السلام علیکم یا رسول اللّه ﷺ
السلام علیکم یا ابوبکر صدیق
السلام علیکم یا عمر خطاب
السلام علیکم یا عثمان غنی
السلام علیکم یا علی شیر خدا
2026-07-21 16:01:08
32
Hello :
Ya Ali Madad
2026-08-01 08:01:13
1
Abdullah Bhatti :
Mera ahle bait se aik swal hai ke Syed Fatima bin Muhammad ki wafat kab kowi🥰
2026-07-14 08:09:39
2
baloch :
nahi han mene dekha hai
2026-07-21 05:16:48
3
K .MaLìk :
ہمت کرو سنو بھائی جان سنو
2026-07-19 03:39:11
4
ساجد💔🫀 :
2924 yh b bateen
2026-07-24 11:04:14
2
Noman sheikh :
hadis ko galt tarika sa byan kr rha ha
2026-07-24 09:54:45
1
☠️ 🅰ر🅰🅸🅽 🚩 :
2026-07-26 06:40:40
3
Nomi khan172 :
2026-08-06 14:45:45
0
ISHfaq Hussain 00 :
پوری حدیث پڑھو اور عبداللہ بن عمر نے کیا کہا حضرت امیر معاویہ کو
2026-07-14 08:37:03
1
Abdullah ali Abdullah ali :
mashallah
2026-08-01 08:27:56
1
Sikandar Ali 921 :
2026-07-31 04:22:42
0
♌ :
2026-07-26 03:18:48
0
ابو معاویہ فہداللہ :
قیامت تک کا ٹائم ہے اس روایت میں مجھے یہ دکھا دو کہ اشارہ عبدللہ بن عمر کی طرف تھا ؟؟
2026-07-18 06:31:50
5
Amir Ali :
Umar Alia aslam? Usman Alia aslam? ye sb kia he?
2026-07-21 15:20:16
1
ا :
بڑے استاد و واقعہ کہاں سے کہاں گھما پھرا کے لے کے جا رہے ہو یار حدیث میں تو یہ لکھا نہیں ہے انہوں نے عمر کا نام لیا ہی نہیں ہے حضرت ایسے نہ کریں مطلب معاویہ کے اوپر کوئی نہ کوئی تم لوگوں نے ٹوپی کرنی ہے ہاں تاریخی جملوں میں یہ الفاظ ملتے ہیں مگر اس کے الگ الگ مطلب ہے
2026-07-25 01:54:07
1
no one love me :
bukhari 2704
قسم اللہ کی جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما ( معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں ) پہاڑوں میں لشکر لے کر پہنچے، تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا ( جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مشیر خاص تھے ) کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہ جائے گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اور قسم اللہ کی، وہ ان دونوں اصحاب میں زیادہ اچھے تھے، کہ اے عمرو! اگر اس لشکر نے اس لشکر کو قتل کر دیا، یا اس نے اس کو قتل کر دیا، تو ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) لوگوں کے امور ( کی جواب دہی کے لیے ) میرے ساتھ کون ذمہ داری لے گا، لوگوں کی بیوہ عورتوں کی خبرگیری کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہو گا۔ لوگوں کی آل اولاد کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہو گا۔ آخر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کے یہاں قریش کی شاخ بنو عبد شمس کے دو آدمی بھیجے۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز، آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے یہاں جاؤ اور ان کے سامنے صلح پیش کرو، ان سے اس پر گفتگو کرو اور فیصلہ انہیں کی مرضی پر چھوڑ دو۔ چنانچہ یہ لوگ آئے اور آپ سے گفتگو کی اور فیصلہ آپ ہی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو خلافت کی وجہ سے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت ہو گئی ہے اور ہمارے ساتھ یہ لوگ ہیں، یہ خون خرابہ کرنے میں طاق ہیں، بغیر روپیہ دئیے ماننے والے نہیں۔ وہ کہنے لگے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کو اتنا اتنا روپیہ دینے پر راضی ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں۔ فیصلہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ہے اور آپ سے پوچھا ہے۔ حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں قاصدوں نے کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ حسن نے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر آپ نے صلح کر لی، پھر فرمایا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہمارے نزدیک اس حدیث سے حسن بصری کا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت ہوا ہے۔
2026-08-04 19:51:22
0
To see more videos from user @www.emam2812, please go to the Tikwm
homepage.