@joomblo: tiket bangkok dibalas dengan cinta yg egk seberapa itu

Jocelyn
Jocelyn
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 04 July 2026 13:03:51 GMT
193468
21524
119
293

Music

Download

Comments

hanaa6706
👾 :
makinnn tobr
2026-07-05 16:19:58
116
s3pakat_0o
Canang·☯ :
cowok nya ga ikut merayakan??
2026-07-05 06:18:41
151
im.ssd5
I'M SSD :
namanya beneran anime?
2026-07-05 10:01:19
316
reerreiin
Re!!n4a :
ketawa bgt gw sama endingnya
2026-07-04 14:54:44
217
zarkece7
ZAR😜🤬 :
kok sepi
2026-07-04 13:07:51
42
rizkyy_aww69
Rizz_Panzer :
senyum si anime
2026-07-05 06:11:40
30
iqbbbbbbbbbb
ıQbb :
animeeee
2026-07-09 10:46:34
1
manusiabiasa2304
Renal :
😏
2026-07-09 06:30:50
1
user12008222541165
Tom.jerry :
makin itu loh maksudnya tobrut ya
2026-07-05 04:35:44
9
sebastian._.na
Sebastián :
2026-07-05 21:07:39
1
lizyora03
Lizyora :
liat story ku dungg😌
2026-07-07 02:35:34
5
ffaa0202
ffa🕷️ :
itu kenapa yg warna biru di ambil yaa 😊
2026-07-06 03:03:11
2
stellartales_i
butiran bintang :
HBD cici Joce 🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂
2026-07-04 14:29:19
2
biww17y
FebyBiw. :
hbd yah sayang sehat selalu 🗿
2026-07-06 05:25:45
1
bluerazer01
bluerazer01 :
lincah banget tangannyaaa😂
2026-07-04 16:05:59
2
weird0spi4a_no
𝗟𝘆𝗻𝗻 • OƚƚҽɾMυϝϝιɳ ⋆˚꩜。 :
happy birthday Kaka Jocelyn😍😍😍🤩🥰
2026-07-07 04:53:17
1
muhamad.fajri079
Tik Tok :
makin apa tadi tob🗿🗿🗿🗿🗿🗿
2026-07-05 02:47:29
1
kijengss
kijangs :
EH ULANG TAHUN KITA SAMA KAA
2026-07-04 14:21:48
2
To see more videos from user @joomblo, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج سوات کبل میں ہونے والا افسوسناک سانحہ صرف ایک ضلع کا نہیں، بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے امن پر ایک اور حملہ ہے۔ باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک اور جنوبی اضلاع میں ایک عرصے تو مسلسل بدامنی کی واقعات رونماء ہورہے ہیں، اب بدامنی کی یہ آگ مزید پھیلنے لگا، دیر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اب سوات بھی بدامنی کی لپیٹ میں آ چکی ہیں،  ہم برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں، اور مسلسل اسمبلی کی فلور پر بھی اسے حوالے سے چیخ رہے ہیں، کہ اگر دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہ روکا گیا تو اس کی آگ پختونخوا کی دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ آج حالات ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے بدامنی کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، دہشت گردی کے خلاف واضح اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے، اور خیبر پختونخوا کے عوام کو وہ امن دیا جائے جس طرح کی امن پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ سویلین کے ساتھ ساتھ ھمارے صوبے کی پولیس فورس جو بدامنی کی خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، وہ بھی مسلسل انڈر اٹیک ہیں،  صرف رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں 162  پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 2022 سے اب تک شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 856 تک پہنچ گئی ہے۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ 856 خاندان اجڑ گئے۔ ھمارے صوبے کی عوام اور پولیس دونوں غیر محفوظ ہیں، پولیس فورس کے پاس نا جدید اسلحہ ہیں، اور نا انکی ٹریننگ دھشت گردی کے خلاف جنگ کیلے کی گئے ہیں، بدامنی کی روک تھام سیکورٹی فورسز کی آئینی فرض اور بنیادی زمداری ہیں،  سوات سانحے کے شہداء کے درجات بلند ہوں، زخمیوں کو اللہ تعالیٰ جلد مکمل شفا عطا فرمائے، اور متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل دے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان  #swat
آج سوات کبل میں ہونے والا افسوسناک سانحہ صرف ایک ضلع کا نہیں، بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے امن پر ایک اور حملہ ہے۔ باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک اور جنوبی اضلاع میں ایک عرصے تو مسلسل بدامنی کی واقعات رونماء ہورہے ہیں، اب بدامنی کی یہ آگ مزید پھیلنے لگا، دیر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اب سوات بھی بدامنی کی لپیٹ میں آ چکی ہیں، ہم برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں، اور مسلسل اسمبلی کی فلور پر بھی اسے حوالے سے چیخ رہے ہیں، کہ اگر دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہ روکا گیا تو اس کی آگ پختونخوا کی دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ آج حالات ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے بدامنی کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، دہشت گردی کے خلاف واضح اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے، اور خیبر پختونخوا کے عوام کو وہ امن دیا جائے جس طرح کی امن پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ سویلین کے ساتھ ساتھ ھمارے صوبے کی پولیس فورس جو بدامنی کی خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، وہ بھی مسلسل انڈر اٹیک ہیں، صرف رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں 162 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 2022 سے اب تک شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 856 تک پہنچ گئی ہے۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ 856 خاندان اجڑ گئے۔ ھمارے صوبے کی عوام اور پولیس دونوں غیر محفوظ ہیں، پولیس فورس کے پاس نا جدید اسلحہ ہیں، اور نا انکی ٹریننگ دھشت گردی کے خلاف جنگ کیلے کی گئے ہیں، بدامنی کی روک تھام سیکورٹی فورسز کی آئینی فرض اور بنیادی زمداری ہیں، سوات سانحے کے شہداء کے درجات بلند ہوں، زخمیوں کو اللہ تعالیٰ جلد مکمل شفا عطا فرمائے، اور متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل دے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان #swat

About