@qwuerty_3: #xh #ouftit #viral

🐰
🐰
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 05 July 2026 17:59:41 GMT
2682
26
2
3

Music

Download

Comments

thuanlieu07
thuanlieu07 :
Có link nón k c
2026-07-06 06:49:04
0
To see more videos from user @qwuerty_3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میرا نام مریم ہے۔ اور میں پچھلے دو سال سے حارث سے محبت کرتی تھی۔ حارث اچھا آدمی ہے۔ شاید اسی لیے میں اُس کی ماں کی بہت سی باتیں نظر انداز کرتی رہی۔ شروع شروع میں مجھے لگا شاید میرا وہم ہے۔ پھر لگا شاید اُن کی طبیعت ہی ایسی ہے۔ پھر لگا شاید مجھے ہی زیادہ سوچنے کی عادت ہے۔ کیونکہ ہر بار جب کوئی بات مجھے تکلیف دیتی، جواب ایک ہی ملتا:
میرا نام مریم ہے۔ اور میں پچھلے دو سال سے حارث سے محبت کرتی تھی۔ حارث اچھا آدمی ہے۔ شاید اسی لیے میں اُس کی ماں کی بہت سی باتیں نظر انداز کرتی رہی۔ شروع شروع میں مجھے لگا شاید میرا وہم ہے۔ پھر لگا شاید اُن کی طبیعت ہی ایسی ہے۔ پھر لگا شاید مجھے ہی زیادہ سوچنے کی عادت ہے۔ کیونکہ ہر بار جب کوئی بات مجھے تکلیف دیتی، جواب ایک ہی ملتا: "تم ہر بات دل پر لے لیتی ہو۔" پہلی بار جب انہوں نے پورے خاندان کے سامنے کہا: "آج کل کی لڑکیاں میک اپ پر جتنا وقت لگاتی ہیں، اگر گھر پر لگائیں تو شادیاں چل جائیں۔" سب ہنس پڑے تھے۔ میں بھی مسکرا دی تھی۔ حالانکہ پورے کمرے میں صرف ایک لڑکی میک اپ کیے بیٹھی تھی۔ اور وہ میں تھی۔ پھر کبھی وہ میری ملازمت پر طنز کرتیں۔ کبھی کپڑوں پر۔ کبھی میرے خاندان پر۔ اور ہر بار جملہ اتنا احتیاط سے کہا جاتا کہ اعتراض کرنا بدتمیزی لگتا۔ میں خاموش رہتی رہی۔ پھر میری سالگرہ آ گئی۔ کیک کاٹا گیا۔ تصویریں بنیں۔ اور آخر میں اُنہوں نے مسکراتے ہوئے ایک خوبصورت سا گفٹ باسکٹ میری طرف بڑھا دیا۔ "یہ خاص تمہارے لیے۔" میں خوش ہو گئی۔ شاید پہلی بار لگا کہ انہوں نے مجھے قبول کر لیا ہے۔ باسکٹ میں موم بتی تھی۔ چاکلیٹ تھی۔ ایک خوبصورت کپ تھا۔ اور ایک صابن۔ میں نے صابن ہاتھ میں لیا۔ پھر اُس پر لکھا لفظ پڑھا۔ "Narcissist" میں چند لمحے ساکت رہ گئی۔ نیچے چھوٹے حروف میں اُس کی خوشبو اور اجزاء لکھے تھے۔ مگر میری نظر صرف ایک لفظ پر اٹک گئی تھی۔ Narcissist خود پسند۔ مغرور۔ اپنے آپ میں گم انسان۔ پھر میں نے اُن کی طرف دیکھا۔ وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھیں۔ چہرے پر وہی نرم سی مسکراہٹ۔ پھر انہوں نے کہا: "مجھے لگا یہ والا خاص طور پر تمہارے کام آئے گا۔" پورا کمرہ خاموش تھا۔ کسی اور نے شاید بات کا مطلب نہیں سمجھا تھا۔ مگر میں سمجھ گئی تھی۔ اور وہ بھی جانتی تھیں کہ میں سمجھ گئی ہوں۔ یہی تو اصل مہارت تھی۔ زخم بھی لگا دیا۔ اور انگلی پر خون کا ایک قطرہ بھی نہ آیا۔ میں نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔ تصویر بھی بنوائی۔ کیک بھی کھایا۔ رات کو وہ صابن میز پر رکھا تھا۔ میں کافی دیر اُسے دیکھتی رہی۔ پھر اچانک مجھے احساس ہوا... مسئلہ صابن نہیں تھا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں تھا کہ اُنہوں نے مجھے کیا کہا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ دو سال میں پہلی بار مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میں کبھی اُن کی پسندیدہ نہیں بن سکوں گی۔ میں جتنی مرضی اچھی ہو جاؤں۔ جتنی مرضی خاموش رہوں۔ جتنی مرضی سمجھوتے کر لوں۔ کچھ لوگ آپ کو جاننے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔ اور پھر ساری عمر آپ کو اُس فیصلے کے اندر قید رکھتے ہیں۔ اگلے دن حارث آیا۔ اُس نے وہ صابن دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا۔ اور پہلی بار اُس نے وہ سوال پوچھا جس کا میں دو سال سے انتظار کر رہی تھی۔ "مریم... کیا میری ماں تمہیں واقعی اتنا دکھ دیتی ہیں؟" میں کافی دیر خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے بولی: "مسئلہ تمہاری ماں نہیں ہیں۔" "پھر؟" میں نے صابن اُس کی طرف بڑھا دیا۔ "مسئلہ یہ ہے کہ ہر بار جب وہ مجھے چوٹ پہنچاتی ہیں، مجھے ہی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ مجھے درد کیوں ہوا۔" وہ خاموش ہو گیا۔ اور قسم سے... بعض رشتے ایک بڑی لڑائی سے نہیں ٹوٹتے۔ وہ سینکڑوں چھوٹے چھوٹے تحفوں، جملوں اور خاموشیوں کے نیچے دم توڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ گالیاں نہیں دیتے... وہ مسکرا کر تحفے دیتے ہیں۔ 💔

About