@fani.2424: یہ الفاظ صرف جھوٹ اور سچ کا فرق نہیں بتاتے، بلکہ معاشرے کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب انسان جھوٹ بولنے سے اس لیے گھبراتا تھا کہ اسے اپنے رب کا خوف، اپنے ضمیر کی آواز اور گناہ کا احساس ہوتا تھا۔ سچائی انسان کے کردار کی پہچان سمجھی جاتی تھی۔ مگر آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بہت سے لوگ سچ بولنے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی نوکری نہ چلی جائے، رشتہ نہ ٹوٹ جائے، کاروبار کا نقصان نہ ہو، یا لوگ ان سے ناراض نہ ہو جائیں۔ یعنی گناہ کا خوف کم اور دنیاوی نقصان کا خوف زیادہ ہو گیا ہے۔ لیکن یاد رکھو، وقتی نقصان برداشت کیا جا سکتا ہے، مگر جھوٹ سے حاصل ہونے والا فائدہ ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ سچ کبھی کبھی انسان کو آزمائش میں ضرور ڈالتا ہے، مگر آخرکار عزت، سکون اور اعتماد اسی کے حصے میں آتے ہیں۔ جبکہ جھوٹ وقتی سہارا تو دے سکتا ہے، مگر ایک دن انسان کی ساکھ، کردار اور اعتماد سب کچھ چھین لیتا ہے۔ بھیڑیے کی طرح جیو؛ خاموش ضرور رہو، مگر جب سچ بولنے کا وقت آئے تو نقصان کے خوف سے اپنی زبان کو قید مت کرو۔ کیونکہ کردار کی اصل قیمت سچائی سے ادا ہوتی ہے، مصلحت سے نہیں۔ 🐺🔥 #معاشرتی_حقیقت #سچائی #شاطر #بھیڑیا🐺🔥 #foryou