پورا چار منٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔ کال کے بعد دفاعی تھانے کا ایس ایچ او اور ایس پی کینٹ کے آپریٹر سفید ڈالے اور آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے ۔پولیس نے فلٹر ہاؤس میں بیٹھی ان لڑکیوں سے تفتیش کی ان کی تصاویر واٹس ایپ پر کسی کو دکھائیں اور پھر انہیں اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے۔ لڑکیوں کے ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر لاہور پولیس نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا۔ یہی نہیں بلکہ بی بی سی میڈیا کو بھی یہ کہانی سنائی گئی کہ ہالینڈ میں بیٹھے لڑکیوں کے باپ نے ون فائیو پر کال کی تھی جس کے بعد سی سی ٹی وی کی مدد سے ان کی گاڑی کو شاہدرہ سرگودھا اور اسلام آباد تک ٹریس کر کے بازیاب کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس گزشتہ دو دن سے انہیں ڈھونڈنے میں ناکام تھی اور لڑکیاں ایک مقامی فیملی کی گاڑی کے ایکسیڈنٹ اور ان کی ون فائیو کال کی وجہ سے ملیں لیکن پولیس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے فلٹر ہاؤس اور اس کے ارد گرد کی دکانوں سے ڈی وی آر اور سی سی ٹی وی کیمرے اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔ متاثرہ فیملی کا بمپر اور ڈگی ٹوٹ چکی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے نقصان اور ایف آئی آر کا پوچھا تو پولیس والوں نے درخواست وصول کرنے کے باوجود پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ بہت گرم ہے اسے ٹھنڈا ہونے دیں پھر ایف آئی آر کاٹیں گے ہماری ترجیح آپ کا نقصان نہیں بلکہ لڑکیاں ڈھونڈنا تھی۔ اس سارے معاملے میں پولیس کی غنڈہ گردی اس وقت مزید سامنے آئی جب ڈیفنس تھانے کا ایس ایچ او آدھی رات کو ایک مجسٹریٹ کے گھر جا کر بدماشی اور دھمکیاں دیتا رہا۔ اگلے دن جج صاحب نے اپنے کلیمز کو اکٹھا کر کے ہڑتال کی جس پر ڈی آئی جی کو خود جا کر معافی مانگنی پڑی اور پھر پولیس افسران کے خلاف دفعہ 452 اور 506 کے تحت پرچہ درج ہوا۔ آخر میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی ایک جھوٹی کال پر تو پوری ریاست حرکت میں آ گئی لیکن پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے ٹیکس پیئر شہری کی سچی کال پر نہ تو اس کی دادرسی ہوئی اور نہ ہی اس کا نقصان پورا کیا گیا وہ آج بھی اپنی گاڑی اپنے پیسوں سے ٹھیک کروانے پر مجبور ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنی اہم واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کسی بڑے میڈیا ہاوس کی بجاے کسی بڑے صحافی کی بجاے یاسر شامی کے ہھتے کیسے چڑھی ؟#ptiofficial #waqas_jutt_pti #imrankhanpti #internationalforyou2026 #waqasjuttpti

About