@mustaqeem.shah.bacha: صوابی ایکشن کمیٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قیصر خان ناظم نے سخت الفاظ میں کہا: "یہ کیسا نظام ہے کہ پولیس دن رات محنت کرکے منشیات فروش کو گرفتار کرتی ہے، جو ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہا ہوتا ہے، لیکن عدالت سے وہ 24 گھنٹوں کے اندر ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے، اور اگلے ہی دن ہماری گلیوں اور محلوں میں مونچھوں پر تاؤ دے کر گھوم رہا ہوتا ہے۔ ادھر ڈی سی اور اے سی کارروائی کے نام پر نکلتے ہیں، مگر حقیقی ایکشن کے بجائے نمائشی کارروائیاں اور سوشل میڈیا کی تشہیر زیادہ نظر آتی ہے۔ عوام مسائل میں پسی جا رہی ہے، جبکہ ذمہ دار ادارے صرف دکھاوے تک محدود ہو چکے ہیں۔ تحصیلوں میں پٹواری مافیا نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ مختلف بہانوں سے لوگوں سے ناجائز رقوم وصول کی جا رہی ہیں، جیسے یہ کوئی سرکاری فیس نہیں بلکہ بھتہ ہو۔ ہمارے بزرگوں نے آزادی، غیرت اور اپنے حقوق کے لیے اغیار کا مقابلہ کیا، برسوں جیلیں کاٹیں، جانوں کی قربانیاں دیں، مگر آج افسوس یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اپنی شناخت، کردار اور حقوق کی جدوجہد کے بجائے ظاہری نمائش میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ اگر نوجوان اپنے حقوق، انصاف اور اپنے مستقبل کے لیے اسی جذبے سے کھڑے ہو جائیں تو بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام، بالخصوص نوجوان، اپنے حقوق، انصاف اور اپنے مستقبل کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ خاموشی مسائل کا حل نہیں، بلکہ ان کی طاقت بنتی ہے۔