@user.ldjn: #lacrim

𝓜𝓮́𝓵𝓲𝓷𝓪
𝓜𝓮́𝓵𝓲𝓷𝓪
Open In TikTok:
Region: FR
Tuesday 07 July 2026 09:54:39 GMT
128799
21419
84
1502

Music

Download

Comments

userxlcv1
𝐧𝐝𝐢𝐧𝐞.𝟏𝟔 :
A cause de ma colère excessive 😣
2026-07-13 21:35:06
4
mhd69k8
m🏴‍☠️hdi2BLR🎸 :
2026-07-16 22:03:38
2
n.ess0uu
𝐧𝐞𝐬𝐬𝐨𝐮’🍒 :
Je crains
2026-07-15 04:40:14
2
iss.aa407
𝟏𝟕𝟗🪷 :
c triste
2026-07-11 18:50:03
3
lcrts34k
￴ ￴￴￴￴￴￴  ￴ ￴ ￴￴ ￴  ￴￴ ￴￴ ￴ :
2026-07-10 13:43:16
9
maquina3131
maquina3131 :
c’est dur
2026-07-13 23:28:14
1
user961706746
￴ ￴ ￴ ￴ ￴￴ ￴ ￴ ￴ :
j’étais juste heureuse sah
2026-07-10 11:04:44
5
knownasjad
Jad :
Jamais vue plus réel
2026-07-10 14:24:19
7
yne.izn
yne.izn :
2026-07-10 08:57:04
5
m_irkaa
K :
2026-07-17 02:02:53
1
yvehaee
￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴￴ :
réel c’est pas des lol
2026-07-10 09:01:11
4
olvrdhf
￴￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴￴ ￴ ￴ :
wow.
2026-07-07 22:43:31
4
To see more videos from user @user.ldjn, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مفسرِ عصر، راس المحققین حضرت علامہ مولانا شمس الحق افغانی صاحب رحمہ اللہ  (اکابرِ امت کا روشن ستارہ)وہ جن کے علم کی خوشبو سے برصغیر کا ذرہ ذرہ مہک اٹھا،  جو زہد و تقویٰ کا ہمالیہ اور علومِ الٰہیہ کا بحرِ بے کنار تھے۔ ایک ایسی شخصیت جن کا قلم اور زبان دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ آپ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے تاریخی اور مردم خیز علاقے چارسدہ (ترنگزئی) سے تھا۔ علم و حکمت کا یہ آفتاب 1901ء (بمطابق 17 رمضان المبارک 1318ھ) کو طلوع ہوا، جس نے آگے چل کر کفر و الحاد کے اندھیروں کو مٹایا۔ آپ نے علومِ نبوت کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے وقت کی عظیم ترین دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا: وہاں آپ نے امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے بحرِ علم اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی بے پناہ ذہانت کی بدولت دنیا نے آپ کو
مفسرِ عصر، راس المحققین حضرت علامہ مولانا شمس الحق افغانی صاحب رحمہ اللہ (اکابرِ امت کا روشن ستارہ)وہ جن کے علم کی خوشبو سے برصغیر کا ذرہ ذرہ مہک اٹھا، جو زہد و تقویٰ کا ہمالیہ اور علومِ الٰہیہ کا بحرِ بے کنار تھے۔ ایک ایسی شخصیت جن کا قلم اور زبان دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ آپ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے تاریخی اور مردم خیز علاقے چارسدہ (ترنگزئی) سے تھا۔ علم و حکمت کا یہ آفتاب 1901ء (بمطابق 17 رمضان المبارک 1318ھ) کو طلوع ہوا، جس نے آگے چل کر کفر و الحاد کے اندھیروں کو مٹایا۔ آپ نے علومِ نبوت کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے وقت کی عظیم ترین دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا: وہاں آپ نے امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے بحرِ علم اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی بے پناہ ذہانت کی بدولت دنیا نے آپ کو "شمس العلماء" (علما کا سورج) کے لقب سے پکارا مولانا افغانی رحمہ اللہ کا علم صرف مدارس تک محدود نہ تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا: جب فرانس کے دارالحکومت پیرس کے بڑے بڑے مغربی فلاسفہ اور مستشرقین نے اسلام پر اعتراضات اٹھائے، تو آپ نے اپنے علمی دلائل سے انہیں لاجواب کیا۔ پیرس کے مشہورِ زمانہ مسلم اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ آپ کی قرآنی بصیرت اور فلسفیانہ گرفت کے شدید معترف تھے۔ بالآخر علم و معرفت کا یہ چمکتا ہوا چاند 16 اگست 1983ء کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور امتِ مسلمہ ایک عظیم مفسر اور سرپرست سے محروم ہو گئی۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا اللہ پاک حضرت مولانا کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین

About