@parwazz_e_ishq: نماز پڑھنے اور قائم کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مصلے پر کھڑے ہوں تو کائنات کی ہر شے آپ کے پیچھے چھوٹ جائے۔ سجدے میں صرف پیشانی خاک پر نہ رگڑی جائے، بلکہ انسان کی انا، اس کا تکبر، اس کی خودی اور اس کی پوری ہستی اپنے رب کے سامنے ڈھیر ہو جائے۔ جب بندہ اس کیفیت میں پہنچتا ہے، جہاں وہ خود کو مٹا کر صرف اپنے خالق کی عظمت کو دیکھتا ہے، تو وہ ظاہری دنیا کے اندھیروں اور وہموں سے نجات پا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وہ گمراہی کے راستوں سے نکل کر معرفت کی حقیقت کو پا لیتا ہے اور سچا 'عارف' بن جاتا ہے۔ عارف وہ نہیں جو کتابوں سے علم حاصل کرے، بلکہ عارف وہ ہے جس کا دل الٰہی نور کا آئینہ بن جائے ہم اکثر زندگی کی بھاگ دوڑ میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ عبادات کو بھی محض ایک عادت یا روزمرہ کا ایک معمول بنا لیتے ہیں۔ زبان سے الفاظ ادا ہو رہے ہوتے ہیں، جسم رکوع اور سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لیکن دل دنیا کے جھمیلوں میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ ایسی نماز جس میں دل کی حاضری نہ ہو، انسان کو ظاہری طور پر تو مطمئن کر سکتی ہے مگر روح کو وہ روشنی اور بیداری نہیں دے پاتی جس کی اسے پیاس ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ نماز کو صرف 'پڑھنا' کافی نہیں، بلکہ اسے اپنی زندگی میں 'قائم کرنا' اصل مقصد ہے📿✨ عارف بننے کا سفر روح کی اس بیداری سے شروع ہوتا ہے جہاں نماز ایک رسم نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا سجدہ بن جاتی ہے جس کے بعد انسان کبھی اپنی انا کے سامنے سر نہیں اٹھاتا #Dervish #UrduLiterature #SufiShayari #fypシ゚viral