@waqasmayo641: میں حضور پاکؐ کو جانتا ہوں! کنہیا لال گابا علامہ اقبال کے جاننے والوں میں سے ایک ہندو بیرسٹر تھے۔ علامہ کی تحریک پر انہوں نے 1932 میں اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام خالد لطیف گابا (کے ایل گابا) رکھا۔ انہوں نے رسول پاکؐ پر ایک شہرہ آفاق کتاب "پیغمبرِ صحرا" لکھی۔ ان کے قبول اسلام سے ہندوستان میں کھلبلی مچ گئی۔ انہیں گرفتار کرکے جھوٹا مقدمہ بنوادیا گیا لیکن وہ اسلام پر ڈٹے رہے۔ مقدمہ چلا تو ایک انگریز جج نے ڈیڑھ لاکھ (آج کے پانچ کروڑ) روپوں کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی۔ یہ بہت بڑی رقم تھی جو مسلمان چندہ مہم چلانے کے باوجود اکٹھی نہ کرسکے۔ ہر طرف مایوسی طاری تھی کہ یکایک سیالکوٹ کے ملک سردار علی عدالت پہنچے اور بنا کوئی سوال کئے کے ایل گابا کی ضمانت کےلئے مچلکے بھردئیے۔ لاہور کے ہندو ڈپٹی کمشنر نے ڈرایا دھمکایا کہ ملک صاحب بیوقوفی نہ کریں یہ کے ایل گابا بھاگ گیا تو آپ کی جائیداد ضبط ہوجائے گی۔ یہ سن کر ملک سردار علی کی آنکھیں بھیگ گئیں ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ بمشکل جواب دیا کہ تم ڈیڑھ لاکھ کی بات کرتے ہو میں تو اس شخص کےلئے اپنا تمام مال دینے کےلئے تیار ہوں۔ جب ملک صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ گابا کو ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ اسکی شخصی ضمانت دینے آگئے۔ انہوں نے جواب دیا میں تو گابا کو نہیں جانتا میں تو اپنے حضور پاکؐ کو جانتا ہوں جو میرے خواب میں آئے اور مجھے حکم دیا کہ سردار علی کوئی کوتاہی نہ کرنا جاؤ اور گابا کی ضمانت کرواؤ، اس نے میرے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا آپ کو اس کتاب، کے ایل گابا اور ملک سردار علی صاحب کے متعلق معلوم تھا؟ #unfrezzmyaccount #unfrezzmyaccount #unfrezzmyaccount #unfrezzmyaccount