@carmen_hajjar: ⁨ الفيديو من شباط 2020 مين بيتذكر راح viral احضروا الاستوري 😂😂😂نفس الشي بس انتو بتحبوا الأجانب…الفرنجي برنجي 😂😂😂 الرز لا يؤكل بالملعقة، بل بالشوكة. الملعقة مخصّصة للشوربة فقط. في الإتيكيت، نأكل الرز بالشوكة، سواء بالطريقة الأوروبية (Continental Style) حيث يُحمَّل الرز على ظهر الشوكة بمساعدة السكين، أو بالشوكة في اليد اليمنى، وهي الطريقة الشائعة والمتوافقة أيضًا مع العادات الإسلامية This video is from February 2020. Who remembers when it went viral? 😂😂 Check out my stories! Same etiquette rule… but you just love it more when it comes from foreigners. 😂😂 Rice is not eaten with a spoon; it is eaten with a fork. The spoon is reserved for soup. In etiquette, rice is eaten with a fork, either the European (Continental) way where the rice is placed on the back of the fork with the help of a knife or with the fork in the right hand, which is the more common method and is also consistent with Islamic customs⁩ #foodtiktok #food #LearnOnTikTok #rice

Carmen Hajjar
Carmen Hajjar
Open In TikTok:
Region: LB
Monday 06 July 2026 17:30:37 GMT
86765
1209
178
602

Music

Download

Comments

user3561823343355553
s.a al :
جربي كولي بيدك طعم خيال😂
2026-07-07 01:19:06
13
peacebmi2ru
Claudia :
Everything is taster with our hands. !!!!
2026-07-07 01:02:59
0
reem.almutari
reem.almutari :
احنا بالخمس حياتي
2026-07-06 23:23:26
10
.mood.maker
Mood Maker🍸 :
الرز بينأكل بالخمس اول شي بنهمز اللئمة و نكورها ثم نقول بها الله يسلمك
2026-07-06 23:56:19
6
dx4691
<^DUAA^> :
يوم ارفع الشوكه بيكون الرز وصل كوعي 🤣
2026-07-07 05:47:12
2
cramberry1983
Cram berry :
: سوشي رز بالعيدان بيتاكل وبوريتو محشية رز بتتاكل بالاصابع! المهم الوصفة وكل مرة الها طريقة تتاكل فيها
2026-07-07 06:54:27
0
i_lloma
h,am :
احنا حتي المكرونا نكلها بخمس الحمد لله على نعمة الاصابع
2026-07-07 01:27:51
5
maram.flata1390.com
مرام فلاته :
صح والله أنا صرت اكل الرز بالشوكة اول شي اريح في الاكل بتشيل كمية قليلة وتاني شي الشوكة اريح للفم
2026-07-07 03:24:22
1
queenmon2026
( ميما 😊 ) 🇰🇼 :
2026-07-07 04:49:06
2
rose..622
ورد 🌸 :
عندنا ماناكله إلا بيدينا الشوكه لكم الله يسعدك
2026-07-06 21:38:03
7
daliamouhassebmina
Dalia mouhasseb mina :
لي بتقولو سكينة ! هذا سكين مذكّر!
2026-07-07 06:52:19
0
g20h19.1
🔗ࢪَحـ𓆩𝟐𝟎𝟐𝟔𓆪ـاب🔗 :
الكميه الي معك تصير في يدي ثلاث لقمات قاله شوكه ماني فاضي لشوكه
2026-07-07 07:26:12
0
1986_sama
سما :
احنا ناكل الرز بالسكين و الشوربه بالمزاز و الخبز بالشوكه
2026-07-07 06:19:15
1
m.yusa18
حرب :
بالملعقه ويتناثر معهم الرز وشلولن لو بشوكه
2026-07-07 01:25:21
2
nourhaldwsari
ام الزين :
إذا ما حسيت بحراره الرز بيدي ما تنفتح شهيتي ، سبحان الله كان عصب اليد يحفز المعده ويفتح الشهيه بمجرد ما يلامس الاكل
2026-07-07 06:13:24
1
k..ok30
..kookaa.. :
اذا ماصار باليد مامنه فايده ولا له طعم
2026-07-07 00:24:52
3
ywsh2754
ywsh2754 :
طيب يطيح من الشوكه
2026-07-07 01:08:16
1
husin8193
husin :
انا تعودت اكله بايدي وعم بتعلم الدحبرة شو وضعي عندك
2026-07-07 09:07:51
0
ammaralnoaime5
Ammar :
بصير نغمسوا بالخبزة 🤣
2026-07-07 09:06:00
0
appleid2942
⌛️ SURVIVOR :
في ليبيا تستخد طريقة كوننتل ستايل ❤️🔥
2026-07-07 09:10:25
0
gusi5960
Lazirara :
ما معنى الشوربة؟
2026-07-07 08:52:47
0
To see more videos from user @carmen_hajjar, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہزاروں اچھائیوں کی کوئی رسید نہیں ہوتی، مگر ایک غلطی کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ زندگی کا شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ لوگ اکثر ہماری کامیابیوں، قربانیوں، محبتوں، وفاداریوں اور بے شمار اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی برسوں تک ان کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے، کسی کے دکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کسی کے آنسو پونچھتا ہے، کسی کی عزت بچاتا ہے، کسی کی خاموشی کو سمجھتا ہے، کسی کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، مگر یہ سب کچھ اکثر کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک قدم غلط پڑ جائے، ایک فیصلہ توقعات کے مطابق نہ ہو، یا ایک لفظ دل کو لگ جائے، تو وہی ایک لمحہ انسان کی پوری شخصیت پر بھاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اکثر انسان کو اس کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی غلطیوں سے پہچانتی ہے۔ لوگ برسوں کی وفاداری بھول کر ایک لمحے کی لغزش کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ یہاں ہر نیکی کا اعتراف نہیں ہوتا، لیکن ہر غلطی کا چرچا ضرور ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، انسان کامل نہیں ہوتا۔ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی لاعلمی میں، کبھی جلد بازی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی حالات کے دباؤ میں۔ لیکن کسی ایک غلطی کی بنیاد پر پورے انسان کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف سے زیادہ فیصلے جذبات، انا اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی کسی کے لیے بے لوث محبت کی، اس کی عزت کی، اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما، اور پھر ایک دن وہی شخص آپ کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر آپ سے منہ موڑ گیا، تو یقین جانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ اس احساس سے گزرے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھا ہونا چھوڑ دیں۔ اچھائی کا صلہ ہمیشہ انسانوں سے نہیں ملتا، بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری نرمی کو کمزوری، ہماری معافی کو مجبوری، اور ہماری وفاداری کو عادت۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کو کھو دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اگر آپ ہر ایک کو خوش کرنے نکلیں گے تو خود کو کھو بیٹھیں گے۔ ہر شخص کی توقعات الگ ہیں، ہر کسی کی سوچ مختلف ہے، اور ہر کسی کا معیار جدا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہیں دے رہے، تو لوگوں کی بے جا تنقید سے خود کو مت توڑیں۔ کامیاب لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ عظیم انسان بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ان میں بہتری لاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف دوسروں کی غلطیاں گنتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنی اصلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو معاف کیا جائے، اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں معافی، برداشت اور حسنِ ظن بڑھ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آج کوئی آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے آپ سے دور ہو گیا ہے، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ وقت سب سے بڑا گواہ ہے۔ وقت ہی لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتا ہے اور وقت ہی سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ آپ اپنا کردار اچھا رکھیں، اپنی زبان نرم رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ اصل حساب لوگوں کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ آپ کی ایک غلطی یاد رکھ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی توبہ، ہر آنسو، ہر نیکی، ہر دعا، ہر قربانی اور ہر صبر کو جانتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی امید لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رکھیں۔ جب رب راضی ہو جائے تو لوگوں کی ناراضی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی اس طرح گزاریں کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔ اگر دنیا آپ کی ہزاروں اچھائیوں کو بھول بھی جائے تو غم نہ کریں، کیونکہ آسمان والا ایک بھی نیکی نہیں بھولتا۔ یہی یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے، یہی ایمان اسے ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی امید اسے دوبارہ اٹھ کر چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی اچھائیاں دیکھنے والی نظر، غلطیوں کو معاف کرنے والا دل، اور ایسا کردار عطا فرمائے جو لوگوں کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ آمین۔ #ubaidtypist70 #foryoupage
ہزاروں اچھائیوں کی کوئی رسید نہیں ہوتی، مگر ایک غلطی کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ زندگی کا شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ لوگ اکثر ہماری کامیابیوں، قربانیوں، محبتوں، وفاداریوں اور بے شمار اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی برسوں تک ان کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے، کسی کے دکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کسی کے آنسو پونچھتا ہے، کسی کی عزت بچاتا ہے، کسی کی خاموشی کو سمجھتا ہے، کسی کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، مگر یہ سب کچھ اکثر کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک قدم غلط پڑ جائے، ایک فیصلہ توقعات کے مطابق نہ ہو، یا ایک لفظ دل کو لگ جائے، تو وہی ایک لمحہ انسان کی پوری شخصیت پر بھاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اکثر انسان کو اس کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی غلطیوں سے پہچانتی ہے۔ لوگ برسوں کی وفاداری بھول کر ایک لمحے کی لغزش کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ یہاں ہر نیکی کا اعتراف نہیں ہوتا، لیکن ہر غلطی کا چرچا ضرور ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، انسان کامل نہیں ہوتا۔ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی لاعلمی میں، کبھی جلد بازی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی حالات کے دباؤ میں۔ لیکن کسی ایک غلطی کی بنیاد پر پورے انسان کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف سے زیادہ فیصلے جذبات، انا اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی کسی کے لیے بے لوث محبت کی، اس کی عزت کی، اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما، اور پھر ایک دن وہی شخص آپ کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر آپ سے منہ موڑ گیا، تو یقین جانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ اس احساس سے گزرے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھا ہونا چھوڑ دیں۔ اچھائی کا صلہ ہمیشہ انسانوں سے نہیں ملتا، بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری نرمی کو کمزوری، ہماری معافی کو مجبوری، اور ہماری وفاداری کو عادت۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کو کھو دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اگر آپ ہر ایک کو خوش کرنے نکلیں گے تو خود کو کھو بیٹھیں گے۔ ہر شخص کی توقعات الگ ہیں، ہر کسی کی سوچ مختلف ہے، اور ہر کسی کا معیار جدا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہیں دے رہے، تو لوگوں کی بے جا تنقید سے خود کو مت توڑیں۔ کامیاب لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ عظیم انسان بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ان میں بہتری لاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف دوسروں کی غلطیاں گنتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنی اصلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو معاف کیا جائے، اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں معافی، برداشت اور حسنِ ظن بڑھ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آج کوئی آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے آپ سے دور ہو گیا ہے، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ وقت سب سے بڑا گواہ ہے۔ وقت ہی لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتا ہے اور وقت ہی سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ آپ اپنا کردار اچھا رکھیں، اپنی زبان نرم رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ اصل حساب لوگوں کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ آپ کی ایک غلطی یاد رکھ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی توبہ، ہر آنسو، ہر نیکی، ہر دعا، ہر قربانی اور ہر صبر کو جانتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی امید لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رکھیں۔ جب رب راضی ہو جائے تو لوگوں کی ناراضی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی اس طرح گزاریں کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔ اگر دنیا آپ کی ہزاروں اچھائیوں کو بھول بھی جائے تو غم نہ کریں، کیونکہ آسمان والا ایک بھی نیکی نہیں بھولتا۔ یہی یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے، یہی ایمان اسے ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی امید اسے دوبارہ اٹھ کر چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی اچھائیاں دیکھنے والی نظر، غلطیوں کو معاف کرنے والا دل، اور ایسا کردار عطا فرمائے جو لوگوں کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ آمین۔ #ubaidtypist70 #foryoupage

About