@r.ar060: #الشعب_الصيني_ماله_حل😂😂

𝑮𝑭𝑶
𝑮𝑭𝑶
Open In TikTok:
Region: IQ
Saturday 04 July 2026 13:21:52 GMT
161705
14099
136
2663

Music

Download

Comments

njue662
آلَذِيَبًهّ_«💞 :
شنو سبب شبيج
2026-07-06 18:26:48
17
3iiil.37
تُــــّـؤّّحـــهً𐙚 :
تره مشاهدات قليل؟
2026-07-07 09:22:02
9
gddfjfsd
كسوارات عماد ستايل 🛍️🧷💍👛 :
كمر 🥹❤️
2026-07-05 10:44:51
3
s_8_s_10
بــــغدادي :
لستوري حلوو 😁🥰
2026-07-06 20:07:56
3
dyc5u8ht21y0
وسام احمد :
اناقه وجمال
2026-07-06 17:44:43
3
fm497128
عباسFM :
💜
2026-07-06 21:23:22
3
ss._165
حسين اسماعيل 🤍🎩 :
اكسبلور ماكو تره؟
2026-07-07 22:07:50
1
user9558194434317
سيف حسين :
2026-07-09 20:28:17
1
zx__koh
علوشـ آلمـيـﮯر :
فدت جمال
2026-07-05 21:47:27
1
o33yt
فلاح حسن :
2026-07-10 06:20:30
0
sajh.98
كابتن صالح :
شكد حلوه والله العضيم
2026-07-07 21:21:59
0
b6d_q
꧁༺♜حيدر النمر♜༻꧂ :
اويلييييي يابةةة😵‍💫
2026-07-11 14:42:54
0
To see more videos from user @r.ar060, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جوشی  سے  رابطہ کا طریقہ، بھارتی ہائی کمیشن کو فون کر کے کہتے کہ
جوشی سے رابطہ کا طریقہ، بھارتی ہائی کمیشن کو فون کر کے کہتے کہ "آصف علی "سے بات کرتی ہے۔ اپنا نام وہ دلیپ بتاتے۔ ملاقات کا وقت ٹیلی فون پر طے کیا جاتا۔ دونوں ہمیشہ کسی ہار میں ملتے جو لندن میں ہر طرف نظر آتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے مستقبل پر اور مخصوص نوعیت کی چالوں کھاتوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاتا۔ ان کی ملاقات کوئی گھنٹے بھر جاری رہتی۔ ان میں جو بات چیت ہوتی اس سے مجھے کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔ مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ میرا شوہر بھارتیوں سے مل کر پاکستان میں جمہوریت بحال کرنے کے کسی منصوبے کی تفصیلات پر کام کر رہا تھا۔ ملاقاتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعض دفعہ مصطفے خوشی سے ہفتے میں دو بار ملتا۔ ملاقات پر بار خوشی سے ہوئی۔ مستقل رابطہ اس سے تھا۔ ہم چھٹیاں منانے شارجہ جا رہے تھے۔ پرواز کے دوران مجھے بتایا گیا کہ ہم بھارت بھی جائیں گے۔ راجیو گاندھی سے ملاقات کا بندوبست ہو چکا ہے۔ راجیو گاندھی، جو اندرا کا پائیلٹ بیٹا تھا، اب سیاست دان بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ملالات کا بندوبست ہماری ایک دوست، فریدہ نے کیا تھا جو شارمہ میں رہتی تھی۔ اس کی گاندھی خاندان سے دوستی تھی۔ ملاقات کا وقت مل طے ہو جانے تک ہم شارجہ میں انتظار کرتے رہے۔ دہلی روانہ ہونے سے ذرا پہلے مصطفے نے ایک بے وقوف حرکت کی ۔ شام کے وقت ہم سلمان تاثیر اور اس کی دوست این سنگھ ان کے ساتھ تھے۔ جو ایک بھارتی صحافی ہے۔ سلمان تاثیر کے پاس ویزا نہیں تھا اور ایسی کوئی صورت بھی نہیں تھی کہ اتنے مختصر نوٹس پر ویزا مل سکے۔ مصطفے نے شیخی میں آکر کھا کہ وہ انتظام کرے گا۔ مجھے قدرے تعجب ہوا۔ ہم دلی پہنچے۔ وہاں انٹیلی جنس کے افسر ہمارے منتظر تھے۔ وہ ہمیں ان کی آن میں ہی امیگریشن کے سارے جھنجٹ سے نکال کر لے گئے۔ سلمان کو روک لیا گیا۔ وہ ویزا کے بغیر باہر نہ جا سکتا تھا۔ میں نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ امیگریشن حکام نے ہم دونوں کو کیسے جانے دیا جب کہ ویزا ہمارے پاس بھی نہ تھا۔ میری دوست معروف صحال تھی اس لیے ہماری آمد راز نہ رہی۔ اگر یہ غیر اخباروں میں آ جاتی تو یہ سنسنی پھیلانے والا سکوپ ثابت ہوتی اس خبر کو دبانے کے لیے انٹیلی جنس افسروں نے مداخلت کی اور سلمان تاثیر کو ویزا کے بغیر بھارت میں داخل کر دیا۔ ہمارے ساتھیوں اور میں نے محسوس کیا کہ مصطفے نے بہت بے احتیاطی کا ثبوت دیا ہے۔ اُس نے بتایا تھا کہ وہ راجیو گاندھی سے ملنے جا رہا ہے۔ بہر حال، اس بات پر کہ وہ بے اور اتنی حیثیت کا مالک تھا کہ ہوائی اڈے پر ایک معمول پاکستانی سیاست دان کے لیے ویزا کا بندو بست کر سکتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سارا معاملہ ہمارے میزبان کو ذرا نہ بھایا۔ ہوائی اڈے پر ہونے والی ڈرامے سے راجیو کو مطلع کر دیا گیا اور اس نے مصطفے سے مل کر کسی طرح کی بدنامی مول لینے سے انکار کر دیا۔ہیں راجیو کی طرف سے ایک مختصر اور روکھا پیغام ملا۔ اس . کے ساتھ سفر کرنے والے بھارتی صحافی اور اپنی خفیہ آمدہ کو توجہ کا مرکز بنانے پر مصطفے کو کافی جھاڑا گیا اور کہا گیا کہ اس بار وہ ان سے نہ مل سکے گا اور یہ کہ کے آئندہ زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے راجیو گاندھی نے ملاقات سے انکار کردیا۔۔ ایک ماه بعد مصطفے نے راجیو گاندھی کے ساتھ ایک اور ملاقات کا بندوبست کیا۔ اس بار وہ اپنے رازدان یعنی جوشی کے حوالے سے بھارت پہنچا اور راجیع سے ملا۔ مصطفے نے ملاقات کی ساری تفصیل مجھے بتائی۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے حوالہ: مینڈا شائیں کتاب (تہمینہ درانی ) نوٹ: تہمینہ پہلے کھر صاحب کی بیوی تھی اب شہباز شریف کی شریک حیات ہے۔ #foryou #pakistan #England #germany #TikTok

About