@i.do.know39: تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او کا قبلہ درست کیا جائے۔ ڈاکٹر عامر خان فیملی کے ساتھ سوات سے پشاور ا رہا تھا کہ تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او نے گاڑی قبضے میں لی جس میں نقدی اور زیورات تھے۔ ڈاکٹر عامر خان بینک سے قسطوں پر حاصل کی گئی موٹر کار ایس ایچ او نے قبضے میں لیکر مجھے حوالات میں ڈال دیا۔ انصاف فراہم کیا جائے۔ ڈاکٹر سلمان پشاور ۔ پشاور کے مضافاتی علاقے کگہ ولہ سے تعلق رکھنے والے منشیات ہسپتال کے ڈاکٹر عامر خان نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ وہ گزشتہ ماہ اپنی فیملی کے ساتھ سوات سے پشاور ا رہے تھے کہ 21 جون کو پشاور ٹول پلازہ پر رات 11 بجے تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او فواد علی خان اور ان کے عملے نے بینک ریپو کی مدد سے ان کی گاڑی روکی اور انہیں زبردستی تھانہ چمکنی لے گئے جہاں پر ان سے بینک کی دو قسطوں کے شارٹ ہونے پر گاڑی قبضے میں لے لی گئی اور الٹا انہیں حوالات میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل بینک سے قسطوں پر حاصل کی گئی گاڑی جو تھانہ چمکنی پولیس کی تحویل میں ہے دوسرے دن جب وہ بینک گئے قسط بھرنے اور گاڑی کی لوکیشن چیک کی تو تھانے کے ایس ایچ او نے اپنے عملے کے ساتھ گاڑی ایم ایم سی ہسپتال کے ساتھ ایک ورکشاپ پہنچائی تھی اور گاڑی کا تمام سامان جس گیر باکس سٹیرنگ ویل بیٹری بانڈ بمپر جالی سوئچ بورڈ ٹائرز ہیڈ لائٹس نمبر پلیٹ اور کمپنی کا مارکہ وغیرہ کھولے ہوئے تھے اور گاڑی سے فرنٹ کا شیشہ بھی کریک کر کے توڑا گیا تھا انہوں نے کہا کہ میں اور میرے بھائی مسمی سکندر خان پھر موقع پر پہنچے اور ہم نے موقع پر دیکھا کہ ایس ایچ او صاحب عملے کے ساتھ موجود تھے جس پر ہم نے ان سے پوچھا کہ گاڑی مذکور یہاں تھانہ چمکنی سے کیوں لائی گئی تو انہوں نے آتشیں اسلحہ سے ہمیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ساتھ فائر بھی کیا جس کی تمام ویڈیو ریکارڈنگ ہمارے پاس موجود ہے اور ہماری خوب گالیوں سے تواضع بھی کی گئی۔ ڈاکٹر عامر خان نے کہا کہ ان تمام واقعات کے ہمارے پاس ثبوت اور گواہ موجود ہیں انہوں نے کہا کہ دو قسطوں کے معاملے پر تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او فواد خان نے ہماری خوب بےعزتی کی اور ہمیں مالی نقصان پہنچایا لہذا ہماری سی سی پی پشاور اور اعلی حکام سے درخواست ہے کہ تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او فواد خان، نفری اور فیصل بینک صدر کینٹ برانچ پشاور کے منیجر اور نمائندے کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور ہمیں اپنی گاڑی اصلی حالت میں مبلغ دو لاکھ روپے اور سات تولہ سونا کے حوالے کی جائے تاکہ ائندہ کسی معزز شخص کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔