@salbebe44: #oceantambwe @Océan tambwe💸 @exotikriver #viral#kinshasa🇨🇩

Dominique le réalisateur 🎥📸
Dominique le réalisateur 🎥📸
Open In TikTok:
Region: CG
Sunday 05 July 2026 20:57:49 GMT
8272
637
13
2

Music

Download

Comments

madame.koyibe1
Mis guelda UK❤️💍🔐 :
Mes parents ❤️
2026-07-06 19:43:35
1
dominique.image
Dominique image :
Océan tambwe 🥰
2026-07-06 05:39:09
1
user492920618524
felly zimatinda 🦋 :
@🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-06 07:46:43
1
ariphieewolo0
user22526571549166 :
🥰🥰🥰
2026-07-06 06:47:21
2
lilianeluka8
lilianeluka :
🥰🥰🥰
2026-07-06 09:43:56
2
salbebe44
Dominique le réalisateur 🎥📸 :
🥰🥰🥰
2026-07-05 21:13:19
4
salbbebe44montage
Dominique image 📸📹🎥📷 :
🥰🥰
2026-07-06 05:37:55
1
didier..sokoto
Didier. sokoto :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-21 11:51:14
0
calibremukonya
bébé minerr :
💪💪💪
2026-08-15 22:37:19
0
To see more videos from user @salbebe44, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حمل کی درست تاریخ اور مدت کا تعین (Accurate Dating of Pregnancy) طبی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ طبی طور پر حمل کی کل مدت عام طور پر 40 ہفتوں (یا 280 دنوں) پر مشتمل ہوتی ہے، اور اس کا حساب کتاب ہمیشہ آخری ماہواری کے پہلے دن (LMP - Last Menstrual Period) سے لگایا جاتا ہے۔ ​اس طریقہ کار کی تفصیلی وجوہات اور طبی پس منظر درج ذیل ہے: ​۱۔ درست اور قابلِ اعتماد تاریخ کا حصول ​زیادہ تر خواتین کو اپنی آخری ماہواری (Period) شروع ہونے کی تاریخ تو اچھی طرح یاد ہوتی ہے، لیکن عین اس دن کا تعین کرنا ناممکن ہوتا ہے جس دن انڈے کا اخراج (Ovulation) ہوا یا سپرم کے ساتھ ملاپ کے بعد فرٹیلائزیشن (Fertilization) ہوئی۔ چونکہ ماہواری کا پہلا دن ایک واضح اور یاد رکھنے والا نقطہ آغاز ہے، اس لیے طبی ماہرین اسی کو بنیاد بناتے ہیں۔ ​۲۔ حیاتیاتی حقیقت اور دو ہفتے کا فرق ​حقیقتاً حمل (Conception) ماہواری کے شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوتا ہے (جب انڈہ خارج ہو کر بارآور ہوتا ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حمل کے پہلے دو ہفتوں میں عورت حقیقت میں حاملہ نہیں ہوتی، لیکن طبی کیلنڈر میں یہ دو ہفتے بھی حمل کی مدت میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ حساب کا تسلسل برقرار رہے اور تمام طبی پروٹوکولز ایک جیسے رہیں۔ ​۳۔ نيجلے کا قاعدہ (Naegele's Rule) اور متوقع تاریخِ پیدائش ​طبی دنیا میں حمل کی مدت اور پیدائش کی متوقع تاریخ (EDD - Expected Date of Delivery) نکالنے کے لیے ایک مستند اصول استعمال کیا جاتا ہے جسے نيجلے کا قاعدہ کہتے ہیں۔ اس کے تحت آخری ماہواری کے پہلے دن میں 7 دن جمع کیے جاتے ہیں اور 9 ماہ پیچھے جایا جاتا ہے (یا ایک سال آگے اور 3 ماہ پیچھے)، جس سے بالکل درست متوقع تاریخ نکل آتی ہے۔ ​۴۔ الٹراساؤنڈ اسکین سے مطابقت ​حمل کے ابتدائی ہفتوں میں (خاص طور پر پہلی سہ ماہی یا First Trimester میں) جو الٹراساؤنڈ اسکین کیا جاتا ہے، اس میں بچے کے سائز (Crown-Rump Length) کو دیکھ کر حمل کی عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ الٹراساؤنڈ رپورٹس بھی اسی بنیاد پر کام کرتی ہیں کہ حساب ماہواری کے پہلے دن سے شروع ہوا ہے، جس سے ڈاکٹر کو یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ بچہ اپنی نشوونما کے لحاظ سے بالکل ٹھیک بڑھ رہا ہے یا نہیں۔ ​حمل کی مدت کا یہ معیاری اور سائنسی طریقہ دنیا بھر میں تمام گائناکالوجسٹس کی طرف سے رائج ہے تاکہ کسی بھی ابہام سے بچا جا سکے اور ماں اور بچے کی صحت کی بروقت نگرانی کی جا سکے۔ #education #lmp #pregnancy #fertilityjourney #awareness
حمل کی درست تاریخ اور مدت کا تعین (Accurate Dating of Pregnancy) طبی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ طبی طور پر حمل کی کل مدت عام طور پر 40 ہفتوں (یا 280 دنوں) پر مشتمل ہوتی ہے، اور اس کا حساب کتاب ہمیشہ آخری ماہواری کے پہلے دن (LMP - Last Menstrual Period) سے لگایا جاتا ہے۔ ​اس طریقہ کار کی تفصیلی وجوہات اور طبی پس منظر درج ذیل ہے: ​۱۔ درست اور قابلِ اعتماد تاریخ کا حصول ​زیادہ تر خواتین کو اپنی آخری ماہواری (Period) شروع ہونے کی تاریخ تو اچھی طرح یاد ہوتی ہے، لیکن عین اس دن کا تعین کرنا ناممکن ہوتا ہے جس دن انڈے کا اخراج (Ovulation) ہوا یا سپرم کے ساتھ ملاپ کے بعد فرٹیلائزیشن (Fertilization) ہوئی۔ چونکہ ماہواری کا پہلا دن ایک واضح اور یاد رکھنے والا نقطہ آغاز ہے، اس لیے طبی ماہرین اسی کو بنیاد بناتے ہیں۔ ​۲۔ حیاتیاتی حقیقت اور دو ہفتے کا فرق ​حقیقتاً حمل (Conception) ماہواری کے شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوتا ہے (جب انڈہ خارج ہو کر بارآور ہوتا ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حمل کے پہلے دو ہفتوں میں عورت حقیقت میں حاملہ نہیں ہوتی، لیکن طبی کیلنڈر میں یہ دو ہفتے بھی حمل کی مدت میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ حساب کا تسلسل برقرار رہے اور تمام طبی پروٹوکولز ایک جیسے رہیں۔ ​۳۔ نيجلے کا قاعدہ (Naegele's Rule) اور متوقع تاریخِ پیدائش ​طبی دنیا میں حمل کی مدت اور پیدائش کی متوقع تاریخ (EDD - Expected Date of Delivery) نکالنے کے لیے ایک مستند اصول استعمال کیا جاتا ہے جسے نيجلے کا قاعدہ کہتے ہیں۔ اس کے تحت آخری ماہواری کے پہلے دن میں 7 دن جمع کیے جاتے ہیں اور 9 ماہ پیچھے جایا جاتا ہے (یا ایک سال آگے اور 3 ماہ پیچھے)، جس سے بالکل درست متوقع تاریخ نکل آتی ہے۔ ​۴۔ الٹراساؤنڈ اسکین سے مطابقت ​حمل کے ابتدائی ہفتوں میں (خاص طور پر پہلی سہ ماہی یا First Trimester میں) جو الٹراساؤنڈ اسکین کیا جاتا ہے، اس میں بچے کے سائز (Crown-Rump Length) کو دیکھ کر حمل کی عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ الٹراساؤنڈ رپورٹس بھی اسی بنیاد پر کام کرتی ہیں کہ حساب ماہواری کے پہلے دن سے شروع ہوا ہے، جس سے ڈاکٹر کو یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ بچہ اپنی نشوونما کے لحاظ سے بالکل ٹھیک بڑھ رہا ہے یا نہیں۔ ​حمل کی مدت کا یہ معیاری اور سائنسی طریقہ دنیا بھر میں تمام گائناکالوجسٹس کی طرف سے رائج ہے تاکہ کسی بھی ابہام سے بچا جا سکے اور ماں اور بچے کی صحت کی بروقت نگرانی کی جا سکے۔ #education #lmp #pregnancy #fertilityjourney #awareness

About