@nooreqalam313: عن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «هذا الذي تحرَّكَ له العرشُ، وفُتِحَتْ له أبوابُ السماءِ، وشَهِدَه سبعون ألفًا من الملائكة، لقد ضُمَّ ضَمَّةً، ثم فُرِّجَ عنه». [صحيح] - [رواه النسائي] عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہیں جن کے لیےعرشِ الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) انہیں ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) ان سے جاتا رہا‘‘۔ صحیح - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ شرح اس حدیث میں نبی ﷺ نے جلیل القدر صحابی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کی ہے، ان کے لیے ان کی آمد کی وجہ سے عرشِ رحمان خوشی سے جھوم اٹھا، ان کے لیے آسمان کے دروازے رحمت اور فرشتوں کے نزول، ان کے قدوم کی تزئین اور ان کے روح کے نکلنے کے لیے کھول دیا گیا، اس لیے کہ مومنوں کے روحوں کا ٹھکانہ جنت ہے اور وہ ساتویں آسمان کے اوپر ہے، اسی طرح اس صحابیٔ رسول کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے ان کی تعظیم کے لیے حاضر ہوئے۔ پھر نبی ﷺ نے سعد بن معاذ کی فضیلت اور اللہ کے نزدیک ان کے بلند مقام و مرتبے کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ قبر نے ان کو ایک بار بھینچا اور پھر اللہ کی طرف سے یہ سختی کشادگی میں بدل گئی، قبر کی اس پکڑ سے کوئی نجات نہیں پاسکتا اور اگر کوئی اس سے نجات پاسکتا تو سعد رضی اللہ عنہ اس سے نجات پاتے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم سب کو گناہوں سے بچائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے اللّٰہ اہل فلسطین پر اپنی غیبی مدد نازل فرما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔#500k #storytimeconslime #fypシ゚ #storytimeconslime #foryoupage❤❤
میں نے خدا کی سمت بھیجا ہے خالی خط کچھ بھی نہیں بتایا کہ سب جانتا ہے وہ۔
یہ یقین دعا بھی عجیب نعمت ہے لفظ خاموش رہیں تب بھی دل کی ہر صدا سنتا ہے وہ۔
کبھی آنکھوں کی نمی سے پڑھ لیتا ہے کیفیت کبھی خاموشی کے پیچھے چھپا درد سمجھتا ہے وہ۔
ہم تو بس ٹوٹے ہوئے حرفوں میں مانگتے رہ گئے اور بنا مانگے بھی کتنا کچھ عطا کرتا ہے وہ۔
2026-07-08 07:51:40
1
Al zurain(Mahmood Ali) :
سبحان اللہ بیشک
2026-07-07 18:59:32
3
Mehboob khan :
Ameen
2026-07-08 07:16:14
0
Muhammad fahim Sheikh :
ALLAH Hoooooooo ALLAH ❤️
2026-07-07 18:50:55
2
Amjad Ali Khan :
لیکن یاد رہے کہ مؤمن کو قبر میں بھینچا جانے سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ راحت اور سکون مل جاتا ہے۔
یہ ہر مؤمن کے ساتھ پیش آتا ہے ۔
ہر انسان کو قبر سے ڈر لگتا ہے مجھے بھی لگتا ہے ۔ لیکن خوش بخت کی قبر سے ڈر نہیں لگتا میں نے مشاہدہ کیا اور تجربہ کیا میں قبر پر جاتا ہوں تو پاؤں لرزنے لگتے ہیں مگر میرے دوست کا والد فوت ہوا اس کا ماتھا کسی چاند کی طرح چمک رہا تھا واللہ چہرے پر ایسا اطمینان کہ جیسے سویا ہوا ہو مرا ہوا نہ ہو۔ شام کی نماز قبرستان میں ہی پڑھی اس کے بعد قبر میں بذاتِ خود اتر کر اسکا رخ قبلہ کی طرف کیا کروٹ لگا کر ۔ ایسا ہلکا پھلکا محسوس ہوا جیسے وہ خود قبلہ روخ لیٹ گیا ہو