@am114170: و قفلو باب المشاري 💃🏻#ذكرى_الهادي @ذكرى 🎙 #fyp

أمـيـرة | Ameera
أمـيـرة | Ameera
Open In TikTok:
Region: SA
Monday 06 July 2026 22:07:57 GMT
1267
62
15
12

Music

Download

Comments

ro_7iii7
منوري 🥀🥀 :
والله العظيم اني احبك يا ذكوري واحب صوتك وكنت طوال البث ارقص 😂🤣
2026-07-07 03:23:39
1
ra_il0702
sr :
اوللللل
2026-07-06 22:16:27
2
hani344900
هاني العنزي :
حبيت الاغنيه الحين اكثر من الاول🌹 جوها عليييل
2026-07-07 03:22:45
1
rodinah.saad
🌊 :
كنتي موجوده في البث
2026-07-06 22:38:44
1
ro_7iii7
منوري 🥀🥀 :
ارقص
2026-07-07 03:27:31
2
kloodkobeany
مطابخ خلود 🧑‍🍳 :
😂😂😂
2026-07-07 00:27:46
0
To see more videos from user @am114170, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے #foryou #fyp #video #virel #tiktok
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے #foryou #fyp #video #virel #tiktok

About