@1h.8lllll:

ᴀʟǫً
ᴀʟǫً
Open In TikTok:
Region: SA
Monday 06 July 2026 16:56:02 GMT
38
8
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @1h.8lllll, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ انسان صرف ظاہری جنگوں میں ہی نہیں الجھا رہا، بلکہ ایک ایسی خاموش جنگ بھی مسلسل جاری ہے جو انسان کے اندر لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ رحمان اور شیطان کے درمیان ہے۔ اس کا میدان نہ کوئی سرحد ہے، نہ کوئی شہر، بلکہ انسان کا دل، دماغ اور نفس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل، شعور اور اختیار عطا کیا۔ یہی اختیار انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ انسان کو مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ صرف نیکی یا صرف برائی کا راستہ اختیار کرے، بلکہ اسے دونوں راستے دکھا دیے گئے۔ ایک راستہ رحمان کی طرف جاتا ہے جہاں سچ، صبر، حیا، محبت، رحم اور انصاف ہے۔ دوسرا راستہ شیطان کی طرف جاتا ہے جہاں جھوٹ، غرور، حسد، نفرت، بے حیائی اور فتنہ ہے۔ شیطان کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ انسان کو گناہ کو خوبصورت بنا کر دکھائے۔ وہ انسان کے دل میں غرور پیدا کرتا ہے، نفس کو خواہشات کا غلام بناتا ہے اور اسے یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت، صبر، تقویٰ اور سچائی کی طرف بلاتا ہے۔ اللہ راستہ دکھاتا ہے، مگر چلنے کا فیصلہ انسان خود کرتا ہے۔ انسان اس جنگ میں صرف ایک مہرہ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کرنے والی ہستی بھی ہے۔ وہ چاہے تو رحمان کا سپاہی بن کر معاشرے میں محبت، امن اور انصاف کو فروغ دے سکتا ہے، اور اگر چاہے تو شیطان کا آلہ بن کر فساد، نفرت اور گناہ کو عام کر سکتا ہے۔ انسان کا ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر نیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ وہ کس طرف کھڑا ہے۔ آج کے دور میں یہ جنگ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہے۔ شیطان نے گناہوں کو صرف بازاروں اور گلیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسکرینوں، موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے گھروں اور بند کمروں تک پہنچا دیا ہے۔ اب انسان کو ہر لمحہ یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں، زبان، دل اور سوچ کو کس راستے پر استعمال کرے گا۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کا دارومدار اسی انتخاب پر ہے۔ اگر انسان رحمان کا راستہ اختیار کرے تو اسے دل کا سکون، عزت اور کامیابی نصیب ہوتی ہے، اور اگر وہ شیطان کے راستے پر چل پڑے تو بظاہر وقتی لذتیں مل سکتی ہیں مگر انجام تباہی اور پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کے میدان میں جاری اس جنگ کو سمجھے، اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ وہ رحمان کا بندہ بننا چاہتا ہے یا شیطان کا پیروکار۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان سے یہی پوچھا جائے گا کہ اسے راستہ دکھایا گیا تھا، پھر اُس نے کون سا راستہ اختیار کیا۔ #foryou #fyp #explore #creatgorsearchinsights #fypviral
دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ انسان صرف ظاہری جنگوں میں ہی نہیں الجھا رہا، بلکہ ایک ایسی خاموش جنگ بھی مسلسل جاری ہے جو انسان کے اندر لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ رحمان اور شیطان کے درمیان ہے۔ اس کا میدان نہ کوئی سرحد ہے، نہ کوئی شہر، بلکہ انسان کا دل، دماغ اور نفس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل، شعور اور اختیار عطا کیا۔ یہی اختیار انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ انسان کو مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ صرف نیکی یا صرف برائی کا راستہ اختیار کرے، بلکہ اسے دونوں راستے دکھا دیے گئے۔ ایک راستہ رحمان کی طرف جاتا ہے جہاں سچ، صبر، حیا، محبت، رحم اور انصاف ہے۔ دوسرا راستہ شیطان کی طرف جاتا ہے جہاں جھوٹ، غرور، حسد، نفرت، بے حیائی اور فتنہ ہے۔ شیطان کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ انسان کو گناہ کو خوبصورت بنا کر دکھائے۔ وہ انسان کے دل میں غرور پیدا کرتا ہے، نفس کو خواہشات کا غلام بناتا ہے اور اسے یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت، صبر، تقویٰ اور سچائی کی طرف بلاتا ہے۔ اللہ راستہ دکھاتا ہے، مگر چلنے کا فیصلہ انسان خود کرتا ہے۔ انسان اس جنگ میں صرف ایک مہرہ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کرنے والی ہستی بھی ہے۔ وہ چاہے تو رحمان کا سپاہی بن کر معاشرے میں محبت، امن اور انصاف کو فروغ دے سکتا ہے، اور اگر چاہے تو شیطان کا آلہ بن کر فساد، نفرت اور گناہ کو عام کر سکتا ہے۔ انسان کا ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر نیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ وہ کس طرف کھڑا ہے۔ آج کے دور میں یہ جنگ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہے۔ شیطان نے گناہوں کو صرف بازاروں اور گلیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسکرینوں، موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے گھروں اور بند کمروں تک پہنچا دیا ہے۔ اب انسان کو ہر لمحہ یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں، زبان، دل اور سوچ کو کس راستے پر استعمال کرے گا۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کا دارومدار اسی انتخاب پر ہے۔ اگر انسان رحمان کا راستہ اختیار کرے تو اسے دل کا سکون، عزت اور کامیابی نصیب ہوتی ہے، اور اگر وہ شیطان کے راستے پر چل پڑے تو بظاہر وقتی لذتیں مل سکتی ہیں مگر انجام تباہی اور پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کے میدان میں جاری اس جنگ کو سمجھے، اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ وہ رحمان کا بندہ بننا چاہتا ہے یا شیطان کا پیروکار۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان سے یہی پوچھا جائے گا کہ اسے راستہ دکھایا گیا تھا، پھر اُس نے کون سا راستہ اختیار کیا۔ #foryou #fyp #explore #creatgorsearchinsights #fypviral

About