مدت ہوئی، مگر میں تجھے بھول ہی نہ سکا
دل سے مٹا کے بھی ترا نقش مٹا نہ سکا
پیغام لکھے تھے کئی، آنسوؤں کی سیاہی سے
قسمت کی بے رخی تھی، تجھ تک پہنچا نہ سکا
تو منتظر رہا کبھی شام، کبھی سحر
میں قیدِ حالات تھا، تجھ سے لپٹ نہ سکا
ہر در پہ ڈھونڈتا رہا اک چہرہ تیرے بعد
لیکن ترے سوا کوئی دل میں اتر نہ سکا
اب بھی دعا ہے میری، تُو مسکراتا رہے
میں اپنا ہر دکھ بھی تجھے کبھی سنا نہ سکا...
2026-07-05 14:38:06
2
To see more videos from user @anisthetics__1, please go to the Tikwm
homepage.