اب تو انکار کو اقرار میں بدلا جائے
وحشتِ دشت کو گلزار میں بدلا جائے
دیں نہ آنکھوں سے کسی کو بھی رسائی دل تک
یعنی دروازے کو دیوار میں بدلا جائے
میرے جذبوں کے خریدار بہت ہیں لیکن
کیسے دل کو کسی بازار میں بدلا جائے
ہو رہا ہے تری باتوں سے کلیجہ زخمی
یوں نہ لہجہ کسی تلوار میں بدلا جائے
ہے مرے گِرد کہانی کا جو تانہ بانہ
اب مجھے مرکزی کردار میں بدلا جائے
ذکرِ جاناں ہی نہیں روحِ سخن آرائی
گردِ دوراں کو بھی اشعار میں بدلا جائے
یونہی رہنا ہے ہمیں دست و گریباں کب تک
اب تو نفرت کو ذرا پیار میں بدلا جائے
ہم بھی دیکھیں تو سہی کر کے محبت عبدالرحمن
زندگی سہل ہے ، دشوار میں بدلا جائے