@shaneslvr: help i’m still at the restaurant #carol #cateblanchett #carolmovie #futiledevices #sufjanstevens

Maro
Maro
Open In TikTok:
Region: GE
Wednesday 08 July 2026 12:59:55 GMT
25334
7697
48
467

Music

Download

Comments

genesisheath13
★ :
some stories quietly accompany you the whole time and change you as a person
2026-07-19 16:32:37
4
_atlegangm
atliʕ⁎̯͡⁎ʔ༄ :
wait stop
2026-07-20 13:16:50
1
penguin33320
tozz33 :
I cry every time I see something related to this.😔
2026-07-19 19:32:44
4
ariishaa111
ariadni :
carol with the cmbyn soundtrack.
2026-07-09 14:07:37
258
youralmondmother
maryam :
i literally started cramping when i heard the “dearest”
2026-07-18 23:24:02
87
emostod
Em Stod 🎞️ 🍿 :
I cannot articulate just how much this film means to me
2026-07-13 21:31:04
57
eziodxyhdjl
~♤~ :
"dearest.."
2026-07-13 05:33:51
10
nlrhee
nalu ✴︎ :
please stop, i'm sensitive
2026-07-17 14:12:56
4
alexgough32
Alex :
Art.
2026-07-20 20:58:52
1
_decotethalyta
decote⋆.𐙚 ̊ :
nunca irei superar esse filme 😭
2026-07-17 15:46:52
3
nini__790
just👾 :
movie title?
2026-07-09 23:21:37
1
To see more videos from user @shaneslvr, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نعت گوئی سے متعلق ایک روح پرور واقعہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی نعت ؎ تنم فرسودہ جاں پارہ.....ز ہجراں یارسول ؐ اللہ۔ لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے، تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضۂ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر یہ نعت پڑھیں گے۔ چناں چہ حجِ بیت اللہ کے لیے گئے اور حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا، تو امیرِ مکّہ کو خواب میں نبی اکرمﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اسے یعنی جامی کو، مدینہ طیبہ کی جانب نہ آنے دیں۔‘‘ امیر مکّہ نے یہ خواب دیکھا، تو ممانعت کا حکم صادر کردیا۔ مولانا جامی، عاشقِ رسولؐ تھے۔ اُن کے دل پر عشقِ نبیؐ اس قدر غالب تھا کہ چُھپ کر مدینے کی جانب چل پڑے۔ بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ وہ قافلے کے ایک صندوق میں بند ہوگئے، لیکن امیرِ مکّہ کو پتا چل گیا، تو اس نے جانے نہ دیا۔ بعض یہ بھی لکھتے ہیں کہ بھیڑوں کے ریوڑ میں اُن کی کھال اوڑھ کر چلتے چلتے مدینہ طیبہ داخل ہوگئے، لیکن پھر بھی نہ پہنچ پائے، کیوں کہ امیر مکّہ کو ایک بار پھر نبی اکرمﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی اور فرمایا ’’جامی کو میرے روضے پر نہ آنے دینا۔‘‘ جب اُس نے یہ حکم سُنا، تو اپنے آدمی دوڑادیئے کہ مولانا جامی کو مدینہ منورہ کے راستے سے پکڑ کر لے آئیں، جس کے بعد امیرِ مکّہ نے مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ پر سختی کی اور جیل میں بند کردیا۔  چناں چہ تیسری مرتبہ پھر امیرِ مکّہ کو حضور اکرمﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’’جامی کوئی مجرم نہیں، بلکہ اُسے ہم اس لیے اپنے روضے پر آنے سے روکتے ہیں کہ اُس نے کچھ اشعار لکھے ہیں، جنھیں میرے روضے پر کھڑے ہو کر پڑھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ مدینہ پہنچ گیا اور میرے روضے پر حاضر ہوکر اس نے یہ اشعار پڑھے، تو مجھے باہر آکر اُس سے مصافحہ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا اُسے کہو، لوٹ جائے، مَیں خود اُس سے ملوں گا۔‘‘چناں چہ امیرِ مکّہ نے مولانا جامیؒ کو قید خانے سے نکالا اور بڑی عزّت و تکریم سے پیش آیا۔ یوں جامیؒ دربارِ رسالت پر حاضری دیئے بغیر روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔ جامی کی وہ نعت اس طرح ہے ؎ تنم فرسودہ، جاں پارہ.....ز ہجراں یارسول ؐ اللہ(میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے، آپؐ کی جدائی میں اے اللہ کے پیارے نبی ﷺ)دِلم پژمردہ آوارہ.....زعصیاں یارسول اللہؐ(میرادل بھٹک رہا ہے اور دل کا پھول مُرجھا چکا ہے، گناہوں کے بوجھ سے، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ) چوں سوئے مَن گزر آری.....من مسکیں زناداری(کبھی خواب میں اپنا جلوہ دکھا دیں، اس عاجز، مسکین اور غریب نادار سائل کو) فدائے نقش نعلینت.....غمِ جاں یارسول اللہؐ(تو میں پھر آپ کے نقشِ پا پر فدا ہوجائوں گا، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ) ذکردہ خویش حیرانم.....سیاہ شد روز عصیانم (میں نے جو کچھ کیا، بہت حیران ہوں، روزِ حساب میرا اعمال نامہ سیاہ ہوگا) پشیمانم پشیمانم.....پشیماں یارسول اللہؐ(مَیں انتہائی پشیمان اور سخت شرمندہ ہوں، پشیمان ہی پشیمان ہوں، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ)ز جام محبت تو مستم.....بہ زنجیر تو دل بستم(آپؐ کی محبت میں ، مَیں مست ہوں، آپؐ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے)نمی گویم کہ مَن ہستم.....سخن داں یارسول اللہؐ(مَیں عاجز اور مسکیں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کہ مَیں ایک بڑا شاعر ہوں، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ)چوں بازوئے شفاعت را.....کشائی بر گناہ گاراں (جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو دراز کر کے گنہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے)مکن محروم جامی را.....در آں یارسول اللہؐ(اُس روز اس جامی کو محروم نہ رکھیے گا، اس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ)۔ #صلي_علي_النبي_محمد_صلي_الله_عليه_وسلم #ti ̇ktok #islamic #viralvideo  #unfrezzmyaccount
نعت گوئی سے متعلق ایک روح پرور واقعہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی نعت ؎ تنم فرسودہ جاں پارہ.....ز ہجراں یارسول ؐ اللہ۔ لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے، تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضۂ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر یہ نعت پڑھیں گے۔ چناں چہ حجِ بیت اللہ کے لیے گئے اور حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا، تو امیرِ مکّہ کو خواب میں نبی اکرمﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اسے یعنی جامی کو، مدینہ طیبہ کی جانب نہ آنے دیں۔‘‘ امیر مکّہ نے یہ خواب دیکھا، تو ممانعت کا حکم صادر کردیا۔ مولانا جامی، عاشقِ رسولؐ تھے۔ اُن کے دل پر عشقِ نبیؐ اس قدر غالب تھا کہ چُھپ کر مدینے کی جانب چل پڑے۔ بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ وہ قافلے کے ایک صندوق میں بند ہوگئے، لیکن امیرِ مکّہ کو پتا چل گیا، تو اس نے جانے نہ دیا۔ بعض یہ بھی لکھتے ہیں کہ بھیڑوں کے ریوڑ میں اُن کی کھال اوڑھ کر چلتے چلتے مدینہ طیبہ داخل ہوگئے، لیکن پھر بھی نہ پہنچ پائے، کیوں کہ امیر مکّہ کو ایک بار پھر نبی اکرمﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی اور فرمایا ’’جامی کو میرے روضے پر نہ آنے دینا۔‘‘ جب اُس نے یہ حکم سُنا، تو اپنے آدمی دوڑادیئے کہ مولانا جامی کو مدینہ منورہ کے راستے سے پکڑ کر لے آئیں، جس کے بعد امیرِ مکّہ نے مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ پر سختی کی اور جیل میں بند کردیا۔  چناں چہ تیسری مرتبہ پھر امیرِ مکّہ کو حضور اکرمﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’’جامی کوئی مجرم نہیں، بلکہ اُسے ہم اس لیے اپنے روضے پر آنے سے روکتے ہیں کہ اُس نے کچھ اشعار لکھے ہیں، جنھیں میرے روضے پر کھڑے ہو کر پڑھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ مدینہ پہنچ گیا اور میرے روضے پر حاضر ہوکر اس نے یہ اشعار پڑھے، تو مجھے باہر آکر اُس سے مصافحہ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا اُسے کہو، لوٹ جائے، مَیں خود اُس سے ملوں گا۔‘‘چناں چہ امیرِ مکّہ نے مولانا جامیؒ کو قید خانے سے نکالا اور بڑی عزّت و تکریم سے پیش آیا۔ یوں جامیؒ دربارِ رسالت پر حاضری دیئے بغیر روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔ جامی کی وہ نعت اس طرح ہے ؎ تنم فرسودہ، جاں پارہ.....ز ہجراں یارسول ؐ اللہ(میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے، آپؐ کی جدائی میں اے اللہ کے پیارے نبی ﷺ)دِلم پژمردہ آوارہ.....زعصیاں یارسول اللہؐ(میرادل بھٹک رہا ہے اور دل کا پھول مُرجھا چکا ہے، گناہوں کے بوجھ سے، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ) چوں سوئے مَن گزر آری.....من مسکیں زناداری(کبھی خواب میں اپنا جلوہ دکھا دیں، اس عاجز، مسکین اور غریب نادار سائل کو) فدائے نقش نعلینت.....غمِ جاں یارسول اللہؐ(تو میں پھر آپ کے نقشِ پا پر فدا ہوجائوں گا، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ) ذکردہ خویش حیرانم.....سیاہ شد روز عصیانم (میں نے جو کچھ کیا، بہت حیران ہوں، روزِ حساب میرا اعمال نامہ سیاہ ہوگا) پشیمانم پشیمانم.....پشیماں یارسول اللہؐ(مَیں انتہائی پشیمان اور سخت شرمندہ ہوں، پشیمان ہی پشیمان ہوں، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ)ز جام محبت تو مستم.....بہ زنجیر تو دل بستم(آپؐ کی محبت میں ، مَیں مست ہوں، آپؐ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے)نمی گویم کہ مَن ہستم.....سخن داں یارسول اللہؐ(مَیں عاجز اور مسکیں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کہ مَیں ایک بڑا شاعر ہوں، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ)چوں بازوئے شفاعت را.....کشائی بر گناہ گاراں (جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو دراز کر کے گنہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے)مکن محروم جامی را.....در آں یارسول اللہؐ(اُس روز اس جامی کو محروم نہ رکھیے گا، اس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں، اے اللہ کے پیارے نبیﷺ)۔ #صلي_علي_النبي_محمد_صلي_الله_عليه_وسلم #ti ̇ktok #islamic #viralvideo #unfrezzmyaccount

About