@imranist.com: پہلے خبر آئی کہ کسی لڑکی کو اغواہ کرنے کے چکر میں نوجوان جان سے گیا پھر سروس کارڈ سامنے آنے کے بعد کہانی بدلی گئی اور خبر آئی کہ لڑکی کو اغواہ ہونے سے بچاتے ہوئے فضائیہ کا افسَر شہید ہوگیا۔ جب ویڈیو سامنے آئی تو مرحوم ڈرائینگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور سیلٹ بیلٹ بھی بندھی ہوئی تھی۔ سوال اٹھتا ہے کہ سیٹ بیلٹ لگا کر اغواہ کار سے لڑکی کو کیسے بچایا جا رہا تھا؟؟؟؟ پولیس کے مطابق کیپٹن عاصم طارق نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار خاتون کو زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھا رہا ھے، کیپٹن طارق ہیرو بن کر وہاں پہنچا اور ملزم سے ہاتھا پائی ہو گئ، ملزم نے طیش میں آ کر عاصم طارق کے سینے پر گولی ماری۔ 👈 سوال نمبر 1: "اکیلا موٹر سائیکل سوار" اسلام آباد کے مصروف علاقے میں کیسے کسی خاتون کو زبردستی موٹر سائیکل پر اغواء کرنے کی کوشش کر سکتا ھے؟ 👈 سوال نمبر 2: تصویر میں سینے پہ گولی یا خون کا نشان کیوں نہیں؟ 👈 سوال نمبر 3: کیا کیپٹن عاصم گاڑی میں سیٹ بیلٹ باندھ کر ملزم سے ہاتھا پائی اور مزاحمت کر رہا تھا؟ 👈 سوال نمبر 4: پاکستانی فورسز عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کی کوشش میں اور کتنا گریں گے؟