@im_hussein7: 💔😔#مسلم_الوائلي #ياحسين #dancewithpubgm #تصميم_فيديوهات🎶🎤🎬 #محرم

im_hussein7
im_hussein7
Open In TikTok:
Region: IQ
Saturday 04 July 2026 20:58:51 GMT
3841
796
9
34

Music

Download

Comments

nm_muslim
ࢪقـيـﮯ|𝑅𝑢𝑔𝑎𝑦𝑦𝑎ℎ☪︎. :
مبدع
2026-07-04 22:39:14
2
user8539975432260
برهام :
حيله الله أبو حميده ربي يحفظك ♥️
2026-07-05 05:57:16
0
sooofe_19
سلطان :
💔
2026-07-04 23:27:48
1
user9482581290495
اسم مجهول :
😭😭😭
2026-07-05 09:27:57
0
user9482581290495
اسم مجهول :
💔💔💔
2026-07-05 09:27:54
0
hug.igijo
ابو جود وام جود ♥🌹 :
😭😭😭😭😭
2026-07-05 07:38:41
0
nm_muslim
ࢪقـيـﮯ|𝑅𝑢𝑔𝑎𝑦𝑦𝑎ℎ☪︎. :
💔
2026-07-04 22:39:23
1
userzmn58os3sj
عباس الناشي :
🖤🖤
2026-07-06 12:44:44
0
To see more videos from user @im_hussein7, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ کیس سی سی ڈی کا نہیں بنتا ،یہ کیس لاہور پولیس ہی حل کرے گی ۔اسحاق ڈار کا نواسہ باس نہیں ہے ،یہ کہنا ہے  ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا ، 'باس' آخر ہے کون؟ اس پر سے پردہ اٹھنا شروع ہوگیا۔ جب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران پریس کانفرنس میں بتا رہے تھے کہ
یہ کیس سی سی ڈی کا نہیں بنتا ،یہ کیس لاہور پولیس ہی حل کرے گی ۔اسحاق ڈار کا نواسہ باس نہیں ہے ،یہ کہنا ہے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا ، 'باس' آخر ہے کون؟ اس پر سے پردہ اٹھنا شروع ہوگیا۔ جب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران پریس کانفرنس میں بتا رہے تھے کہ "وحید عرف باس ایک بدنام زمانہ اور ب۔ی۔ڈ کریکٹر مل۔ز۔م ہے، جس کے خلاف 10 مقدمات درج ہیں اور وہ پہلے بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر چکا ہے"تو اسی دوران صحافیوں میں سے ایک آواز گونجی: "یہ وحید نہیں، علی ڈار ہے... آپ اصل نام چھپا رہے ہیں!" ڈی آئی جی فیصل کامران نے صحافی کی طرف دیکھے بغیر فوری جواب دیا: "یہ غلط بیانی ہے۔" اسی دوران وہ تصویر بھی سامنے آگئی جس کا سب کو انتظار تھا۔ سرخ دائرے میں اس شخص کی نشاندہی کی گئی جسے پولیس وحید عرف باس قرار دے رہی ہے، جبکہ زرد دائرے میں علی ڈار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مگر تصویر سامنے آنے کے باوجود کئی سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔ فیصل کامران کی یہ پریس کانفرنس جتنے سوالوں کے جواب دینے آئی، شاید اس سے کہیں زیادہ نئے سوال چھوڑ گئی۔ یہ ہائی پروفائل کیس لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ ا۔غ۔و۔ا، تا۔و۔ا۔ن سے متعلق ہے، جس نے ملک بھر میں شدید توجہ حاصل کی۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو منتقل نہیں کیا جا رہا بلکہ لاہور پولیس خود ہی اس کی تفتیش مکمل کرے گی۔ کریڈٹ : صحافی ادیب یوسفزئی

About