Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@rabooobts: At first, I thought, “Don’t look back at me”—what's so embarrassing about that line? Then I watched the scene... and suddenly I understood. 🙈🙊🙉😻😼 #TheProsecutorsProposal #KimYoonSik #ParkSiWoo
RaboooBTS🇵🇰
Open In TikTok:
Region: PK
Saturday 04 July 2026 12:56:32 GMT
16919
1089
7
12
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.52MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.56MB
)
Watermark .mp4 (
0.52MB
)
Music .mp3
Comments
ZUCHWAI :
I love it🍓🦋
2026-07-04 13:01:13
19
Nihanthi :
2026-07-08 17:21:26
6
𝗘𝗱𝗶𝘁𝘇_ :
2026-07-09 11:49:02
0
keyy :
dia kalo senyum selebar itu kayak beda orang
2026-07-09 05:47:09
2
ckcx :
🤣🤣🤣
2026-07-08 02:43:17
2
To see more videos from user @rabooobts, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Lần cuối cùng thấy chiếc áo số 7 trong màu áo 🇵🇹 #ronaldo #potugal🇵🇹 #cristianoronaldo #foryou
someone had to say it 💁🏻♀️ #btsarmy #bts_official_bighit #jungkook #jk #fyp @mnijungkook
#fyppppppppppppppppppppppp #keşfetteyizzz #keşvet #tiktok #kesfet
بلوچ اپنی رانوں کے نیچے آئی ہوئی چیز، وہ گھوڑا ہو یا عورت، کبھی کسی کے حوالے نہیں کرتا۔” یہ ایک بلوچ سردار کا جملہ ہے۔ روایت کے مطابق جب مغل بادشاہ ہمایوں، شیر شاہ سوری کے ہاتھوں تخت سے محروم ہو کر دربدر تھا، تو وہ اپنے حرم اور چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ صحرا کے راستے ایران کی طرف سفر کر رہا تھا۔ اس کی اہلیہ، جو بعد میں شہنشاہ جلال الدین اکبر کی ماں بنیں، اُس وقت حمل سے تھیں۔ دشت نوردی اور بے سروسامانی کا عالم یہ تھا کہ بادشاہ خود بھی پیدل چل رہا تھا۔ ایسے میں ہمایوں کی بیوی کے لیے پیدل چلنا مشکل ہو گیا۔ ہمایوں نے اپنے وفادار بلوچ سردار سے اپنی بیوی کے لیے گھوڑا مانگا۔ بلوچ سردار نے پہلے کہا: “بلوچ اپنی رانوں کے نیچے آئی ہوئی چیز کبھی کسی کو نہیں دیتا۔” مگر پھر ایک خاتون کے احترام میں اپنا گھوڑا اس کے حوالے کر دیا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس نے بلوچ قوم کی وفاداری، غیرت اور عورت کے احترام کی مثال قائم کی۔ کیا یہ وہی بلقچ قوم ہے جس جے لئے شاہ عبداللطیف بھٹائی نے کا تھا کہ بلوچ قوم جرات، بہادری اور وفا کا استعارہ ہے۔ بلوچ قوم تو مہمان نواز قوم ہے۔ اجنبی مسافروں کی نگہبان، عورت کی عزت و حرمت کی پاسبان۔ مگر یہ اتنی ڈرپوک کب سے ہوگئ ۔۔۔ ایک مسافر فیملی کے سربراہ کو معصوم بچوں اور اس کی نہتی بیوی کے سامنے لہو میں نہلا دیا۔۔۔ انہوں نے اپنی بلوچی روایات کا خون کیا۔ ایک وہ بھی بلوچ تھا جس نے نادار عورت کے لیے اپنی قیمتی چیز تج دی۔ ایک یہ بلوچ ہیں جنہوں نے بھٹکے ہوئے مسافر کی، مہمان کی تکریم نہیں کی۔ عورت کی ناموس کا خیال نہیں رکھا، اس کے سر کی چادر کو تار تار کر دیا۔۔۔ معصوم بچوں پہ رحم نہیں کھایا۔ یہ بلوچ وہ تو نہیں جنہوں نے ایک پناہ گیر خاتون کی پکار پہ تیس سال خونی جنگ لڑی۔۔۔ جب لاشاریوں اور رندوں میں گھڑ دوڑ کا میدان سجا۔۔۔ ہار جیت کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ مقابلے سے واپسی پہ دلبرداشتہ لاشاریوں نے چراگاہ میں چرتی ہوئی حاملہ اونٹنی پہ تیر برسا دیے۔ تب ان اونٹوں کی مالک خاتون جو رند سردار کی پناہ میں تھی، دوڑتی ہوئی فریاد کنان رند سردار کے پاس پہنچی۔ بلوچ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ ایک مسافر پناہ میں آئی ہوئی عورت کو تکلیف پہنچے۔ پھر لاشاریوں اور رند بلوچوں میں وہ طویل جنگ چھڑی جس میں تیس ہزار بلوچ جنگجو مارے گئے۔ یہ لڑائی تیس سال چلتی رہی۔ بلوچ قوم تو وہ تھی جو عورت کے احترام میں خون دے دیتی تھی۔ اور آج اسی بلوچستان میں ایک نہتی عورت کے سر سے ردا چھین لی گئی۔ اگر تم بلوچ ہو تو یہ کیا ہیں ؟ اور اگر یہ بلوچ ہیں تو تم کیا ہو ؟" انا للہ وانا الیہ راجعون۔
قبيله المناديه #fypシ゚ #4u #foryoupage #fyp #خميس_مشيط_أبها
#fyp #fy
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy