کبھی بھی کسی کے لیے اہم نہیں ہوتے یہ سب ہمارے وہم کا کھیل ہوتا ہے کہ ہم اگر اچانک کہیں غائب ہو جائیں تو کوئی ہمارا منتظر رہے گا نو نیور کبھی بھی نہیں یہاں نہ کوئی کسی کے لیے منتظر رہتا ہے اور نہ کسی کے لیے کوئی بے چین ہوتا ہے وقت اور چیزیں اتنی تیزی سے ہماری جگہ کو بھر دیتی ہیں کہ کبھی کبھی اگر ہم واپس لوٹ بھی ائیں تو خود کا نہ خود پہ دشوار گزرنے لگتا ہے یہ کب کہتی ہوں کہ میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بیزار ہو جاؤ اور ملاقاتوں میں وقفہ اس لیے ضروری ہے کہ تم ایک دن جدائی کے لیے تیار ہو جاؤ اور بہت جلد ہی دنیا کو سمجھ جانے لگتے ہو بہت اسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ بلا کی دھوپ سے ائی ہوں میرا حال تو دیکھو بلا کی دھوپ سے ائی ہوں میرا حال تو دیکھو بس اب ایسا کرو تم سایہ دیوار ہو جاؤ بڑھنے کے دن ہیں ابھی لکھ بھی لینا حال دل اپنا مگر لکھنا تب جب لائے گے اظہار ہو جاؤ یہ کب کہتی ہوں میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بیدار