@velzarisrbx: GET Hakari Fast In Anime Vanguards!! #av #animevanguards #hakari #animevanguardnewupdate #jujutsukaisenupdate

Velzaris
Velzaris
Open In TikTok:
Region: PK
Monday 06 July 2026 13:24:07 GMT
70270
3360
200
847

Music

Download

Comments

pots_ap
Pots.PA :
me and my friend can solo
2026-07-14 19:35:58
1
viking_version5
viking_version5 :
Hey can you do it with me it’s to hard
2026-07-14 22:35:26
0
shlapa911
shlapa1 :
trading uma+luce uma skin + cor 3 doctor 50 perecenta for ainz or offers
2026-07-13 19:34:12
1
momoyo907
momoyo :
trading kurumi set and dio for ameath bp
2026-07-13 23:52:30
0
scythe2413
Scythe :
Yep I'm not getting hakari anymore 😭
2026-07-06 16:12:18
155
samehabokalefah
꧁༒☬ سامح أبو خليفة ☬༒꧂ :
who cares about hakari i want this mf
2026-07-06 17:39:55
46
poging_kupal22
ミク :
Just get 2 friends, and u need even (2,4,6,8,10) then the other friend needs to have the odd cards (1,3,5,7,9)
2026-07-11 17:34:33
2
martt1__
Mart :
anyone mind helping me w this?
2026-07-14 01:35:34
0
44rron
🫯 :
its real guys i got shiny
2026-07-08 08:00:25
0
eclipse12399
Darkness :
I'm still confused
2026-07-06 18:24:17
6
ha___8270
Nino Nakano. :
anyone help me with it?
2026-07-08 22:07:28
2
aaron6723726
Aaron :
I did this w u bro XD
2026-07-08 16:17:42
2
boogie.blox
Steven :
Anybody wanna get hakari with me I don’t have voice chat or I can’t type tho
2026-07-08 04:32:37
1
melusianoanonimo
Yung zin :
Looking for time goddess
2026-07-06 16:26:24
1
trizz_trippin
TRIX :
can you help me....
2026-07-10 09:22:30
0
s_xy14
s_xy14 :
Guys just use sukuna vs gojo (use gojo) and only slucard and 2 Farm Units
2026-07-06 14:20:44
13
kaigamingvlogs
bankai :
who have reimu
2026-07-07 10:26:21
1
dflorento
dflorento :
Mag me for do with me 1/4
2026-07-09 04:26:14
0
xqz_43
Dude :
They dont need the monarch card, it just has to be the same trait
2026-07-06 16:38:28
9
karlshirouuu
nigasaur :
looking for ezra
2026-07-06 16:36:15
3
mzz2.sept
𝕁𝕚𝕟𝕤𝕙û𝕣𝕚𝕜𝕚 :
It doesnt work for me
2026-07-06 20:44:44
0
user5907772471706
писка бобра :
How to get memoria
2026-07-07 05:14:51
1
abyss_sx
Abyss :
Does everyone get hakari or only the ones gathering the cards
2026-07-13 03:20:48
1
steeps8
steeps :
We did it and it didn’t work
2026-07-08 19:47:51
0
alessandromedici21
madeinchina :
How do I get the memoria ?
2026-07-07 12:57:56
1
To see more videos from user @velzarisrbx, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خوف انسان کی جبلت میں لکھا گیا وہ قدیم ترین احساس ہے جو انسانی تہذیب کے آغاز سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ وہ خاموش پہرے دار ہے جو ہمارے اندر بیدار رہتا ہے تاکہ ہمیں خطرات سے بچا سکے۔ لیکن جب یہی پہرے دار حد سے بڑھ جائے، تو یہ محافظ سے لٹیرا بن جاتا ہے۔ خوف ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو ایک طرف بقا کی ضمانت دیتی ہے تو دوسری طرف اس کی پرواز کے پر کاٹ کر اسے زمین دوز کر دیتی ہے۔ ​شاعروں، فلسفیوں اور مفکروں نے خوف کے اس دوہرے روپ کو ہمیشہ اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے۔ جیسا کہ براہوئی کے اشعار میں بیان کیا گیا کہ خوف انسان کے باطن پر کاری وار کرتا ہے، اس کے ذہن کو مفلوج اور اس کے دل میں دشمن کا رعب طاری کر دیتا ہے۔ ​خوف کی نفسیاتی اور حیاتیاتی حقیقت ​حیاتیاتی نقطہ نظر سے خوف محض ایک کیمیائی ردِعمل ہے جو ہمارے دماغ کے ایک خاص حصے، جسے 'امیگڈالا' (Amygdala) کہتے ہیں، سے شروع ہوتا ہے۔ جیسے ہی ہمیں کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے، ہمارا جسم ہنگامی حالت کا اعلان کر دیتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں اور خون کا بہاؤ عضلات کی طرف تیز ہو جاتا ہے تاکہ ہم یا تو خطرے کا مقابلہ کر سکیں یا وہاں سے بھاگ کھڑے ہوں (Fight or Flight response)۔ ​لیکن نفسیاتی سطح پر خوف کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اجداد کا خوف جنگلی درندوں اور قدرتی آفات سے تھا، جبکہ دورِ جدید کے انسان کا خوف زیادہ تر نظریاتی، سماجی اور نفسیاتی ہے۔ آج کا انسان شیر یا سانپ سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا وہ: ​ناکامی سے ڈرتا ہے۔ ​لوگوں کے رویوں اور تنقید سے ڈرتا ہے۔ ​تنہائی اور اپنوں کو کھو دینے سے ڈرتا ہے۔ ​مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ رہتا ہے۔ ​جب خوف رقص کرتا ہے: باطن کی تباہی ​کہتے ہیں کہ سب سے بڑا خوف موت کا نہیں، بلکہ خوف کا اپنا خوف ہے۔ جب خوف انسان کے اندر جڑیں پکڑ لیتا ہے، تو یہ ایک دیمک کی طرح باطن کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ​۱۔ ذہن کا مفلوج ہونا ​خوف کی موجودگی میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں۔ جب ذہن پر خوف طاری ہو، تو انسان درست اور غلط کا فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ عقل کی بستی پر جذبات اور وسوسوں کا راج ہو جاتا ہے، جس سے انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ ​۲۔ احساسِ کمتری اور بزدلی کا جنم ​خوف انسان کی خود اعتمادی کو نگل جاتا ہے۔ ڈرا ہوا انسان ہمیشہ خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا ہے۔ وہ سچ بولنے، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور نئی راہیں چننے سے کتراتا ہے۔ بزدلی دراصل خوف کا وہ آخری مرحلہ ہے جہاں انسان زندہ تو رہتا ہے لیکن اس کی روح مر چکی ہوتی ہے۔ ​۳۔ باطن پر کاری ضرب ​بیرونی دشمن ہمیں اتنی تکلیف نہیں پہنچا سکتا جتنی تکلیف ہمارے اندر کا خوف ہمیں پہنچاتا ہے۔ باطن کا خوف مسلسل ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ خوف انسان کو خود اپنے ہی خلاف کھڑا کر دیتا ہے اور انسان اپنی ہی نظروں میں گر جاتا ہے۔ ​خوف پر قابو پانا: بقا سے لامتناہی پرواز تک ​خوف کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ ہی اس کا مکمل خاتمہ انسانی بقا کے لیے مفید ہے، کیونکہ نڈر اور بے باک انسان اکثر تباہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خوف کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا جائے، بلکہ اسے مغلوب کیا جائے۔ ​خوف کا سامنا کیجیے: جس چیز سے ڈر لگتا ہے، اس کا سامنا کرنا ہی خوف کے جادو کو توڑنے کا واحد طریقہ ہے۔ جب ہم خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جتنا بڑا دکھائی دے رہا تھا، حقیقت میں اتنا تھا نہیں۔ ​حال میں جینا سیکھیے: خوف کی بڑی وجہ مستقبل کی فکر ہے۔ اگر ہم خود کو حال کے لمحے میں مضبوط کر لیں، تو آنے والے کل کا خوف خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔ ​یقینِ محکم اور ایمان: ایک اعلیٰ مقصد اور ذاتِ باری تعالیٰ پر سچا یقین انسان کو بے خوف کر دیتا ہے۔ جب دل میں عشق، مقصد اور سچی لگن بیدار ہو جائے، تو خوف کا اندھیرا دور بھاگ جاتا ہے۔ ​حاصلِ کلام ​خوف اگرچہ ایک تاریک سایہ ہے، لیکن یہ سایہ ہمیں بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں روشنی موجود ہے۔ خوف زندگی کا چراغ گل ضرور کر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ اگر ہم اپنے خوف کو اپنی طاقت بنا لیں، اپنے باطن کے اس خوف کا مقابلہ کرنا سیکھ لیں، تو یہی خوف ہماری ترقی اور خود شناسی کا زینہ بن سکتا ہے۔ زندگی مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے، اور آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خوف کی زنجیروں کو توڑ کر اڑنا سیکھیں۔ #esque #kafka #فرانز #کافکا #franz
خوف انسان کی جبلت میں لکھا گیا وہ قدیم ترین احساس ہے جو انسانی تہذیب کے آغاز سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ وہ خاموش پہرے دار ہے جو ہمارے اندر بیدار رہتا ہے تاکہ ہمیں خطرات سے بچا سکے۔ لیکن جب یہی پہرے دار حد سے بڑھ جائے، تو یہ محافظ سے لٹیرا بن جاتا ہے۔ خوف ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو ایک طرف بقا کی ضمانت دیتی ہے تو دوسری طرف اس کی پرواز کے پر کاٹ کر اسے زمین دوز کر دیتی ہے۔ ​شاعروں، فلسفیوں اور مفکروں نے خوف کے اس دوہرے روپ کو ہمیشہ اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے۔ جیسا کہ براہوئی کے اشعار میں بیان کیا گیا کہ خوف انسان کے باطن پر کاری وار کرتا ہے، اس کے ذہن کو مفلوج اور اس کے دل میں دشمن کا رعب طاری کر دیتا ہے۔ ​خوف کی نفسیاتی اور حیاتیاتی حقیقت ​حیاتیاتی نقطہ نظر سے خوف محض ایک کیمیائی ردِعمل ہے جو ہمارے دماغ کے ایک خاص حصے، جسے 'امیگڈالا' (Amygdala) کہتے ہیں، سے شروع ہوتا ہے۔ جیسے ہی ہمیں کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے، ہمارا جسم ہنگامی حالت کا اعلان کر دیتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں اور خون کا بہاؤ عضلات کی طرف تیز ہو جاتا ہے تاکہ ہم یا تو خطرے کا مقابلہ کر سکیں یا وہاں سے بھاگ کھڑے ہوں (Fight or Flight response)۔ ​لیکن نفسیاتی سطح پر خوف کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اجداد کا خوف جنگلی درندوں اور قدرتی آفات سے تھا، جبکہ دورِ جدید کے انسان کا خوف زیادہ تر نظریاتی، سماجی اور نفسیاتی ہے۔ آج کا انسان شیر یا سانپ سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا وہ: ​ناکامی سے ڈرتا ہے۔ ​لوگوں کے رویوں اور تنقید سے ڈرتا ہے۔ ​تنہائی اور اپنوں کو کھو دینے سے ڈرتا ہے۔ ​مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ رہتا ہے۔ ​جب خوف رقص کرتا ہے: باطن کی تباہی ​کہتے ہیں کہ سب سے بڑا خوف موت کا نہیں، بلکہ خوف کا اپنا خوف ہے۔ جب خوف انسان کے اندر جڑیں پکڑ لیتا ہے، تو یہ ایک دیمک کی طرح باطن کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ​۱۔ ذہن کا مفلوج ہونا ​خوف کی موجودگی میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں۔ جب ذہن پر خوف طاری ہو، تو انسان درست اور غلط کا فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ عقل کی بستی پر جذبات اور وسوسوں کا راج ہو جاتا ہے، جس سے انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ ​۲۔ احساسِ کمتری اور بزدلی کا جنم ​خوف انسان کی خود اعتمادی کو نگل جاتا ہے۔ ڈرا ہوا انسان ہمیشہ خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا ہے۔ وہ سچ بولنے، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور نئی راہیں چننے سے کتراتا ہے۔ بزدلی دراصل خوف کا وہ آخری مرحلہ ہے جہاں انسان زندہ تو رہتا ہے لیکن اس کی روح مر چکی ہوتی ہے۔ ​۳۔ باطن پر کاری ضرب ​بیرونی دشمن ہمیں اتنی تکلیف نہیں پہنچا سکتا جتنی تکلیف ہمارے اندر کا خوف ہمیں پہنچاتا ہے۔ باطن کا خوف مسلسل ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ خوف انسان کو خود اپنے ہی خلاف کھڑا کر دیتا ہے اور انسان اپنی ہی نظروں میں گر جاتا ہے۔ ​خوف پر قابو پانا: بقا سے لامتناہی پرواز تک ​خوف کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ ہی اس کا مکمل خاتمہ انسانی بقا کے لیے مفید ہے، کیونکہ نڈر اور بے باک انسان اکثر تباہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خوف کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا جائے، بلکہ اسے مغلوب کیا جائے۔ ​خوف کا سامنا کیجیے: جس چیز سے ڈر لگتا ہے، اس کا سامنا کرنا ہی خوف کے جادو کو توڑنے کا واحد طریقہ ہے۔ جب ہم خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جتنا بڑا دکھائی دے رہا تھا، حقیقت میں اتنا تھا نہیں۔ ​حال میں جینا سیکھیے: خوف کی بڑی وجہ مستقبل کی فکر ہے۔ اگر ہم خود کو حال کے لمحے میں مضبوط کر لیں، تو آنے والے کل کا خوف خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔ ​یقینِ محکم اور ایمان: ایک اعلیٰ مقصد اور ذاتِ باری تعالیٰ پر سچا یقین انسان کو بے خوف کر دیتا ہے۔ جب دل میں عشق، مقصد اور سچی لگن بیدار ہو جائے، تو خوف کا اندھیرا دور بھاگ جاتا ہے۔ ​حاصلِ کلام ​خوف اگرچہ ایک تاریک سایہ ہے، لیکن یہ سایہ ہمیں بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں روشنی موجود ہے۔ خوف زندگی کا چراغ گل ضرور کر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ اگر ہم اپنے خوف کو اپنی طاقت بنا لیں، اپنے باطن کے اس خوف کا مقابلہ کرنا سیکھ لیں، تو یہی خوف ہماری ترقی اور خود شناسی کا زینہ بن سکتا ہے۔ زندگی مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے، اور آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خوف کی زنجیروں کو توڑ کر اڑنا سیکھیں۔ #esque #kafka #فرانز #کافکا #franz

About