@sukoonebismil: کبھی کبھی زندگی انسان کو ایک ایسے اندھیرے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں پہنچ کر دل دھڑکنا نہیں بھولتا، مگر محسوس کرنے کی صلاحیت ضرور کھو دیتا ہے۔ ایک ایسا مقام، جہاں درد کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ آنسو بن کر بہنے کے بجائے اندر ہی اندر جم جاتا ہے۔ اندر ایک پورا طوفان برپا ہوتا ہے، روح چیخ رہی ہوتی ہے، جذبے سسک رہے ہوتے ہیں، مگر ہونٹوں پر خاموشی کا ایسا قفل لگ جاتا ہے جسے کھولنا ہمارے اپنے بس میں بھی نہیں رہتا۔ ہم دنیا کے سامنے ایک جھوٹا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں؛ آنکھیں اندر تک گیلی ہوتی ہیں، مگر چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجانی پڑتی ہے، کیونکہ یہ دنیا صرف تماشا دیکھنا جانتی ہے، تڑپتے ہوئے دل کو سنبھالنا نہیں۔ لوگ صرف ہمارا 'ٹھیک ہونا' دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ ہم ان کے کام آ سکیں، کسی کو اس بات کی رتی برابر پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم اندر سے کتنے ٹکڑے ہو چکے ہیں اور اپنے ہی وجود کو سمیٹنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اس شدید بے سکونی، اعصابی تناؤ اور ٹینشن کے حصار سے چند لمحوں کی مہلت پانے کے لیے ہم دواؤں کا سہارا لیتے ہیں۔ ہم میڈیسن اس لیے نگل لیتے ہیں تاکہ یہ شور مچاتا ہوا دماغ کچھ دیر کے لیے سو جائے، وہ تلخ یادیں اور ادھورے احساسات کچھ پل کے لیے دھندلا جائیں۔ مگر یہ سب ایک عارضی فریب ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دوا، کوئی بھی گولی اس درد کا علاج نہیں کر سکتی جو روح کو لگا ہو۔ کوئی بھی کیمیکل اس خالی پن کو نہیں بھر سکتا جو کسی کے چھوڑ جانے یا اعتبار ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ادھورے پن کا دکھ اور اندر کا سناٹا دواؤں سے نہیں مٹتا۔ کچھ تکلیفیں، کچھ صدمے ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو ایک ہی بار میں نہیں مارتے، بلکہ وہ دیمک کی طرح انسان کو اندر ہی اندر آہستہ آہستہ چاٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ باہر صرف ایک چلتا پھرتا جسم رہ جاتا ہے اور اندر کا انسان ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ 💔🥺😟🖤 #urduliness #creatorsearchinsights #sadurdupoetry #foryoupage #Sukoon_E_Bismil