@ahsana4828: میں نے اپنے ہی اندر ایک معصوم، خوابوں سے بھرے انسان کو تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھا ہے۔ چوراہوں پر بکتی ہوئی غیرت دیکھی، اور اپنوں کے لہجوں میں زہر کا وہ پیالہ دیکھا جو روز پینا پڑتا ہے۔ یہ معاشرہ انسان کی نہیں، صرف اس کے بٹوے اور چمکتے ہوئے سکوں کی پوجا کرتا ہے۔ جب جیب خالی ہو تو سگے رشتے بھی ایسے منہ پھیرتے ہیں جیسے آپ کوئی وبائی مرض ہوں۔ وہ صرف میرا خدا جانتا ہے۔ جن آنکھوں میں کبھی محبت کے دعوے تھے، غربت آتے ہی وہاں صرف حقارت اور اجنبیت دیکھی۔ محنت کی بھٹی میں دن رات خود کو جلایا، مگر بدلے میں صرف ذلت اور طعنے ملے۔ مرد کی کوئی ذات، کوئی جذبات اور کوئی روح نہیں ہوتی؛ وہ صرف ایک کمانے والی مشین ہے—رکے تو کچرا ہے۔ اب دل اس مقام پر آ چکا ہے جہاں نہ کوئی امید بچی ہے اور نہ ہی کسی دلاسے کی چاہ۔ احساسات مر چکے ہیں، خواب راکھ بن کر آنکھوں سے بہہ چکے ہیں، اب صرف ایک زبردستی کا سانس باقی ہے۔ یہاں ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک غرض چھپی ہے اور ہر سلام کا ایک متبادل ریٹ مقرر ہے۔ دنیا نے میری غربت کا وہ تماشہ بنایا کہ اب مجھے اپنے ہی وجود سے گھن آنے لگی ہے۔🥲💔#unfrezzmyaccount #asthaticvibes